نانی یاد آگئی…
10 مارچ 2018

دوستو،بچپن میں جب اردو کے مضمون میں ٹیچر کہتا تھا کہ دس محاورے یاد کرکے آنا، تو بلاسوچے سمجھے، رٹا لگاکے محاورے یاد کرکے جب کلاس میں جاتے تھے تو پھر بھی غلطی ہوہی جاتی تھی جس کے بعد مار بھی ایسی پڑتی تھی کہ نانی یادآجاتی تھی…چلیں پھر محاورں پرکچھ بات ہوجائے…
سابق بیوروکریٹ انورمحمود کو بھی شاید ہماری ہی طرح محاوروں سے تپ چڑھتی تھی،لکھتے ہیں… بچپن میں دس محاورے یاد کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے، خوب ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے، دن رات ایک کردیتے تھے، مگر شاید محاورات اور ہمارے دماغ کے درمیان چھتیس کا آنکڑا تھا، اول تو کوئی محاورہ دماغ کی گرد بھی نہیں چھوپاتا، لیکن اگر قدم رنجہ فرماتا بھی تو،جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوتے نہیں وہ محاورہ دماغ سے ایسے غائب ہوجاتا ،جیسے گدھے کے سر سے سینگ… پتا ہی نہیں چلتا کہ اسے آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی…خیر، ہمت مرداں مدد خدا کے اصول کے تحت محاورات کو یادکرنے کے میدان میں کافی تگ و دو کرتے رہے، لیکن ڈھاک کے وہی تین پات، محاورات یاد ہوکے نہیں دے رہے تھے، پتا نہیں ،دماغ محاورات یاد کررہا تھا کہ بنارہا تھا، تھکاوٹ نے الگ ہی دانت کھٹے کردیئے، بس کیا بتائیں، نانی یادآگئی…اس تھکاوٹ نے تو ناکوں چنے چبوادیئے…دانتوں تلے پسینہ آگیا، دن میں تارے بھی دکھائی دینے لگے…ہم سمجھ گئے کہ یہ کوئی خالہ جی کا گھر نہیں،اور پھر بیماری نے ہمیں آگھیرا… یعنی ایک تو کڑوا کریلا دوسرا نیم چڑھا… ایک تو ہم پہلے ہی محاورات کے یاد نہ ہونے پر جل بھن کر کباب ہورہے تھے، اوپر سے بیماری نے اور لال پیلا کردیا…نجانے اس اونٹ کی کون سی کل سیدھی تھی اوراس اونٹ کو کس کروٹ بیٹھنا تھا…شاید ہم نے اس مہم کا آغاز کرکے آبیل مجھے مار پر عمل کیا تھا،لیکن جب اوکھلی میں دیا سرتو موسلوں کا کیا ڈر…دن رات کی جاں فشانی سے ایک محاورہ لے دے کے یاد کرہی لیا…عرصہ دراز تک اسے طوطی وار ازبر کرتا رہا…حتیٰ کہ اطمینان ہوگیا کہ اب یہ محاورہ نسیًا منسیًا نہیں ہوگا۔اب ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگا…اور ہم سرجھاڑ منہ پھاڑ …بغلیں بجاتے اپنے ٹیچر کے پاس پہنچے،اور یہ خوش خبری سنائی، تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں،لیکن ہم نے منہ کی کھائی،اور بڑے سنگین حالات سے دوچار ہوئے …کیوں کہ محاورہ سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئے… سونے پر سہاگا یہ کہ ایک زناٹے دار طمانچہ میرے رخسارِ غم گسار پر جڑدیا،اب تو ہماری حالت اور پتلی ہوگئی، پیروں تلے زمین نکل گئی…رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے، کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، اور پھرایک دم ہمارا پارہ چڑھ گیا،اور غصہ آسمان سے باتیں کرنے لگا،کہ ہم نے سردھڑ کی بازی لگاکر اور خون پسینا ایک کرکے جوکام کیا تھا،اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ اور مارکٹائی کا سامنا کرنا پڑا،ایسی کی تیسی ایسے محاورات کی،اگر بس چلتا تو ان محاورات کو نیست ونابود ہی کردیتا، ان کے گلستان کو تہ وبالا کردیتا،ان کے چمن کو زیرو زبر کردیتا، اور پھر ہم کافی دیر تک پیچ و تاب کھاتے رہے، بڑی بڑی ہانکتے رہے، یہاں تک کہ ٹیچر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا… پھر انہوں نے خوب سنائی کہ تم بڑے طوطا چشم ہو،ماننے کی صلاحیت تم میں صفر بٹا صفر ہے، اور نہ ماننا تمہارے اندر سولہ آنے فٹ ہے،دس میں سے صرف ایک محاورہ یاد کیا،وہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ اور آٹے میں نمک کے برابر، پھر اس پر قیامت یہ کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ، ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری،حد ہوگئی کہ صرف تین لفظی محاورہ یادکیا، وہ بھی نقطے سے خالی…
گریٹ منوبھائی نے ایک بار پورا کالم ہی محاوروں پر لکھا،جس میں انہوں نے فرمایا… ایک بیان ہے کہ ’’شیر‘‘ کے انتخابی نشان والے گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرتے۔ ایک بیان ہے کہ یہ منہ اور مسور کی دال، ایک اور بیان ہے کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ کس سے پالا پڑا ہے۔ پورے یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا مگر شبہ ہوتا ہے کہ یہ بیانات جاری کرنے والے اور یہ محاورے استعمال کرنے والے شاید ان محاوروں کے معانی اور ان کے صحیح استعمال کا شعور بھی نہیں رکھتے ہوں۔ بہت سے ’’شیر‘‘ کے انتخابی نشان والے مسلم لیگی یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ گیدڑ بھبھکی کیا ہوتی ہے۔ کسی منہ کا مسور کی دال سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ پالا پڑنے سے کیا مراد ہے اور یہ پالا پنجابی زبان کی سردیوں کے پالے سے کیا تعلق رکھتا ہے…
آپ کو ہماری الٹی سیدھی باتیں سمجھ تو آرہی ہیں ناں؟؟…الٹی سیدھی باتیں کرنا بھی ایک محاورہ ہے جس میں یہ پہلو چھپا ہے کہ وہ بات بیشک کرتے ہیں مگر سیدھی سچی نہیں الٹی سلٹی، جو بات اْن کی سمجھ میں آتی ہے وہ کرتے ہیں نہ اْن کی عقل و تجربہ سے اِن باتوں کا کوئی تعلق ہوتا ہے یہ گویا باتیں کرنے والوں کے رو یہ پر تبصرہ ہے…اسی طرح سے آنکھ اٹکنا، آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، آنکھ اٹھا کر دیکھنا، آنکھ اْٹھانا، آنکھ آنا، آنکھ اونچی نہ کرنا، آنکھ بچانا، آنکھ بدلنا، آنکھ بند ہونا، آنکھ بھرکر دیکھنا، آنکھ بھوں ٹیڑھی کرنا، آنکھ پڑنا، نظر ادھر گئی، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا، آنکھیں پھیر لینا، آنکھوں کی ٹھنڈک، آنکھوں کا سرمہ۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنا، آنکھیں ٹیڑھی کرنا، آنکھیں چْرانا، آنکھیں چھپانا، آنکھ سے آنکھ ملانا، آنکھیں لڑانا، ( یا آنکھ لڑنا) آنکھیں مٹکانا وغیرہ آنکھوں میں رات کاٹنا، آنکھیں پتھرانا، یہ سب بھی محاورے ہیں…اِن محاورات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے مختلف رویوں کو جو سماجی اخلاقیات سے گہرا واسطہ رکھتے ہیں ہماری سوچ سے کیا تعلق رہا ہے۔ اور اْس پر ہمارا تبصرہ کرنا کیا کیا انداز اختیار کرتا ہے، مثلاً آنکھیں پھیر لینا ،مطلب نکل جانے کے بعد بے مروتی اختیار کرنا۔ آنکھ بدلنا رو یہ میں تبدیلی کرنا۔ اسی طرح ہر محاورے کا اپنا الگ ہی مطلب ہوتا ہے… کہتے ہیں کہ عورتیں اپنے گرد و پیش کے الفاظ چنتی ہیں۔ ان کے ہاں کسی شئے کی جزئیات کو پیش کر نے کے لئے الفاظ کی کمی نہیں ہو تی اسی لئے مردوں کی بجائے عورتوں کی لکھی ہو ئی کتابیں زیادہ عام فہم صاف اور شستہ ہو تی ہیں۔ عورتیں لسانی اعتبار سے مردوں سے زیادہ تیز طرار ہوتی ہیں۔ وہ سیکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ سننے میں تیز ہیں اور جواب دینے پر زیادہ قدرت رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں عورتیں باتونی مشہور ہیں۔ مردوں کے برعکس انہیں الفاظ ٹٹولنے اور تولنے میں دیر نہیں لگتی۔ عورتیں نئی نئی اصطلاحیں محاورے وضع کر لیتی ہیں…
آج چلتے چلتے آخری بات کی جگہ ایک چھوٹا سا واقعہ سن لیں…کسی نوجوان کی ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو گزارش کی کہ کوئی نصیحت کیجئے…انہوں نے عجیب سا سوال کیا کہ ،کبھی برتن دھوئے ہیں؟۔ ۔ نوجوان نے ان کے سوال پہ حیرانگی دکھائی اور جواب دیا ، جی دھوئے ہیں،بزرگ نے پوچھا،تو کیا سیکھا؟نوجوان نے پوچھا ،اس میں کیا سیکھنا تھا؟…بزرگ مسکرائے اور کہنے لگے،برتن کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ دھونا پڑتا ہے۔اسی طرح ہمیں بھی اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے باطن کو سنوارنا چاہئے،اپنے دل کو بہترین بنانا چاہئے…


ای پیپر