کموں شہید کے پار کا ریلوے…
10 جون 2021 (11:45) 2021-06-10

وطن عزیز میں ریلوے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق ریلوے کے 75 فیصد بڑے حادثات کموں شہید کے اس پار ہوتے ہیں۔ کموں شہید کیا ہے اس بارے کالم کے آخر میں پڑھیے۔

ان حادثات کی بڑی وجہ کمزور ٹریک بتایا جاتا ہے اور اس کا برملا اظہار سابقہ وزیرے ریلوے شیخ رشید اور موجودہ وزیر ریلوے اعظم سواتی انتہائی ڈھٹائی سے کر چکے ہیں۔ ریلوے کے سکھر ڈویژن کے ڈی ایس نے بھی اعتراف کیا کہ اس ڈویژن میں ٹریک ریل کے لیے موزوں نہیں۔ اس کی مکمل تبدیلی اور متواتر دیکھ بھال ہی اس کا حل ہے لیکن ریلوے کے پاس اس کے لیے بجٹ نہیں۔

ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں ایک سینئر انجینئر سے جب بات ہوئی تو انہوں بتایا کہ ریلوے کے ملک بھر میں 7 ڈویژن ہیں اور تصدیق کی کہ سکھر ڈویژن میں ریلوے ٹریک کی بہت بُری حالت ہے اور یہ ٹریک 65 سال پرانا ہے اور اسے آج تک تبدیل نہیں کیا گیا۔ جبکہ ملک کے باقی ڈویژنز میں ٹریک گاہے بگاہے تبدیل کئے جاتے رہے ہیں۔ ٹریک کے بارے ٹیکنیکل وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ سکھر ڈویژن میں ٹریک کے جوڑ روایتی نٹ بولٹ (پرمالی) سے ہٹ کر ویلڈنگ کر دیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان میں قدرتی لچک نہیں رہتی اور شدید گرمی میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے یہ جوڑ سخت ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے فش پلیٹس بھی ڈھیلی ہو جاتی ہیں جو حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ جب پوچھا کہ ویلڈنگ کرنے کی وجہ کیا ہے تو کہنے لگے کہ نٹ بولٹ والے ٹریک کی باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت کرنا پڑتی ہے اس کے لیے لیبر اور بجٹ درکار ہوتا ہے جبکہ ویلڈنگ سستا ہوتا ہے اور ایک بار کرنے کے بعد جب تک ٹریک میں کریک نہ آئے مرمت کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریک یا پٹڑی کی ویلڈنگ کے لیے ایک خاص مشین آتی ہے جو کہ ایک مخصوص درجہ حرات پر اس کو پروفیشنل طریقے سے ماہر ویلڈر کی نگرانی میں ویلڈ کرتی ہے۔ گزشتہ دو ڈھائی سال سے یہ مشین خراب پڑی ہے جس کی رپورٹ درجنوں بار کی جا چکی ہے لیکن ذمہ داران کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ میرے استفسار پر بتایا کہ آج کل بازار میں موجود عام ویلڈنگ سے ٹریک کو جوڑا جاتا ہے۔ اس کے لیے مخصوص درجہ حرارت کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ویلڈر پروفیشنل ہوتا ہے۔ دوسرے عام ویلڈنگ مشینوں میں وہ صلاحیت ہی نہیں اور نہ ہی ویلڈر اتنے ماہر ہیں کہ ٹریک کو پیشہ ورانہ طریقے سے جوڑ سکیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ٹریک کمزور ہوتا ہے اور حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت بھی سکھر ڈویژن میں 90 فیصد ٹریک ویلڈنگ سے جڑا ہے لیکن اس کی مرمت شاذ ہی کی جاتی ہے۔ جبکہ سکھر ڈویژن میں سگنل سسٹم بھی فعال نہیں، فش پلیٹس بھی چار کی جگہ دو بولٹس پر ہیں ایسے میں حادثات ہی ہوں گے۔

پنجاب اور کے پی میں ٹریک کی باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے حادثات کم ہوتے ہیں۔ پنجاب کی سٹریٹجک پوزیشن اور ریلوے ہیڈ کوارٹر ہونے کی وجہ سے بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی کچھ مقامات پر ٹریک ویلڈنگ سے جوڑا گیا ہے لیکن یہ ویلڈنگ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ اور مخصوص مشین پر کی جاتی ہے اور ٹریک بھی نئے ہیں جن کی باقاعدہ دیکھ بھال کی جاتی ہے جس کی وجہ سے حادثات کم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب بھی نیا ریلوے ٹریک بچھانے، اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بجٹ مانگا گیا تو کہا گیا کہ ML1 منصوبے کی وجہ سے فنڈز ریلیز نہیں کر سکتے۔ اسلام آباد کی پلاننگ ڈویژن اور ریلوے کے اعلیٰ حکام سے بات ہوئی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ منصوبہ شروع ہونے میں ابھی بہت وقت ہے اور اس کی تکمیل تک پانچ سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ اس صورتحال میں نئے ریلوے ٹریک کی تنصیب اور مرمت کا بجٹ روکنا ناقابل فہم ہے۔ اس کی قیمت بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں اور اسلام آباد اور ریلوے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے بابوؤں کے نزدیک شاید انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ سیاستدان اور متعلقہ وزیر بھی اس معاملے سے تمام حواس خمسہ بند کیے بیٹھے ہیں۔ شیخ رشید نے انتہائی سنگدلی سے کہا ہے کہ ان حادثات کا واحد حل ML1 ہے 

یعنی جب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو جاتا حادثات ہوتے رہیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ 5 سال تک مزید ریلوے حادثات کا انتظار کرنے کے بجائے نیا ٹریک بچھانے اور اس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے فنڈز جاری کر دے۔ ایم ایل ون جب بنے گا تو یہی ٹریک لوپ لائنز پر استعمال ہو سکتے ہیں اور انسانی جانوں سے قیمتی کچھ نہیں اگر حکمران سمجھیں تو۔ اعظم سواتی نے تو حادثے میں شہید ہونے والے ورثا کے ساتھ بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرنے والے ان کے استعفا دینے سے زندہ ہو سکتے ہیں تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کی جہالت بارے کیا کہنا وہ جس پارٹی میں ہوتی ہیں اس کا لیڈران کا دیوتا ہوتا ہے۔ اس حادثے بارے ان کے الفاظ دہرائے جانے کے بھی قابل نہیں۔ حیف ہے ایسے وزرا پر اور ان کے چننے والوں پر۔ ریلوے کا ریسکیو نظام دیکھیں حادثہ رات 3 بجے کے آس پاس ہوا لیکن ریلوے کی امدادی ٹیم 7 گھنٹے بعد صبح دس بجے پہنچی۔ 

ٹرین ڈرائیور کے پاس خاصا وقت تھا جب ڈبے پٹڑی سے اترے تو وہ قریبی سٹیشن پر اطلاع دے سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ بچ جانے والے ڈرائیور اور عملے نے میڈیا کو بتایا کہ اس کے پاس کوئی ایمرجنسی نمبر نہ تھا کہ کسی کو اطلاع کرتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر ڈبے میں ایک ایمرجنسی نمبر ہو تاکہ کسی حادثے کی صورت میں مسافر خود بھی اطلاع دے سکیں۔ لیکن ڈھائی سال وزیر رہنے والے شیخ رشید کی زیادہ دلچسپی اپنی وزارت کے بجائے سیاست اور اپوزیشن کے خلاف ہرزہ سرائی میں ہو تو نتائج یہی نکلیں گے۔ سلام ہے جائے حادثہ کے آس پاس گوٹھوں کے بسیروں پر جنہوں نے رات کے اندھیرے میں لال ٹینیں لے کر امدادی کام سر انجام دیے۔ جب تک سرکاری امداد آئی انسانی ہاتھوں سے جتنی مدد ہو سکتی تھی انہوں نے کی۔

ریلوے کی خاتون ترجمان کا یہ حال تھا کہ جب اسں سے مختلف ٹی وی چینلز پر حادثے کے حوالے سے تفصیلات مانگی گئیں تو وہ دونوں ٹرینوں کے مسافروں کی تعداد اور دیگر معلومات فراہم نہ کر سکیں اور تو اور جب ایمرجنسی نمبر پوچھا گیا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگیں۔

حیف ہے سندھ حکومت پر کہ اس کے وزیروں کی فوج ظفر موج یا خود وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گوارا بھی نہ کیا کہ اپنی ٹیم جائے حادثہ پر بھجیں۔ بے شک ریلوے وفاقی محکمہ ہے لیکن حادثہ سندھ کی سر زمین پر ہوا ہے اور ان کے وزرا کو وہاں موجود ہونا چاہیے تھا۔ ویسے تو سیاستدان کیمرے کے سامنے آنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے لیکن جائے حادثہ پر بھی یہ نظر نہ آئے۔ مراد علی شاہ خود تو اسلام آباد میں تھے لیکن وہ اپنی انتظامیہ کو ہدایات تو دے سکتے تھے۔ یقیناً انہیں شرم تو آئی ہو گی جب پنجاب سے ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچی ہوں گی۔ ہر وقت وفاق سے گلے کرنے یا فنڈز کا رونا رونے سے ہٹ کر پنجاب سے سبق لیتے ہوئے ریسکیو2211 جیسا ادارہ ہی بنا لیتے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے سندھ کے خدا ترس سرمایہ داروں کا کہ انہوں نے ایدھی، چھیپا اور اس جیسے دوسرے رفاعی ادارے کھڑے کر دیے لیکن حکومت کے پاس وسائل اور مین پاور بھی ہوتی ہے، مراد علی شاہ صاحب اس طرف بھی توجہ دیں۔ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کو بھی وزیراعظم نے جائے حادثہ پر بھیجا۔

………………

بالآخر حامد میر کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اس کا سارا کریڈٹ اسلام آباد پریس کلب کے صدر شکیل انجم، صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ عامر سجاد سید اور پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ کو جاتا ہے۔ حامد میر نے بھی بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور اپنے رویے پر معذرت کر لی۔ اب دوسرے فریق اور اس کے ادارے کو بھی چاہیے کہ بڑے پن کا مظاہرہ کرے۔

………………

آخر میں کموں شہید… کموں شہید سندھ دھرتی کا ایک حریت پسند تھا۔ کموں شہید سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر سندھ کے اندر پہلا شہر ہے۔ جبکہ کوٹ سبزل پنجاب کا آخری شہر ہے۔ کوٹ سبزل سے کموں شہید داخل ہوں تو دوسری طرف کی دنیا ہی اور ہے لیکن اپنے لوگوں کی حالت زار میں زیادہ قصور سندھ کے حکمرانوں کا ہی ہے۔ 

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر