کفارہ
10 مارچ 2018 2018-03-10

ہمارا اختلاف ان پالیسیوں اور رویہ سے ہے جو عالمی سطح پر روا رکھا جا رہا ہے۔ خود ساختہ احکامات سے بھی ہے جو گا ہے بگا ہے جاری ہوتے رہتے ہیں جن کی کو کھ سے جس کی لاٹھی اسکی بھینس کی عملی شکل جنم لیتی ہے۔ اور ان دوہرے معیارات سے بھی ہے جو مفادات کے کے تنا ظر میں پروان چڑھائے جاتے ہیں۔
اک لمحہ کے لیے غور کیجیے کہ عالمی قوت اور برادری ان اقوام سے مہذب ہونے کی خواہش دل میں پال رہی ہے جو ماضی میں سرد جنگ کا ایندھن بنتی رہی ہیں۔ جس کے وسائل افرادی قوت کو محض ذاتی مفادات کی بدولت اس جنگ میں جھونکا گیا۔ ایسی سرزمین کے باشندے جو تین سے زائد دہائیوں سے حالت جنگ میں ہوں۔ جن کا جرم اتنا ہو کہ بڑی طاقت کا وہ لقمہ بنیں۔ انکی ریاست کو عالمی جھگڑا کے لیے شاہراہ عام بنا دیا جائے۔ جن کے بچے توپوں کی گھن گرج میں پیدا ہوں۔ جس پے ڈیزی کٹر بم برسائے اور بارودی سرنگیں طول عرض میں پھیلائی جائیں۔ بیوگان جہاں آبادی کا غالب حصہ ہوں روزگار کی فراہمی میں پراکسی وار بڑی رکاوٹ ہو، منشیات فروشی ذریعہ معاش ہو۔ میڈیا جس کے باشندوں کو دہشت گرد کے طور پر متعارف کرواتا ہو۔ انکی آمد پر ریاستوں کے دروازے بند کردئیے جائیں۔ پھر ان سے توقع رکھی جائے کہ اس قوم کے زعماء بڑا سیاسی وژن رکھتے ہوں۔ جمبہوری نظام اور اقدار کے قصیدے کہتے ہوں۔ ظلم اورزیادتی کے روا رکھے جانے کو اپنی کو تاہی قرار دیتے ہوں، غیر ملکی افواج کی موجودگی کو غنیمت مانتے اور اسکی قیادت کو محسن جانتے ہوں۔ بڑی طاقتوں کی زبان بولنے پر ملکہ رکھتے ہوں دنیا میں سفیر امن ہوں۔
جن کے ماں باپ بہن بھائی، بیوی بچے ان کی آنکھوں کے سامنے بے بسی کے عالم میں ڈراؤن حملوں کی نذر ہوئے ان سے امن کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ عالمی سیاست میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اپنے رویوں کو تبدیل کرلیں معاشی ترقی میں معاونت کریں سماجی ترقی میں ساتھ دیں عالمی برادری ان کی کاوش کو مثبت انداز میں نہیں دیکھتی تو اس سے بڑی بد دیانتی اور کیا ہوگی۔
چشم فلک نے دیکھا کہ مسلمان حریت پسند دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح پر شدت پسند اور دہشت گرد قرار پائے۔ پالیسی سازوں نے وہ حد فاضل جو حریت پسندوں اور دہشت گردوں کے مابین کھینچ رکھی تھی اسے حرف غلط کی طرح مٹا ڈالا گذشتہ دہائی کی قریبی مدت سے عالمی سطح پر میڈیا، مقتدر طبقہ اور عالمی طاقت نے ایسی گرد اڑائی کہ سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ دکھائی دینے لگا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں سے لیکر کیمیائی ہتھیاروں کی فراہمی تک کے پروپیگنڈاہ نے متنازعہ ممالک، شخصیات اور تنظیموں کو دفاعی پوزیشن پے لا کھڑا کیا اسکی پاداش میں ہزاروں انسانوں کا قتل عام ہوا۔ مسلم حکمرانوں کو پھانسی کے پھندے پے جھولنا پڑا بعض کو ذلت اور عبرت آمیز انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بعد ازاں اعتراف گناہ کے طور پر بطور جمبوری ریاست اور حکمران اپنے اعمال پر ندامت محسوس کرتے ہوئے معافی مانگ لی گئی۔ نجانے تاریخ ٹونی بلیر کے اس اعتراف جرم کو کس کھاتے میں ڈالیں گی جو انہوں نے اتحادی ہونے کے ناطے عراق پر روا رکھی جانے والی جنگ کے تناظر میں کیا۔ انکی یہ کاوش ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی مشق قرار دی جاسکتی ہے لیکن ان بے گناہ زندہ انسانوں کا کیا جرم ہے جو اب تلک اس غیر منصفانہ اور سفاک عالمی پالیسی اور اتحادی افواج کے ظلم کا شکار ہوئے جہاں بد امنی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی اس عمل سے اس ریاست کو نسلی بنیاد پر تقسیم کرنے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
آج بھی وہ تصاویر تاریخ کا حصہ ہیں جو افغانستان کے جہادیوں کی پذیرائی کا پتہ دیتی ہیں۔ یہ مجاہدین اک زمانہ میں وائٹ ہاؤس کے ’’بڑے مہمان‘‘ ہوا کرتے تھے انہیں سوشلزم کے خاتمے کا ہیرو قرار دیا جاتا تھا ان کے لیے انکل سام نے تجوریوں کے منہ کھول دئیے۔ روس کی شکست کے بعد یہ ’’معزز مہمان‘‘ نافرمان ٹھہرے انہیں باغی کا درجہ ملا ، بنیاد پرست قرار پائے ان طاقتور افراد نے جب کمیونسٹ نواز سرکار کی آمد پر مزاحمت کی تو یہ’’فریڈم فائٹر‘‘ قرار پائے جب اکلوتی عالمی طاقت نے اپنی اتحادی افواج افغانستان کی اسی سرزمین پے اتاری تو یہی افغانی دہشت گرد قرار پائے۔ افغانی مجاہدین کے قصیدے کہنے والا وائٹ ہاؤس اب انہیں دہشت گرد قرار دلانے کے لیے پالیسی مرتب کر رہا تھا۔ انہیں دنیا کے بد ترین اشخاص کی فہرست میں شامل کر رہا تھا انکے جرائم کی طویل فہرست کو پیش کر کے عالمی برادری کو اپنا ہمنوا بنا رہا تھا ۔ دنیا کی مہذب برادری اس دوہرے معیار پر نجانے کیوں خاموش رہی؟ کسی کو تو یہ پوچھنے کی بھی توفیق نہ ہوئی کہ جس قوم نے اپنا خون دے کر اورجانوں کا نذرانہ پیش کر کے اکلوتی عالمی طاقت بنوایا ہے اسکی فلاح و بہبود کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے اک بار پھر اس پر جنگ مسلط کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اس قوم کو آخر کس جرم کی سزا دی جارہی ہے؟ جن شہریوں نے ہتھیار نہیں اٹھائے جو امن کے خواہاں ہیں ان پر گولہ بارود برسانا کہاں کا انصاف ہے؟
عالمی برادری مفادات کی عینک کی بجائے ضمیر کے عدسہ سے دیکھتی تو آج عالمی منظر نامہ مختلف ہوتا۔ عراق، لیبیا، شام، یمن، افغانستان میں بد امنی کا دکھ برادری کے ضمیر کی بجائے پیٹ کی سوچ سے کئے گئے فیصلہ جات کا نتیجہ ہے جس کی سزا ان ریاستوں کے عام شہری کو مل رہی ہے جب انسان کو خانوں میں بانٹا جارہا تھا جب ’’ کروسڈ‘‘ کی اصطلاح زد عام تھی اس وقت عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اس عالمی قوت کے پلڑے کو بھاری کر رہی تھی جس کے بیک جنبش قلم سے وہ تمام افراد اور تنظیمیں دہشت گرد قرار پائیں جو عالمی پالیسوں پر تحفظات کا برملا اظہار کر رہی تھی اور اسکی ناقد تھی۔
یہ تاریخ کی کھلی حقیقت ہے کہ طالبان بھی اس فہرست کا حصہ رہے۔ آج پھر منظر نامہ بدل رہا ہے۔ طالبان کو افغانستان کی سیاسی قوت اور طاقت سرکاری طور پر تسلیم کیا جارہا ہے اس سے امن اور مذاکرات کی بھیک مانگی جارہی ہے۔ ریاستی کردار میں شریک کرنے کی آرزو شدت اختیار کررہی ہے اس لئے بھی کہ ’’ بڑے گھر‘‘ سے منظوری ہو چکی ہے۔
انکل سام نے اپنی سلامتی کونسل کی قرار داد کی عینک تبدیل کر لی ہے اب ان کے لئے دل میں نرم گوشہ پیدا کیا گیا۔ گنوار، اجڈطالبان کے اس فعل کی پذیرائی کی جارہی ہے جو اس نے ’’ تاپی‘‘ گیس منصوبہ میں دست شفقت بڑھانے اس کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ افغان حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف جرم کرتے ہوئے انہیں سرکاری امور میں شریک کرنے کے لئے بے تاب ہے۔
کیا اس سے یہ اخذ کیا جائے اتحادی قیادت کا اپنی طاقت کے استعمال کا اندازہ غلط تھا۔ کیا اکلوتی عالمی طاقت اپنی شکست تسلیم کرنے کے قریب ہے؟ طالبان کی کونسی سیاسی تربیت ہوئی ہے کہ ان کے رویہ میں مثبت تبدیلی دکھائی دینے لگی ہے؟
ا ن معصوم بے گناہ افراد کے خون کا حساب کون دے گا جو ایک دہائی تک لقمہ اجل بنتے رہے۔ ہمسایہ ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے موت اس کے ہاں بھی رقص کرتی رہی ان کی افواج کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ افغان سرزمین پے غیر ملکی افواج کی موجو دگی تک غیر یقینی کی صورت حال افغانستان اور اسکے ہمسایہ ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے کیا وقت آن نہیں پہنچا کہ اتحادی افواج اپنی حماقت اور غلطی کا اعتراف جرم کرتے ہوئے خطہ سے رخصت ہو جائیں اور عالمی برادری اپنے ضمیرسے بوجھ اتارنے کے لیے ’’ کفارہ ‘‘ کی ادائیگی کے لئے اتحادی افواج پر دباؤ ڈالیں جو مذکورہ ممالک میں بد امنی کو فروغ دینے کے لیے مرتکب ہوئے۔


ای پیپر