پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، جے پی مورگن
سورس:   فائل فوٹو
10 جون 2021 (17:20) 2021-06-10

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے لیکن آنے والے سال میں درآمدات بڑھنے کے باعث اسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے جی پی مورگن نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستانی معیشت میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔ جاری کھاتے مثبت ہونے کے باعث روپے کی قدر میں بہتری ہوئی۔ مالیاتی خسارہ بھی جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہورہا ہے۔

جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022ء کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2021میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرض کی شرح 8.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ مالی سال 2022میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرض کی شرح 8عشاریہ5فی صد پر آسکتی ہے ۔

جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں بیرونی مالی اعانت اہم ذریعہ رہے گی ۔ مالی سال 22 میں درآمدات بڑھنے کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھ سکتا ہے

ادھر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اقتصادی سروے مالی سال 21-2020 پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال فروری میں کورونا نے پھر سے سر اٹھایا اور اب اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کنٹرول میں آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے 4 ہزار 200 ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے جبکہ زرعی شعبے میں 2.7 فیصد ترقی ہوئی۔ غیر ملکی قرض میں 700 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں 29 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔ حکومت نے کورونا کے دوران مشکل فیصلے کیے اور کورونا لاک ڈاؤن سے 2 کروڑ افراد کا روزگار متاثر ہوا۔ وزیر اعظم عمران کا اسمارٹ لاک ڈاؤن بھی ایک مشکل فیصلہ تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی اور زرعی شعبے کو مراعات دیں اور زرعی شعبے میں 2.7 فیصد ترقی ہوئی۔ لارج اسکیل مینو فیکچرنگ شعبے میں 9 فیصد ترقی ہوئی۔ تعمیراتی شعبے کے لیے وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے مراعات لیں۔ ایف اے ٹی ایف میں ریلیف کی توقع ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن عوام پر بوجھ نہیں ڈالیں گے۔

 بشکریہ(نیو نیوز)


ای پیپر