عورتوں کا دن
10 مارچ 2018 2018-03-10

صغرا صبح پانچ بجے اٹھی۔ سب سے پہلے تین بھینسوں کا دودھ نکالا، پھر ان کا چارا ڈالا، لسی سے مکھن نکالا، بچوں کے لیے پراٹھے بنائے، ان کو سکول بھیجااور کرم دین کولسی کا گلاس دے کر کھیتوں میں رخصت کیا۔ ابھی تو دن چڑھا ہی تھا اور دو گھڑی سکوں ملا تھا کہ بڑھیا کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔ وہ کافی عرصہ کی بیمار تھی اور پلنگ سے لگی ہوئی تھی۔ اس کو ہلدی والا گرم دودھ دیا اس کے بعد اس کے کپڑے بدلے اور پھر تن تنہا اس کا بستر آنگن میں ڈال کر اس کو وہاں لٹا دیا۔ اب باری تھی کھانا بنانے کی آج ذرا آسانی تھی کہ چنے کی دال بنانی تھی۔ دال چڑھا کر تھوڑی دیر ہمسائی سے حال احوال لیا، ہمسائی کا دن بھی لگ بھگ ایسا ہی تھا۔ کھانا بن گیا تو کرم دین کو

کھیتوں میں پہنچایا۔ آج کرم دین کا مزاج کچھ گرم تھا، چوہدری کے کامے سے کچھ منہ ماری ہو گئی تھی۔ چوہدری صغرا کا دور پار کا رشتہ دار تھا۔ کھیتوں میں ہی صغرا کی عزت افزائی ہو گئی اوراگر گھر ہوتا تو دو چارلپڑ بھی پڑ جانے تھے مگر صغرا روتی ہوئی گھر واپس آئی توبچے گھر آچکے تھے ان کو کھانا دیا، بڑھیا کا بستر چھاؤں میں کیا۔ اس کو کھانا دیا شکر ہے کھانا وہ اپنے ہاتھ سے کھا لیتی تھی۔ کرمو کھیتوں سے ایا موڈ بہتر تھا بچوں میں لگ گیا۔ اس نے رات کے لیے گڑ والے چاول بنائے، ایک پلیٹ ہمسائی کو دی، بڑھیاکا بچھونا اندر کیا اور سب کو کھانا دے کر جانے کب کرمو کے پیر دباتے دباتے سو گئی۔ ہمارے گاؤں کی عورت کا دن چپ چاپ کسی تبدیلی کے بغیر گزر گیا۔

اب آتے ہیں مارتھا کے پاس، یہ بڑے شہر میں میونسپلٹی میں صفائی کے کام میں ہے۔ اس کا کام سڑکوں کی صفائی کرنا ہے۔ اس کا شوہر بھی پہلے یہی کام کرتا تھا۔ اب چرس کی لت نے اس کو ناکارہ کر دیا ہے۔ بیٹا میٹرک پاس ہے، پاپ کی جگہ بڑے صاحب کی سفارش پر اس کولگوایا تھامگر اس کو اس کام میں شرم آتی ہے۔ اس لیے مارتھا پہلے اپنے حصے کا کام کر کے وکٹر کی سڑک بھی صاف کرتی ہے۔ شکر ہے گھرمیں دس سالہ بیٹی ہے جو کہ تقریباً گھر کا کام سنبھال لیتی ہے اور باپ کی ذمہ داری بھی اٹھا لیتی ہے۔ مارتھا کے اونچے خواب ہیں۔ دو چھوٹے بچوں کو اس نے مشن سکول میں داخل کروا رکھا ہے۔ بہن ان کو تیار کر کے سکول بھیجتی ہے۔ سلویا کو بھی پڑھنے کا بہت شوق ہے مگر اس کو پڑھائی کی قربانی اپنے بہن بھائیوں کے لیے دینی ہے۔ گھر کرائے کا ہے۔ مارتھا کو دوسڑکوں کی صفائی کے بعد دو تیں گھروں کا کام بھی کرنا ہوتا ہے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں ایک کمائی سے گھر کہاں چلتا ہے۔ بیٹا تو سارا دن کام کی تلاش کے بہانے آوارہ گردی کرتا رہتا ہے۔ چار بجے تک مارتھا فارغ ہو گئی۔ تھوڑی دیر سستانے کو سڑک کے کنارے ہی بیٹھ گئی۔ جنت اس کے

ساتھ ہی کام کرتی تھی وہ بھی وہاں آگئی۔ اسے ویمن ڈے کا پتا ہوتا تو وہ ضرور جنت کے ساتھ مل کر بیس روپے کی جلیبیوں سے منہ میٹھا کر لیتی کیونکہ کرسمس اور ایسٹر سے اگلے دن دونوں یہ عیاشی کرتی تھیں مگر اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ آج عورت کا کوئی دن ہے ۔ہاں ابھی گھر جاکرآج اور کل کے لیے سالن بھی بنانا تھا۔ دس سالہ بیٹی کتنا بوجھ اٹھا سکتی تھی، ہاں وکٹر کو اس کے ڈیر سے آنے پر غصہ بھی آ سکتا تھا کیونکہ بیوی تو چھوڑی جا سکتی ہے بینک اکاؤنٹ نہیں۔ اس بے ہوش کو اس چیز کا کافی ہوش تھا روز کی چرس کے پیسے بھی مارتھا نے اسے دینے تھے۔

یہ ایک نئی بنتی ہوئی کالونی ہے۔ یہاں ثریا رہتی ہے، ایک آدھ بنے گھر میں میاں اور دو بہت چھوٹے بچوں کے ساتھ۔ میاں دیہاڑی دار مزدور تھا مگرشہر میں جب سے اسے اس گھر کی چوکیداری کا کام ملا ہے اس نے دوسرے کام سے توبہ کر لی ہے۔ دس ہزار میں تو مشکل سے بچوں کا دودھ ہی پورا ہوتا ہے ۔ ثریا کا پیٹ روٹی مانگتا ہے، فضلو کو حقہ بیڑی چاہئے اور تو اور جوان ثریا کا دل بھی چاہتا ہے کہ کم ازکم اس کے کپڑے رنگ برنگ تو ہوں نا۔اس کا ایک ہی حل ہے، ساتھ والی آباد کالونی میں ثریا نے کام ڈھونڈ لیا۔ فضلو سارا دن گھر اور بچوں کی چوکیدار کرتااور ثریا دو تیں گھروں کی صفائی اور کپڑے دھوتی کئی دفعہ بچی ہوئی روٹی اور سالن بھی مل جاتا۔ پرانے کپڑوں کی بھی آسانی ہوگئی۔ اور تو اوربچوں اورکئی دفعہ فضلو کے کپڑے بھی مل جاتے تھے۔ ہاں گھر آکر روز فضلو سے منہ ماری ہوتی تھی کہ ثریا کے خیالات اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے کافی اونچے ہوگئے ہیں۔ بچوں کا خیال نہ ہوتا تو وہ فضلو کو کب کا سیدھا کر دیتی۔ ہاں گاؤں جانے کا اب اس کا بالکل من نہیں۔ مگر عورت کے دن کا اسے کچھ پتا نہیں۔ اگر پتا ہوتا توشاید آج کے دن وہ کم از کم بچوں کو لے کر پارک ضرور جاتی کیونکہ پارک جانا اسے بہت پسند ہے۔

اب آئیے بیگم سلیم کے گھر، بڑی پڑھی لکھی عورت ہیں اور پیسہ بھی بے تحاشہ۔ بہت سی تنظیموں کی روح رواں۔ ان کے دن کی ابتدا تو بیڈ کافی سے ہوتی ہے، ٹی پرا نی بات ہے۔ سلیم صاحب غلام ہیں۔ جوں جوں پیسہ بڑھتا جا رہا ہے سلیم صاحب کی زن مریدی میں اضافہ ہوتا جا رہا۔ بیگم سلیم یعنی رخشی کو بالکل پتا ہے آج عورتوں کا دن ہے اور آج ایک سیمینار اٹینڈ کرنا ہوگا جہاں ویمن ایمپاورمنٹ پر ان کی تقریر ہے۔ وہ ہر تقریر میں یہ ضرور بیان کرتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے فرسودہ خیالات کے مالک والد سے بغاوت کرکے سلیم صاحب سے شادی کی اور پھر ان کی قدم قدم پر مدد کرکے غریب سرکاری ملازم سے انہیں اوج ثریا تک لے گئی مگر آج تک انہوں نے اس گیدڑ سنگی کا نام نہیں بتایا جس سے سلیم صاحب نے بغیر سرمائے کے اتنی ترقی کی۔ رخشی نے لنچ کے بعد اپنی فرینڈز کے ساتھ چائے پر اکٹھا ہونا ہے اور ویمن ڈے کی ایک دوسری کو مبارک دینی ہے۔ پھر رات کو تو سلیم صاحب نے بہت سے دوستوں اور ان کی بیگمات کو ویمن ڈے کے حوالے سے ڈنر پر بلایا ہی ہوا ہے۔ ہاں مسز سلیم کو ویمن ڈے کا پتا ہے مگر ان کا تو ہر دن ہی ویمن ڈے ہے ان کو اس دن کا کیا فرق پڑتا ہے بس میرا پیغام عورتوں کے لیے ہے کہ سال میں ایک دن تو کم ازکم اپنے بارے میں سوچیں۔ ہمارے ملک کی عظیم عورتو، خدا آپ کو سلامت رکھے۔ آمین ۔


ای پیپر