سعد رفیق استعفیٰ دیں
10 جون 2021 (11:59) 2021-06-10

قومی سیاست اور مزاح نگاری میں ویسے تو کوئی قدر مشترک نظر نہیں آتی، اسی طرح حالات حاضرہ پر لب کشائی اور مزاح کے راستے الگ الگ ہیں مگر موجودہ دور میں مسلسل ایسی وارداتیں پے در پے ہو رہی ہیں جہاں سیاست اور مذاق کی حدیں ملنے لگتی ہیں جسکی وجہ سے کالم نگاری یا حالات پر رائے زنی کا شعبہ بھی طنز و مزاح کے قریب آنے لگا ہے گویا آج کا کالم نگار بھی سیاست اور مذاق کی اس ہلکی پھلکی موسیقی سے لطف اندوز ہونے پر مجبور ہے۔ 

انڈیاکے شہرہ آفاق مصنف آنجہانی خوشونت سنگھ نے اپنی کتاب میں بڑا دلچسپ واقعہ لکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ سکھ علیحدگی پسند تحریک کے دوران انہوں نے اخبار میں کوئی ایسا لبرل کالم لکھ دیا جس سے دنیا بھر کی سکھ کمیونٹی ان سے ناراض ہو گئی اور ہر جگہ سکھ انہیں گالیاں دینے لگے۔ اسی دوران انہیں کینیڈا سے ایک سکھ کا خط موصول ہوا جو گالیوں سے بھرپور تھا لفافے پر خوشونت سنگھ کے نام کے ساتھ The Bastard لکھا ہوا تھا ۔ شہر کا نام دہلی اور آگے انڈیا لکھا تھا۔ خوشونت سنگھ کو حیرت اس بات پر تھی خوشونت نام کا ایک ہی آدمی رہتا ہے وہ کہتے تھے کہ میں دہلی کے محکمۂ ڈاک کی کارکردگی پر حیران ہوں کہ انہوں نے کتنی محنت سے پورے شہر میں مجھے ڈھونڈھ کریہ خط جو بغیر ایڈریس کے تھا مجھے میرے گھر پر ڈلیور کر دیا۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو ن لیگ کے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق جو آج کل میڈیا لائم لائٹ سے غائب تھے ایک دفعہ پھر ابھر کر سامنے آ گئے جب حالیہ افسوسناک ٹرین حادثے پر حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ اس حادثے کے ذمہ دار سعد رفیق ہیں کیونکہ وہ آج سے ساڑھے تین سال پہلے وزیر ریلوے تھے اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی ہمیں انڈیا کے محکمہ ڈاک سے زیادہ مستعد نظر آتی ہے۔ اب یہ عوام کا کام ہے کہ وہ اس واقعہ میں کس طرح حق کی تلاش کرتے ہیں۔ عام طور پر جب اس طرح کا واقعہ ہوتا ہے تو شور 

مچ جاتا ہے کہ وزیر صاحب استعفیٰ دیں مگر اب شاید یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ ریلوے کے سابق وزیر استعفیٰ دیں۔ اس سے آگے یہ کالم نگار خاموش ہے۔ 

پاکستان اورافغانستان کے باہمی تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایک طرف طالبان پاکستان سے ناراض ہیں اور ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر آپ نے امریکہ کو اڈے دیئے تو ہم سے برا کوئی نہیں ہو گا جبکہ دوسری طرف اشرف غنی جسے مغربی میڈیا میں از راہ مذاق The Mayor of Kabul کہا جاتا ہے وہ بھی پاکستان کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر اس دفعہ تو حد ہو گئی جب افغان نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب نے پاکستان کوBrothel House یا جسم فروشی کا اڈہ کہہ دیا اور یہ نازیبا اور توہین آمیز بیان اس وقت دیا جب گزشتہ ماہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید افغانستان کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔ اگر انہیں افغان سکیورٹی ایڈوائزر کی اخلاق باختہ گفتگو کا بروقت پتہ چل جاتا تو شاید وہ دورہ ملتوی ہو جاتا کیونکہ وہاں سے ان کی واپسی پر افغانستان حکومت سے بات چیت کا عمل معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ پاکستانی دفتر خارجہ کی غلطی ہے کہ انہیں صورت حال سے بروقت باخبر نہیں رکھا گیا۔ اس غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کے افغانستان پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ 

آج کل میڈیا میں ایک اور خبر Splash ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف آکسفورڈ یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی کے درمیان ہونے والے پولو میچ میں شائقین کی قطار میں میچ دیکھتے ہوئے دکھائے گئے ہیں ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ اپنے نواسے جنید صفدر کی دعوت پر گئے تھے جوکیمبرج کی طرف سے کھیل رہا تھا۔ یہ میچ میاں صاحب کی ٹیم ہار گئی اور آکسفورڈ نے جیت لیا۔ حکمران جماعت خوش ہے کہ نواز شریف کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اس ہفتے ہمارے ساتھ سب سے بڑا مذاق فرانسیسی نیوز ایجنسی Bloomberg نے کیا ہے جس نے بنگلہ دیش کی معیشت کو دنیا بھرمیں بالخصوص اور ساؤتھ ایشیا اور برصغیر میں بطور خاص اپنی بحث کاموضوع بنایا۔ نیوزایجنسی نے لکھا ہے کہ 1971ء میںآزادہونے والا بنگلہ دیش جس کی مشرقی پاکستان کے دور میں مغربی پاکستان کے مقابلے میں جی ڈی پی گروتھ آ دھی تھی اس وقت انڈیا اور پاکستان دونوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جی ڈی پی کی 3.94فیصد اضافے پر حکمران جماعت کے گھر میںچراغاں اور جشن کا سماں ہے (حالانکہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ شرح صرف 2 فیصد ہے)۔ ان حالات میں بنگلہ دیش کی پوزیشن یہ ہے کہ وہاں اس سال جی ڈی پی گروتھ 9 فیصد تھی یعنی اس نے پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ بنگلہ دیش کی حکومتی اور پاکستان کی کاغذی پالیسیاں ہیں جس بات پر ہمیں سب سے زیادہ شرمندگی ہوئی وہ یہ ہے کہ ایک نام نہاد ایکسپرٹ نے Bloomberg رپورٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 2030ء میںپاکستان بنگلہ دیش سے مالی امداد کی درخواست کر رہا ہو گا۔ بقول علامہ اقبال: 

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی بات

پاکستان میں احتساب کی چکی آٹا پیسنے میں مصروف ہے، یہ بند نہیں ہوتی مسلسل کام کرر ہی ہے مگر جب اس کے نتائج یا پیداوار کا سوال اٹھتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ 

کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار

اس کی محنت اور جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ جب اس نے ساری اپوزیشن کو Cover کر لیا تو ایک لمحے کے لیے شاید یہ لگاکہ احتساب کاکام تمام ہوا مگر چکی بند کرنا بدشگونی تھی لہٰذا پارٹی کے اندر کی اپوزیشن کا پتہ لگایا گیا اور قرعۂ فال جہانگیر ترین کے نام پر نکلا انہیں شوگر مافیا کہا جاتا ہے مگر جوان پر کیس بنایا گیا اس میں شوگر کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ عوام کو صرف یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ احتساب بند نہیں ہو گا اور ہم کچھ کریں یانہ کریں۔ حکومت اس نئے نعرے کے ساتھ کپتان ڈٹ کر کھڑا ہے کہ حکم رب کا۔ احتساب سب کا۔ اس سے آگے راوی خاموش ہے۔ 


ای پیپر