چیئرمین سینٹ کیلئے کس کے پاس کتنی سیٹیں ؟دیکھیں تفصیلی خبر
10 مارچ 2018 (15:14) 2018-03-10

اسلام آباد:الیکشن سال 2018کی حکمت عملی سے قبل تمام بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کا موقع مل گیا ۔پرانے دوست اور دشمن سب ایک دوسرے سے رابطے میںہیں ۔ان تمام روابط سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کون کس کا ساتھ دیگا اور کون کس کا مخالف ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے اپنی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے زرداری کا ساتھ نہ دینے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا ۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں 2 روز باقی رہ گئے ہیں جس کے لیے ایوان کی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنا چیئرمین لانے کےلیے مشاورتی عمل تیز کردیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب پیر (12 فروری) کو ہونا ہے مگر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ کوئی حریف جماعت بھی نمبر گیم پورا ہونے کا یقینی دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔سینیٹ کے کل ارکان 104 ہیں اور چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بننے کے لیے 53 ووٹ چاہئیں۔


اس وقت سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی تعداد 33 ہے اور اس کے موجودہ اتحادیوں میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 5 سینیٹرز، نیشنل پارٹی کے 5، جے یو آئی (ف) کے 4 اور مسلم لیگ فنکشنل کے 1 سینیٹر کو شامل کیا جائے تو یوں (ن) لیگ اور اتحادیوں کے سینیٹرز کی  کل  تعداد 48 بنتی ہے۔تاہم مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ نمبر گیم میں وہ آگے ہیں اور انہیں ایم کیو ایم کے 5، فاٹا کے 8 میں سے 2، عوامی نیشنل پارٹی کے 1 اور بی این پی مینگل کے 1 سینیٹر کی حمایت ملنے کا بھرپور یقین ہے۔اگر ان 9 سینیٹرز کی حمایت مل گئی تو مجمو عی طور پر (ن) لیگ کے پلڑے میں 57 ارکان ہوں گے، تاہم دہری شہریت کے معاملے پر 3 سینیٹرز کے ووٹ خطرے میں ہیں۔

دوسری طرف گذشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ نظر آئے تھے۔53 کا ہندسہ عبور کرنے میں فاٹا سینیٹرز کی حمایت بھی اہم ہے جنہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان سے ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کا مطالبہ کیا ہے۔ آج فاٹا سینیٹرز بھی نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔عمران خان نے اپنے 13 ارکان وزیراعلیٰ بلوچستان کی جھولی میں ڈال دیے۔

اجلاس میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر غور ہوگا، اس دوران اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں سے رپورٹ پیش کی جائے گی جب کہ چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب پرپارٹی کی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔سینیٹ کی چیئرمین شپ کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف سے ایم کیوایم کے دو دھڑوں نے وفود کی صورت میں ملاقات کی۔

مریم نواز کے ٹوئٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں نواز شریف سے ملاقات بھی کی ہے ۔ایم کیوایم پی آئی بی کے وفد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ملاقات کی جب کہ وفد میں کامران ٹیسوری، علی رضا عابدی اور شیخ صلاح الدین شامل تھے۔ایم کیوایم بہادرآباد گروپ کے عامر خان، خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید نے ملاقات کی۔ایم کیوایم کے وفود اور نوازشریف کے درمیان سینیٹ انتخابات سے متعلق بات چیت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے انکار کے بعد پیپلزپارٹی نے پلان بی پر عملدرآمد کے لیے مشاورت شروع کردی ہے اور رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرنے پر مشاورت کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پلان بی میں بلاول بھٹو رضا ربانی کے حامی ہیں جب کہ پارٹی چیئرمین کی رضا ربانی کے ساتھ ملاقات کے بعد پلان بی پر عملدرآمد تیز ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے زرداری ہائوس میں آج پلان بی پر اہم مشاورت ہوگی، آصف زرداری اور بلاول بھٹو پلان بی پر سینئر قیادت سے مشاورت کریں گے۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے جماعت اسلامی سے بھی تعاون مانگ لیا ہے۔


ای پیپر