آج ذرا مڑ کر دیکھتے ہیں
10 مارچ 2018 2018-03-10

جوں جوں بندہ بڑھاپے کی طرف بڑھتا ہے اسے اپنا بچپن شدت سے یاد آنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے بڑھاپا عموماً تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مختلف النوع امراض یکا یک گھیر لیتے ہیں پھر عزیز و اقارب سے متعلق بھی حساسیت بڑھ جاتی ہے جو ہر لمحہ پریشان کیے رکھتی ہے۔
زندگی کا یہ سفر بڑا ہی عجیب ہے۔ شروع میں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بوڑھا ہونا ہی نہیں۔ بوڑھے لوگوں کو جوانی زیادہ اہمیت نہیں دیتی اچھلتی کودتی اور حسین و مر مریں سپنے دیکھتی ہے۔ بڑے بڑے مشکل کا موں کو چٹکی بجاتے سر انجام دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اکثر یہ سوچتی ہے کہ دوسرا اس جیسا کوئی نہیں لہٰذا کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ بڑھاپا اس کی طرف حیرت سے دیکھتا ہے، اسے دھیرے چلنے کا مشورہ دیتا ہے، اپنے تجربات پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ رہنمائی حاصل کر سکے مگر وہ تواڑانیں بھر رہی ہوتی ہے۔ اسے یہ باتیں اچھی نہیں لگتی ۔ پھر جب اس پر دیکھتے ہی دیکھتے بڑھاپا غالب آ جاتا ہے تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے اور پکار اٹھتی ہے کہاں گئے وہ دن جب ہر چیز پر کشش، سہانی اور دلکش نظر آتی تھی۔ کوئی فکر چھو کر بھی نہیں گزرتی تھی بہار آتی تو لگتا کسی طلسماتی ماحول میں آگئی ہو۔ بہتے نالے پھوٹتے ، چشمے بدنی کیفیت میں سرور پیدا کر رہے ہوتے۔ پرندوں کی آوازیں مسحور کر دینے والی ہوتیں۔ صبح و شام کے فطری نظارے اس قدر جاذب نظر ہوتے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اب جب میں بڑھاپے کی جانب رواں ہوں مجھے بھی اپنا بچپن رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔ چونکہ ابتدائی برس گاؤں میں گزرے ہیں لہٰذا وہاں کی بہاریں ، سردیاں اور گرمیاں بھول نہیں پا رہے۔ اکثر وہ نگاہوں کے سامنے آ کر ٹھہرے جاتے ہیں ایک دوسری وجہ بھی بچپن کے نہ بھولنے کی ہے کہ حال اچھا نہیں، اس میں تلخیاں ہی تلخیاں ہیں ۔ صرف تلخیاں ہی نہیں بیگانگیاں بھی ہیں اور لاتعلقیاں بھی سموئی ہوئی ہیں ۔ باہمی دلچسپیاں تو گویا ختم ہو کر رہ گئی ہیں ۔
نفرتیں کدورتیں آکاس بیل کی طرح بڑھ رہی ہیں ۔ برداشت تو ایسے غائب ہوئی کہ جیسے تھی ہی نہیں۔ لہٰذا وہ منظر جھانکتے ہیں آج بھی یادوں کی چلمن سے۔ جو دل کو سکون بخشتے تھے اپنائیت کے جذبے میں اضافہ کرتے تھے، رنج و غم کو بہت کم قریب آنے دیتے تھے۔ فضائیں نکھری نکھری آلودگیوں سے پاک ہوتیں۔ گلوں کے رنگ پھیکے گہرے ہوتے۔ خوشبوئیں ہر طرف بکھری ہوتیں۔ نجانے کیا ہوا کہ وہ سب نظروں سے اوجھل ہو گیا؟
وہ چاندنی راتوں میں ٹٹیری کا ٹیوں ٹیوں کر نا کس قدر بھلا لگتا تھا۔ پورے ماحول پر اس کی آواز سحر طاری کر دیتی تھی۔جسموں میں خون تیزی سے گردش کرنے لگتا۔ کبھی کبھی تو جب اس کی آواز میں مدوجزر آتا تو سمجھ لیا جاتا کہ ضرور کوئی اس نے جنگلی جانور دیکھ لیا ہے اور اس پر جھپٹ رہی ہے۔ راستے کچے ہوتے مگر ان کے کیا کہنے، پھر وہ دھول کا اڑنا بھی ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتا کہ جیسے بادل چھا رہے ہوں۔
آج کل تو مہکتے موسم میں چہروں پر تازگی عود کر آ جاتی ،خود بخود کام کرنے کو جی چاہتا۔ میں اکثر اپنے کھیتوں ( سکول سے واپسی پر ) میں چلا جاتا جہاں گندم کی فصل لہلہا رہی ہوتی۔ درختوں پر تو سبزہ ایسے دکھائی دیتا جیسے یہ کبھی مرجھائے گا ہی نہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا یادوں کی پٹاری کھول دی ہے جو اب تک دماغ کے نہاں خانے میں محفوظ پڑی ہے مگر کیا کیا جائے لمحات موجود انتہائی اذیت ناک ہو چکے ہیں ۔ سماجی اقدار شکست و ریخت کے عمل سے دوچار ہیں ۔
انصاف ناپید ہے۔ دھوکا فریب عام ہے۔ افراتفری آپا دھاپی نے دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے۔ انسانیت سے چشم پوشی نے اسے گھائل کر دیا ہے۔ غربت و افلاس، لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے مگر اختیارات کے قلمدانوں کے مالک گہری نیند سو رہے ہیں ۔ انہیں کسی کا ذرہ بھر خیال نہیں۔ سینہ زوروں نے اودھم مچا رکھا ہے، انہیں قانون اپنی گرفت میں لینے سے کتراتا ہے اس کی ٹانگیں کانپتی ہیں ۔ ایسے میں لازمی ہے کہ گئے دنوں میں کوئی کھو جائے۔ سو میں بھی کھو گیا ہوں۔ اگرچہ بڑھاپے کے اثرات بھی ہیں مگر اگر حالات خوشگوار ہوتے اور زندگی سہولتوں کے جلو میں محو خرام ہوتی تو جو شدت بیتے لمحوں کی ہوتی ہے یقینا وہ انتہائی کم ہوتی۔ اور پھر یہ بھی عین ممکن تھا کہ حال ماضی پر غالب آ جاتا مگر اب تو قدم قدم پر گزری ہوئی باتیں اور داستانیں دل و دماغ کو جھنجوڑ رہی ہیں کہ ہر ساعت بھاری پتھر بن کر روح پر گزرتی ہے۔ چین و آرام ایک پل نہیں۔ ہمارے کرتا دھرتاؤں نے اپنے پیٹ بھرے ہیں ۔ کچھ بھی تو لوگوں کے لیے نہیں چھوڑا لہٰذا دکھ ہی دکھ ہیں جدھر دیکھو۔ رسوائیاں ہی رسوائیاں ہیں ہر طرف لہٰذا خوف و ہراس کے اس ماحول میں راحت کا سامان چاہیے ہے جو ماضی میں موجود ہے۔ یہاں میں یہ بھی عرض کر دوں کہ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ صورت حال سے دبک کر گوشہ نشیں ہو جائیں۔ جو مسائل و مشکلات ہیں ان سے نبر د آزما ہوا جائے۔جدوجہد کی جائے۔ کیونکہ نشاط انگیز لمحے اس کے بغیر نہیں میسر آتے۔ مگر یہ پہلو بھی قابل غوروفکر ہونا چاہیے کہ اب تک کوشش کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ہمیں نظر آتا ہے مگر اس کے نتائج مثبت بر آمد نہیں ہوئے۔ اور اب تھکن نے آہستہ آہستہ پورے قومی و جود پر قبضہ کر لیا ہے لہٰذا سوائے تخیل اور گزرے ہوئے وقت کے کوئی چیز تسکین بہم نہیں پہنچاتی۔ پریشانی یہ بھی ہے کہ نئی نسل کیا کرے گی، وہ اس سوچ کے ساتھ جیے گی کہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں؟
بس یہی وہ بات ہے جس نے مجھے اور مجھ ایسے کروڑوں لوگوں کو کسی عمیق سوچ میں ڈال دیا ہے۔ اور جب صبح کو اپنے قریبی گارڈن میں سیر کے لیے جاتا ہوں تاکہ تازہ دم ہو سکوں اور بڑھاپے کی طرف بڑھتے قدموں کو توانا بنا سکوں تو بھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ اگرچہ جدید طرز کے اس باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوتے ہیں ۔ درختوں پر بہار عروج پر پہنچی دکھائی دیتی ہے کہ ٹہنیوں پر انتہائی نازک پتے اور پھول جلوہ افروز ہو چکے ہیں جو آگے چل کر جب حدت بڑھے گی تو کچھ زرد ہونا شروع ہو جائیں گے مگر سکون قلب تب بھی نہیں کیونکہ دائرے میں گھومتی حیات نے اندر کو ویران کر دیا ہے جسے باہر آ کر بھی سب کچھ اسی طرح محسوس ہوتا ہے
بہر حال جینا تو ہے جیسے بھی جئیں مگر میں اس حالت موجود سے سخت دلبر داشتہ ہوں کہ جو انسانی زندگی کو الم و مصائب کی طرف دھکیل رہی ہے جب کہ جدید دور کا تقاضا تھا کہ وہ تکالیف اور مشکلات جو پہلے درپیش تھیں آج ان سے نجات مل گئی ہوتی مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا لہٰذا بڑھاپا اپنے شکن آلود ماتھے کے ساتھ کراہ رہا ہے اور جب اس میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے پلٹ جاتا ہے جو اسے ہر ٹیس اور دکھ سے چھٹکارا دلا دیتا ہے ۔ خزاں کو بہار میں تبدیل کر دیتا ہے ۔


ای پیپر