اباجی کی برسی اور میرا آبائی گھر!
10 مارچ 2018 2018-03-10

یہ اوائل مارچ 1963ء کی ایک خوشگوار دوپہر تھی۔ شہر سرگودھا تھا، اور علاقہ سیٹلائٹ ٹائون۔ جس کی ایک نئی نویلی کوٹھی کے سامنے، سبز رنگ کی ولی (Villy)جیپ رکی کھڑی تھی۔ جیپ کی فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ ابا جی بیٹھے تھے، اور کھڑکی کی جانب سیاہ برقعے کا نقاب چہرے پر گراکے امی جی!کوٹھی کا گیروے رنگ کا چوبی گیٹ بند تھا، رحمت ڈرائیور ہارن پر ہارن دے رہا تھا، مگر لگتاتھا کوئی سن نہیں رہا، چند چھوٹی عمر کے متجسس چہروں والے بچے جو جیپ کے پچھلے حصے میں چار عدد ملازموں کے ساتھ ٹھنسے تھے، بے تابی سے گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خاصے وقت کے بعد جب سرخ مونچھوں والے لمبے تڑنگے چوکیدارنے گیٹ کھولا اور جیپ سرخ بوگن ویلیا سے لدے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو بچوں پر جیسے طلسم ہوشربا کا باب کھل گیا۔ گھر کیا تھا، رنگ برنگ موسمی پھولوں، اورپھلدار درختوں میں گھرا، جادوئی سا محل تھا، جس کے گول کمروں کی طویل کھڑکیاں جو چھت تک جا رہی تھیں، ان کے سبز شیشوں سے روشنی چھن چھن کر باہر آتی تھی، اور ان کے سامنے بنے چھوٹے چھوٹے شیڈز پرچڑھتے اترتے بچے ان سبز کھڑکیوں، پھلوں، پھولوں اور کیاریوں کو ایکسائٹمنٹ سے دیکھتے تھے، اورلان کے سبز گھاس پر ننھے خرگوشوں کی طرح لوٹتے پوٹتے تھے، دن کے راجے کے سرخ پھول نوچتے، کیاریوں کو روندتے جب وہ کوٹھی کے اندرونی حصے میں گئے، تو وہاں مہندی کی باڑوں سے الجھ الجھ گئے، جن کے پتے توڑ کر ملازمائیں ہتھیلیوں پر مسل کر، مہندی کا رنگ چیک کر رہی تھیں۔ اس حصے میں ایک بڑا سا جامن، آم کا بور سے لدا درخت، پپیتے، انار ، امرود اور شہتوت کے درختوں اور دو رویہ روشوں پر لگے گلابوں نے عجب بہار کا منظر بنا رکھا تھا۔ جس سے باقی گھر والے تو شدید متاثر دکھائی دیتے تھے، مگر ابا جی کے چہرے پر نہایت لاتعلقی اور غیر دلچسپی دکھائی دیتی تھی۔ اس کی ایک وجہ تسمیہ تھی، وہ یہ کہ اس زمانے کے پرانے لوگوں کی طرح، وہ پرانے شہر کے کسی بلاک میں مکان خریدنا چاہتے تھے، سیٹلائٹ ٹائون کی وسیع و عریض کوٹھی انہیں مکان کے مقابلے میں غیرمحفوظ دکھائی دے رہی تھی۔ مگر جب سرخ مونچھوں والے چوکیدار نے عقبی حصے کی بلند دیوار کے چوبی دروازے کو کھولا، تو وہاں بہتے شفاف پانی کے نالے، اس پر بنی چھوٹی سی پلیا، اور اس کے اردگرد کی خاموشی، اور اس خاموشی میں سرسراتے کیکر کے پتے، شیشم کی ٹہنیاں، آک کے پودے، اور جنگلی جھاڑیوں کودیکھ کر، ابا جی کی دیہاتی روح کو جیسے اطمینان مل گیا، انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے شہر کے مکان کا ارادہ ترک کیا ، اور اس گھر کو خرید لیا، جس کے گیروے رنگ کے چوبی گیٹ کو نارنجی اور سرخ بوگن ویلیانے ڈھانپ رکھا تھا، اور جس پر 287 اے سیٹلائٹ ٹائون کی تختی لگی تھی۔ یہ میرا آبائی گھر ، جس سے میں ابا جی کی انگلی پکڑے کانونٹ سکول کی سیڑھیاں چڑھ کر سسٹرمارتھا کے آفس میں گئی تھی اور جس کے چوبی گیٹ سے، مجھے میرے باپ نے ڈولی میں بٹھا کر رخصت کیا تھا، وہاں سے پورے چھیالیس (46)برس بعد،جب میرے ابا جی، میت گاڑی میں رخصت ہوئے، تو میں نے دیکھا، ان کی سیاہ گرگابی، جس کی مخصوص آواز، گھر
کی طویل گلی میں ایک سائرن کی طرح گونجا کرتی تھی اور گھر والوں کو محتاط کر دیا کرتی تھی، وہ ان کے کمرے میں یوں پڑی تھی، جیسے اب اس سائرن کی ضرورت ختم ہو گئی ہو، اوران کا پیتل کا نقاشی والا حقہ، ان کے کمرے کی مشرقی دیوار میں کونے سے لگا ہوا کمرے کی ویرانی میں اضافہ کرتا تھا، اور وہ ، جو 287۔ اے سے کبھی نکلے ہی نہ تھے، ان کی میت گاڑی، پیچھے مڑ کر دیکھے بنا، تیزی سے گلی کا موڑ کاٹ رہی تھی۔ اور یہ 9 مارچ 2009ء کی ایک سیاہ رات تھی، جو آئی اور میرے دل پر ہمیشہ کے لئے ٹھہر گئی!
آج اپنے ابا جی کی گزر جانے والی برسی پر، ان کا اور ان کے پیارے گھرکا ذکر کرتے ہوئے ، پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں، تو مجھے وہ وجیہہ و شکیل شخص، جو میرا باپ تھا، اور جس کی شخصیت، بیک وقت روایتی بھی تھی اور غیر روایتی بھی۔ اپنی شخصیت کی سادگی، بے نیازی، انسان دوستی اور حِلم کی بناپر، اتنا مختلف، اتنا منفرد لگنے لگتا ہے، کہ میں حیرت سے سوچتی ہوں، اس دنیا میں اتنا صاف ستھرا انسان، خود کوآلودہ کئے بغیر کیسے اتنی آن، بان اورشان سے جی گیا؟کہ جب اس کی میت، آبائی گائوں کی گلی میں اتری، تو اک جہان جمع تھا، اس ’’دولہا‘‘ کے استقبال کو، جو میت گاڑی کی سواری سے اترا تھا، لوگ یوں روتے تھے، جیسے میرانہیں ان کا باپ چلا گیا ہو، اور میں نہیں، وہ یتیم ہو گئے ہوں۔ عجب تھا، وہ نیلی آنکھوں اور روشن پیشانی والا، میانہ رو شخص، جس کی دوستی، خاصوں سے تھی تو عاموں سے بھی تھی۔ چوک کے نائی، اخبار فروش، چائے والے، ان کے دوست نہیں ہم راز تھے۔ اسی طرح گائوں کے ماچھی، کمہار اورنائی، ہمارے چاچے تائے تھے۔ دوسری جانب صدر ایوب کی بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں، برسوں علاقے کے چیئرمین رہے۔ شکاری ایسے، کہ مڈل ایسٹ کی ریاستوں کے وزیر سیزن کے دنوں میں 287 اے میں ڈیرا ڈالے رکھتے۔ تلور کا شکار کھیلنے، سردیوں میں تھر کے ریگستانوں میں ہفتوں مقیم رہتے۔ شکاری اور بازدار باقاعدہ تنخواہ دار تھے ان کے، تھل کے ریگزار میں، رینج روور پر سامانِ خورونوش لادے، بے فکری سے شکار کھیلتے، اور جب لوٹتے تو، شکاریوں کے تھیلے، تیتروں، بٹیروں اور تلوروں سے بھرے ہوتے، ابوظہبی کے شیخ زید بن سلطان النہیان نے جب انہیں رحیم یار خان کے پیلس میں آنے کی دعوت دی، تو میرے بڑے بھائی کے علاوہ، باز دار بھی ان کے ہمراہ تھے۔ پیلس کی شاہی میزبانی، اور بعدازاں شیخ کی شکار گاہ میں ان کا قیام، شاہی خیمے میں پرتکلف دعوت اور شیخ النہیان کی خصوصی توجہ، وہ واقعات تھے، جن کا ذکر، وہ بعد میں اکثر کیا کرتے تھے، سونے کے دستے والا شاہی خنجر اور شاہی مہر، جیسے تحائف لوگوں کو دکھاتے ہوئے، وہ اپنے نایاب فیلکن کا ذکر کیا کرتے تھے، جس کی قیمت، وسطی ریاستوں کے شیوخ نے لاکھوں میں لگائی تھی، مگر ابا جی نے سودے بازی سے انکار کرتے ہوئے، وہ پرندہ شیخ زائد کو تحفے میں دے دیا، اور بدلے میں تجارت کے بجائے، شیخ سے دوستی خرید لی، یہ اور بات اس دوستی کو انہوں نے کبھی بھی کسی ذاتی مقصد یا فائدے کے لئے استعمال نہ کیا۔ البتہ خوشگوار یادوں کی کتاب کا یہ ایک سنہرا باب تھا، جسے دہرا کر ابا جی، جوش اور مسرت سے لبریز ہو جاتے تھے!وہ ایسے ہی تھے، زندگی سے کچھ زیادہ کی طلب تھی نہ خواہش۔ سادہ غذا، سادہ لباس، سادہ بودوباش، مصنوعیت سے انہیں وحشت ہوتی تھی۔ دنیاداری اور بناوٹ سے چڑتے تھے، عوامی سطح پر زندہ رہنا اتنا پسند تھا، کہ گھر میں گاڑیاں موجود ہونے کے باوجود، سواری تانگے پر بیٹھ کر، شہر چلے جاتے اور پرانے شہر میں گھوم گھام کر واپس آجاتے!
گھڑ سواری کا اتنا شوق تھا، کہ نیزہ بازی کے لئے گھوڑے پال رکھے تھے۔ اک عرصہ یہ شوق پالنے کے بعد، جب شہر میں سکونت اختیار کی ، تو زیادہ وقت شکار میں گزرا۔ گھر کے مردانہ حصے میں، شکار کے دنوں میں بازداروں کے ٹولے کا قبضہ ہوتاتھا۔ مہمانداری ایسی کہ دس آئے، اور دس گئے۔ ہمارا گھر ، محلے میں اس لحاظ سے مشہور تھا، کہ وہاں ہمہ وقت دس بیس مہمان موجود رہتے تھے۔ مہمان بھی وہ، جن میں سے کئی ہفتوں مقیم رہتے۔ اورگھر والوں کے ماتھے پر شکن تک نہ ابھرتی۔ ابا جی بظاہر گھریلو معاملات سے بے نیاز رہتے، کہ یہ ساری سردردی میری ماں کی تھی، مگر حقیقتاً نہایت فراخدلی سے اس میزبانی میں شامل ہوتے۔یہی وجہ، ہمارے گھر ، سائلوں، محتاجوں اور گائوں سے آنے والے ضرورت مندوں کی بھیڑلگی رہتی۔ آج سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ کس خوبصورتی سے نبھا گئے ان معاملات کو، وہ وضع دار لوگ، جو میرے والدین تھے، کہ جن کی ذاتی زندگیاں، اجتماعی زندگیوں کا منظرنامہ تھیں۔ جنہیں جیتے ہوئے، انہوں نے کبھی تھکن کا گِلہ کیا، نہ ذاتی زندگی میں بیرونی خلل اندازی کا۔ کہ اِک خاص طرح کی وسیع القلبی ان کا خاصہ تھی۔ ابا جی کو تاریخ پڑھنے کا شوق تھا، ہیرلڈولیم کی کتابیں، شیکسپیئر کے ڈرامے، مولانا عبدالحلیم شرر کی ’’ جویائے حق‘‘، اور موپساں کی چند مخصوص تحریریں، ان کی ذاتی لائبریری کا حصہ تھیں۔ داستان گوئی کا ہنر ایسا کہ، ہزار بار کی سنائی ہوئی بات اس اثراندازی سے بیان کرتے کہ اس پرنئے قصے کا گمان ہوتا، لہجے کی خوشگواریت، اور طرزِ بیان سے سننے والوں پر سحر طاری کردیتے۔
آج ان کا اور ان کے پیارے گھر کا ذکر کرتے ہوئے، سمجھ نہیں آتا، اس داستان کا اختتام کیسے کروں؟کیا آبائی گھروں، اور ماں باپ کی یادوں کا کہیں اختتام ممکن ہے؟وہ لوگ جن کے شفیق لہجوں، اور پرمحبت وجودوں سے چھن چھن کر آتی مدھم سبز روشنی زندگی کے دبیز اندھیروں میں سبز چراغوں کی مانند اجالا کرتی تھی، اور اندھیروں میں ٹھوکر کھا کر گرنے سے بچاتی تھی، انہیں بھلانے کی ،یادوں سے محو کرنے کی اگر کسی کے پاس کوئی ترکیب ہو تو بتائیے؟کہ آبائی گھر ، اور ان آبائی گھروں میں اپنے شفیق والدین کی انگلی پکڑے، بوگن ویلیا کی نارنجی، سرخ بیلوں سے لدے گیروے چوبی گیٹ سے اندر داخل ہوکر، طلسم ہوشربا میں گم ہو جانے والے یہ بچے، جب ان گیروے گیٹوں سے اپنے باپوں کا نام مٹا ہوا دیکھتے ہیں، اوران کے نقشِ کفِ پا کو روند کر، گزرنے والے اجنبی کے قدموں کے نشان دیکھتے ہیں، تو ان کے دلوں کے عین قریب سے ایک چھوٹی سی قیامت گزر جاتی ہے۔ جی ہاں، جب 287 اے کے گیٹ پر، کسی غیر کے نام کی تختی لگی، تو یہ چھوٹی سی قیامت میرے دل نے، قریب سے گزرتے دیکھی۔ اور مجھے میرا آبائی گھر اور میرے نیلی آنکھوں، روشن پیشانی اور سجل وجود والے ابا جی یاد آئے۔ بہت یاد آئے۔ اور میں نے سوچا، کیا میں انہیں بھول نہیں سکتی؟
مگر کیسے؟ابا جی مجھے یہ ہنر نہیں آتا، میں کیا کروں؟؟


ای پیپر