آخر کب تک
10 مارچ 2018 2018-03-10

آج میں ایک بازار سے گزرا ۔ جو کر باغبانپورہ کا علاقہ ہے ۔تو میںوہاں خریداری کے لیے رُکا۔ابھی میں خریداری کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک دربار پر پڑی جس کا نام سرکار مادھولال حسین شاہ ؒہے۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو وہاں اپنے آپ سے ہی گفتگو کر رہا تھا ۔میں اُس کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ کیسا آدمی ہے میں نے اُس کوکچھ پیسے دیے تواُس نے پیسے اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیے۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ اس کے بجائے تم اگر روٹی کا پوچھ لیتے تو زیادہ اچھا تھا۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو میرے پاس مزید کچھ پیسے تھے میں نے اُس کو اپنے ہمراہ لیا اور روٹی کھلانے لے گیا۔روٹی جب ختم ہو گئی تو اُس نے کہا کہ مجھے واپس اُس جگہ پر چھوڑ دو ۔میں اُسے واپس اُس جگہ چھوڑ کر ذرا آگے گیا تو ایک لڑکا اُس کے پاس آیا اور وہ دونوں مل کر ہنسنے لگ گئے ۔میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے کہا دو دن سے گھر سے روٹی کھانے کو نہیں ملی اور نہ ہی پیسے تھے اس لیے تجھے بیوقوف بنایا اور تو بن بھی گیا۔یہی کچھ ہال ہمارے پاکستان کا ہے جس کو جہا ںکوئی مفاد نظر آئے وہ وہاں چل پڑتا ہے چاہے وہ راستہ صحیح ہے یا غلط۔لوگ پیسے کے لیے اپنے ایمان کا مزاق بنا بیٹھتے ہیں۔ایسی ہی کچھ مثالیں میں آپ کو دیتا ہوں۔آج کل کی بات ہے لوگ فارمیسیوں پر دوائیاں بیچ رہے ہیںجو لوگوں کے لیے نقصان ہیںاور زیادہ ترجعلی ہوتی ہیں۔ فارمیسی والے نہیں سوچتے کہ اس سے لوگوں کا کیا نقصان ہو گا وہ بس اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں۔یہ صرف فارمیسی پر نہیں ہو رہا بلکہ اور بھی بہت سی جگہ پر ہورہا ہے۔ روٹی کے لیے وہ لوگوں کی جا ن لینے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ جب تک ہم دلوں سے یہ لالچ کا زہر ختم نہیں کریں گے ہم دنیا میں کبھی کامیاب نہیںہوسکتے اور کوئی سیدھا راستہ بھی نہیں اختیارکر سکتا۔
مجھے ایسے موقعوں پر ہر بار ایک ویر سپاہی کا شعر یاد آتا ہے
چنگی لگے ماڑی لگے
ہر کوئی چاہندا اے دیہاڑی لگے
اج کل ہر کوئی چاہتا ہے کے کہیں نہ کہیں سے میری دیہاڑی لگ جائے۔ ہر کوئی ہماری گورنمنٹ کو تنقید کر رہا ہے۔ جس کو دیکھو اُس کی زبان پر ایک ہی رٹا چڑھا ہوا ہے کہ آخر ہماری گورنمنٹ کر کیا رہی ہے۔ کیا کبھی کسی شخص نے اپنے اُوپر نظر نہیں ڈالی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کہیں اُس کا جرم باقیوں سے بڑا تو نہیںدیہاڑی لگانے کے لیے آج کل ہم اپنوں کو ہی لوٹے جا رہے ہیں۔ جہاںانسان کو منافع نظر آتا ہے وہ وہاں چل پڑتا ہے۔ یہ نہیں سوچتا کہ یہ راستہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔ کہیں اس راستے پر چلنے سے لوگوں کی جانیں تو نہیں چلی جائیں گی۔ سب کچھ بھول کر صرف اُس راستے کا مسافر بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کے دل میں کچھ نہیں آتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ راستہ منافع کا ہے تو مجھے یہیں چلنا ہے۔ ہم صرف منافع کے لیے اپنا ضمیر کھوئے جا رہے ہیں۔آج کل کے زمانے میں صرف وہی ایماندارنظر آرہا ہے جس کا کوئی سکہ نہیں چل رہااور وہ زمانہ حال سے بہت پیچھے ہے۔ بس وہی آگے بڑھ رہے ہیں اور زمانہ حال کے ساتھ چل رہے ہیںجن کے سکے چل رہے ہیں۔ لوگ اپنے آپ کو ہی بھولے جا رہے ہیں۔ جیسے نظام شمسی باہر کی ہے ویسے ہی نظام ِشمسی اندر کی ہے جب ہم آپنے اندر کی اس نظامِ شمسی کو بہتر نہیں کر سکتے تو باہر کو کیا دیکھیں گے۔ اصل میں ہم ایک سبق کو ہی مکمل طور پر بھول چکے ہیںاور وہ سبق انسانیت کا ہے۔ ہمیں جس سبق پر سب سے زیادہ روشنی ڈالنی چاہیے وہ انسانیت کاہے۔ مگر یہ لفظ ہماری زندگی سے بہت دور ہے کیو نکہ انسانیت وہ ہے جو کسی کے مشکل وقت میں اُس کے کام آئے ۔اور وہ ہے جو کسی کے غم میںمکمل شریک ہو ں۔ لیکن اگر ہم ان سب چیزوں کو دیکھیںتو ہم لفظ انسانیت سے بہت دور ہیں۔جس طرح دنیا میں انسان بڑھتے جا رہے ہیں اُسی طرح انسانیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جو اپنے اصل مقصد سے دور ہو جائے وہ دنیا کے کسی بھی شعبہ میں کامیاب نہیں ہو سکتااور وہ ایک دوسرے کو لوٹنے پر نکل گئے ہیں۔
آقا کریم شہنشا ہؐ کاقول ہے :
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ آپؐ نے بھی چالیس سال معاشرے میں رہ کر لوگوں کو اُن کی زندگی کا اصل مقصد بتایا۔ پھر اُنہوں نے اعلان نبوت کیاکیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل مقصد کیا ہے اور ہمیں یہاں کیوں بھیجا گیا ہے ۔
جب انسان انسانیت کو سمجھ لیتا ہے تو وہ اـللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگوں میں سے ہو جا تا ہے۔ جب معاشرے سے انسانیت ختم ہو جائے تو ریاست پھر ریاست نہیں رہتی وہا ں شدت پسندی ا ٓجاتی ہے۔ پھر ہر کوئی کہتا ہے کہ میرے مطابق چلو، ریاست پر اُس کے بہت گہرے اثرات پڑتے ہیں۔
جس دن انسان لفظ انسانیت کو پہچان جائے گا وہ آگے آنے والے لوگوں کے لیے مثال بنتا جائے گا۔


ای پیپر