پاکستان کے ساتھ یہ سلوک…؟
10 مارچ 2018 2018-03-10

کچھ عرصہ پہلے تک ہماری ابتدائی درسی کتب میں زور دے کر پڑھایا جاتاتھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور اس ملک کی 70 فیصد سے زائد آبادی دیہات میں رہتی ہے جہاں لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے۔… لیکن 2018ء کے پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو یہ تمام کی تمام صورت حال تبدیل نظر آتی ہے۔ اب ہمارے فیصلہ سازوں اور غور و فکر کرنے والوں کو طے کرنا ہو گا کہ کیا آج بھی ہم واقعی ایک زرعی ملک ہیں۔اور کیا ہماری معیشت کا دارو مدار اب بھی زراعت پر ہے۔
آج آپ شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ ’’ جرنیلی سڑک‘‘ پر پشاور سے کراچی تک سفر کر لیں یا ٹرین کے ذریعے کراچی سے پشاور آجائیں۔ آپ کو ہر شہر ہی نہیں، تحصیل اور قصبات میں بھی جگہ جگہ نئی کالونیاں آباد نظر آئیں گی اور ان سے بھی زیادہ نئی کالونیوں کے اشتہاری بورڈ آویزاں ملیں گے۔ جہاں کالونیاں آباد ہوگئیں وہاں زرعی رقبہ ختم ہوچکا اور جہاں کالونیاں بنائی جاری ہیں وہاں سرمایہ کاروں نے کھیت کھلیان اجاڑدیئے ہیں۔ بدقسمتی سے کسی کے پاس کوئی ایسے اعداد و شمار موجود نہیں کہ ہم اب تک کتنی زرعی زمینوں کو فیکٹریوں اور کالونیوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ بلاشبہ فیکٹریاں اور کالونیاں بھی انسانی ضرورت ہیں لیکن اس سلسلے میں کسی تناسب کاخیال رکھا گیانہ ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی گئی ۔ دوسری طرف آزادی کے بعد سے ہم نے کتنی بنجر زمینوں کو آباد کیا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس مستقبل کے غذائی خدشات کے حوالے سے انتہائی حوصلہ
شکن ہے۔ 70 سالوں کے دوران ہم پوٹھوہار کی پہاڑیوں، بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، سندھ اور پنجاب کے ریگستان کو قابل کاشت بنا سکے ہیں نہ کوہ سلیمان، کوہ ہندو کش اور کوہ ہمالیہ کے سلسلوں پر جنگلات لگا سکے ہیں۔ بہاولپور سے میر پور خاص تک کا سارا صحرا ہم نے عربی شہزادوں کے شکار کے لیے چھوڑ رکھا ہے اور مری سے وادی نیلم تک اور ایبٹ آباد سے گلگت تک کے پہاڑ غیر ملکی سیاحوں کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ وفاقی محکمہ جنگلات اور اس کے معاون صوبائی ادارے اب تک کتنے مصنوعی جنگل لگا سکے ہیں یہ ڈیٹا انتہائی قابل شرم ہے۔ اگر ان محکموں کے 70 سالہ بجٹ کا ملک میں لگائے گئے درختوں کی تعداد سے موازنہ کیا جائے تو شاید ان محکموں کا لگایا ہوا ایک درخت ہمیں کئی لاکھ روپے میں پڑے گا۔ پہاڑی علاقوں کے خود رو درختوں کا جس انداز میں ٹمبر مافیا نے صفایا کیا ہے، وہ ایک الگ داستان ہے۔
ایک اور المیہ ملاحظہ فرمائیے کہ ہماری حکومتوں نے ایک طرف زراعت اور لائیو سٹاک کو نظر انداز کیا اور پیداوار میں اضافے کے لیے وہ جدید طریقے اور سہولیات فراہم نہیں کیں جو آج کی دنیا میں عام ہیں تو دوسری طرف دیہات میں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع ضرورت کے مطابق فراہم نہیں کیے گئے جس کے نتیجے میں دیہات سے شہروں کی طرف آبادی کی منتقلی کی شرح اس قدر بڑھی جو شہروں کے لیے عذاب بن گئی۔ انتقال آبادی کے اس عمل نے دیہات میں کھیتی باڑی کرنے والی افرادی قوت ہی ختم کر دی۔ اب جہاں زرعی رقبہ ہے وہاں کام کرنے والی افرادی قوت نہیں رہی۔ زمیندار اور کاشتکار کے بچے ، تعلیم اور روزگار کے لیے شہر منتقل ہو چکے ہیں اور حکومتیں اب بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔
آج اس زرعی ملک کی صورت حال یہ ہے کہ ہمیں ٹماٹر اور پیاز بھارت سے اور ادرک سری لنکا سے منگوانا پڑ رہا ہے۔ گندم، چاول اور دوسری اجناس کی کل پیداوار بمشکل ملکی ضرورت پوری کرتی ہے بلکہ ہر دوسرے تیسرے سال ہمیں یہ اجناس بھی درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہی کے باعث آج گاؤں دیہات سے بھی خالص دیسی گھی اور مکھن خریدنا ممکن نہیں رہا۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور دوسرے بڑے شہروں میں آپ بازار سے دو گنا یا تین گنا قیمت پر بھی وہ
دودھ حاصل نہیں کر سکتے جو گوالا آپ کے سامنے دوہ کر آپ کے حوالے کر دے۔ سیروں کے حساب سے بکنے والی گنے کی رو ،اب تیس روپے فی گلاس فروخت ہوتی ہے۔
اسی زرعی ملک میں جہاں زمیندار کچھ سبزیاںاس لیے کاشت کر لیتے تھے کہ گاؤں میں جس کسی کو ضرورت ہو وہ تازہ سبزی توڑ کر لے جائے ۔ اس ملک میں مفت میں مل جانے والی یہ سبزی اب سو ڈیڑھ سو روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ کالا چنا جو کبھی گھوڑوں اور دوسرے جانوروں کو کھلایا جاتا ہے، اب سو ڈیڑھ سو روپے کلو ملتا ہے جبکہ ہر دال ڈیڑھ سو سے دو سو روپے کلو تک ہے۔ حکومتوں کی شوگر پالیسی کے تحت گڑ اور شکر چینی سے دوگنی قیمت پر مل پاتی ہے۔
اب ذرا لائیو سٹاک کی طرف آئیے۔ جس ملک میں مہمان کے آنے پر دیسی مرغی بارٹر سسٹم پر محلے سے مل جاتی تھی آج وہاں دیسی مرغی کھانا عیاشی سے کم نہیں ہے۔ بکرے کا گوشت خواب و خیال ہو گیا ہے البتہ مردہ اور حرام جانوروں کے گوشت کی فروخت کے سکینڈل اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔ پانی لگا ہوا گوشت تمام واویلا کے باوجود بک رہا ہے۔ بلوئے ہوئے دودھ کی لسی اور کھیس (بولی) سے نئی نسل واقف ہی نہیں ہے۔ یہ دونوں چیزیں مفت مل جاتی تھیں۔ درجہ چہارم کے جس ملازم کی تنخواہ ہماری حکومت نے15 ہزار روپے مقرر کی ہے، وہ اپنی پوری تنخواہ سے بھی قربانی کا جانور نہیں خرید سکتا۔ جانوروں کا چارا اتنا مہنگا ہے کہ لوگ جانور پالنے سے توبہ کر رہے ہیں۔
پھلوں کی صورت حال یہ ہے کہ چند سال قبل ایک انگریزی روزنامہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اب پھل عام آدمی کی زندگی سے نکل چکا ہے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کینو اور تربوز تول کر بیچے جانے لگے ہیں۔ مارکیٹ میں کوئی پھل دو سو روپے کلو سے کم نہیں۔ پھٹ (خربوزہ کی انتہائی نچلی قسم) اور بیراب پھل سمجھے جانے لگے ہیں۔ رہی خشک میوہ جات کی بات تو چار ہزار روپے کلو چلغوزہ اور پانچ ہزار روپے کلو کاجو تو گریڈ 18 کے افسر بھی اپنی حلال کمائی سے نہیں کھا سکتے۔ پھلوں کی برآمد بھی بہت زیادہ نہیںہے۔ البتہ درآمد ضرور ہو رہی ہے جبکہ سرکاری محکمے کروڑوں روپے کے آرائشی پودے اور درخت تو درآمد کر لیتے ہیں لیکن کہیں پھل دار درخت لگانے کے لیے تیار نہیں۔
اب ہمیں غورکرنا پڑے گا کہ اگر زراعت، جنگلات، لائیو سٹاک ، پھلوں اور سبزیوں کا یہ حال ہو گیا ہے تو کیا ہم اب بھی ایک زرعی ملک ہیں۔ کیا زراعت و باغبانی کے مضمون کو کورس سے نکال کربھی ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں ۔ اور کیاجس ملک میں 203یونیورسٹیاں کام کر رہی ہوں وہاں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت کے لیے 70 سال میں صرف 7 یونیورسٹیاں۔ ان کے پانچ سات کیمپس اور ایک درجن سے بھی کم زرعی کالجز ہوں تو کیا دنیا میں کوئی شخص یا ادارہ اس ملک کو زرعی ملک اور اس ملک کی معیشت کے زراعت پر انحصار کے تصور کو تسلیم کرے گا؟


ای پیپر