ضرورت ہے افغانستان کو احمد شاہ ابدالی کی
10 جون 2021 (11:38) 2021-06-10

افغانوں کو خدشہ ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ان کے ملک کو سٹرٹیجک گہرائی سمجھ کر ڈیل کرنا نہ شروع کر دے… پاکستان میں لمحہ موجود کے اندر یہ خوف شدت کے ساتھ پایا جا رہا ہے کہ امریکی ان کی فوجی اور سول حکومت پر دبائو بڑھا رہے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ پھر فوجی اڈے دے دیئے جائیں جن کے ذریعے وہ ملک افغاناں کو خالی کرنے کے بعد بھی کنٹرول کر سکیں جبکہ امریکہ کے اندر یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے اگر افغانستان کو واقعی اکیلا چھوڑ دیا گیا تو طالبان سرزمین وطن پر غلبہ حاصل کر لیں گے… اس صورت میں اگر طالبان کی بالادستی تسلیم نہ کرنے والے دوسرے افغان گروہ مقابلے پر اٹھ کھڑے ہوئے تو ایک نئی قسم کی خانہ جنگی بھی جنم لے سکتی ہے… مزیدبرآں امریکیوں کو طالبان کی اس یقین دہانی پر زیادہ اعتبار نہیں کہ ان کے تسلط والے افغانستان میں داعش اور دوسری مسلح تنظیمیں دوبارہ زور نہیں پکڑیں گی… ان تینوں امکانات کو سامنے رکھیں جو ملک افغاناں کے موجودہ تناظر میں اپنی اپنی جگہ قوی نظر آتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے آنے والا دور سب سے بڑا اور قریب ترین ہمسایہ ملک ہونے کی بنا پر پاکستان کے لئے سخت آزمائش اور کڑے امتحان کا باعث ثابت ہو گا… خاص طور پر ایسی صورت حال میں جبکہ کسی کو معلوم نہیں کہ ہمارے ملک میں اصل حکمرانی فی الواقع کس کے پاس ہے؟ یعنی حتمی فیصلے کرنے کی طاقت فوج یا سول انتظامیہ میں سے کون رکھتا ہے… عمران خان کو اگرچہ دعویٰ ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی بڑا اقدام نہیں لیا جا سکتا لیکن حقائق ہیں کہ کھلے منہ کے ساتھ اس کے برعکس اعلان کرتے نظر آ رہے ہیں… خاص طور پر سٹرٹیجک معاملات کی باگ ڈور مکمل طور پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دستِ قدرت میں ہے… انہوں نے جو بھی مشاورت کرنی ہے ظاہر ہے کور کمانڈرز کے اجلاس میں کرتے ہوں گے… منتخب پارلیمنٹ کو ان معاملات میں کم ہی زحمت دی جاتی ہے… اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور بہت سے خدشات بھی تقویت پکڑ رہے ہیں جب حکومت کے دو چہرے ہوں تو سخت ترین دبائو کی صورت حال میں حتمی اور اپنے عوام کو پورے اعتماد میں لے کر جرأت مندانہ فیصلے کون کرے گا… عوام کی آواز کون بنے گا… امور ریاست کا حقیقی ترجمان کون ٹھہرے گا… امریکہ پاکستان میں ایک یا زیادہ فوجی اڈے چاہتا ہے لیکن اس ضمن میں وہ حسب سابق ہماری سول قیادت پر اعتماد کرتا ہے نہ اسے اس قابل گردانتا ہے کہ اس کہے ساتھ مل کر پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ پر بری طرح اثرانداز ہونے والے ایسے کسی فیصلے کی تفصیلات طے کرے…

اس نے 1958 میں ہمارے پہلے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کے مارشل لا کی اسی لیے حوصلہ افزائی کی تھی کہ پشاور میں بڈابیر کے مقام پر خفیہ جاسوسی ہوائی اڈہ قائم کرنے میں اس کی براہ راست مدد اور تعاون حاصل کرے کیونکہ تب بھی آج کی مانند امریکہ کے پالیسی سازوں کے اندر یہ خیال پایا جاتا تھا کہ پاکستان کی کمزور ترین منتخب پارلیمنٹ بھی اس کی کھل کر حمایت نہیں کر سکے گی… اسی طرح 9/11 کے بعد جب امریکہ نے ہمارے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران ڈرون جاسوسی طیاروں کے لئے الشمسی وغیرہ ہوائی اڈے حاصل کیے تو امریکیوں کو یقین تھا کہ اگر پاکستان کے اندر کوئی سول حکومت ہوتی جو معمولی درجے پر بھی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی تو اس سے اس طرح کا 

تعاون حاصل کرنا چنداں ممکن نہ تھا… آج اگرچہ ایک سول حکومت موجود ہے… پارلیمنٹ بھی اپنا وجود رکھتی ہے لیکن اس کے متوازی ہماری فوجی قیادت کی طاقت اور اختیار بھی کہیں زیادہ ہے… اسی لیے امریکی فوجی اڈوں کے مسئلے پر عمران حکومت کی وزیراعظم سے لے کر وزیر خارجہ و وزیر دفاع اور سیکرٹری خارجہ تک کسی سے بھی بات کرنے کے روادار نظر نہیں آتے… ان کی براہ راست ملاقاتیں، مشاورت اور جتنا بھی دبائو ڈال سکتے ہیں وہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان خفیہ اور ظاہری مذاکرات کی شکل میں چل رہا ہے… سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ولیم برنز نے اسلام آباد کا خاموش دورہ کیا ہے اور امریکی وزیر دفاع ڈیوڈ ہالوے نے ہمارے آرمی چیف کے ساتھ ٹیلیفون پر اسی موضوع کے حوالے سے بات چیت کی ہے… سول حکومت کے کسی بڑے یا چھوٹے نمائندے کو اہمیت نہیں دی گئی… معلوم نہیں یہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی افواہ ہے یا خبر عمران خان صورت حال پر سخت رنجیدہ ہیں… انہوں نے اس ضمن میں امریکی حکومت کے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کسی نمائندے سے بات چیت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ امریکہ کے صدر جوزف بائیڈن اس سلسلے میں ان کے ساتھ براہ راست مشاورت کیوں نہیں کرتے جس کا ابھی تک واحد سپر طاقت کے فرماروائوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا… یہ صورت حال خود کو ایک خودمختار اور آزاد مملکت کہنے والی ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے لئے جتنی توہین آمیز ہو سکتی ہے اس کے بارے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے کہ امریکی اپنا اُلو بھی سیدھا کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ یعنی عسکری قیادت کے ساتھ کرنا چاہیں گے… سول حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ بھی اہمیت دی گئی تو اتنی ہو گی کہ انہیں آخری فیصلے کو کسی خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اس پر ٹھپہ لگانے کی رسمی مہلت دے کر دکھاوے کی کارروائی کر دی جائے گی… 

جہاں تک سٹرٹیجک گہرائی کا تعلق ہے تو اگرچہ پاکستان کی جانب سے علانیہ کہہ دیا گیا ہے کہ 80 ء اور 90ء کی دہائیوں کے برعکس ہماری اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی اور شاید وہاں کا مؤثر ترین گروہ طالبان اس پر یقین بھی کر لے گا لیکن وہاں کی غیرپختون آبادی کے جو نمائندے ہیں مثلاً ازبک تاجک اور شیعہ وغیرہ اور جن کا تناسب 48 فیصد سے کم نہیں اس کے ساتھ وہ افغان قوم پرست بھی جن کے بل بوتے پر اشرف غنی کی حکومت قائم ہے مسلسل ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکیوں کے انخلا کے بعد والے آزاد افغانستان میں اگر طالبان کی طاقت نے جڑیں پکڑ لیں تو پاکستان ان کے ساتھ اپنے دیرینہ ظاہری اور خفیہ تعلقات کی بنا پر سٹرٹیجک گہرائی والے پرانے خواب کی تعبیر دیکھنا شروع کر دے گا… لہٰذا ریاست پاکستان کے کارپردازوں کے لئے امر لازم ہے کہ وہ ان عناصر کے ساتھ جو بہرصورت افغان قوم کے قابل لحاظ تناسب کی نمائندگی کرتے ہیں براہ راست اور گہرے اعتماد والے تعلقات کو ابھی سے استوار کرنا شروع کر دے اور انہیں یقین دلانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جائے کہ پاکستان اس حوالے سے کسی نوعیت کی منصوبہ بندی رکھتا ہے نہ ارادہ… مجھے افغان جہاد کے دوران کم از کم پانچ مرتبہ افغانستان کے شمال اور جنوب یعنی طورخم کی سرحد سے لے کر دریائے آمو (ماورائے النّہر) تک جانے اور پختونوں کے علاوہ ازبک اور تاجک آبادیوں کے نمائندوں یا یوں کہہ لیجیے کہ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار اور حقانی گروپ کے لوگوں کے علاوہ جمعیت اسلامی کے پروفیسر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مرحوم کے ساتھیوں سے ملنے اور تبادلہ خیال کرنے کا بار بار اتفاق ہوا اس کے علاوہ 12 دسمبر 1992 کو سابق سوویت یونین کے بکھر جانے کے فوراً بعد میں ماسکو میں گیارہ روزہ قیام کے بعد آزاد ازبکستان اور آزاد تاجکستان کے دورے پر بھی گیا… ہر مرتبہ واپسی پر میرا یہ خیال یقین میں بدلتا چلا گیا کہ جب تک افغانستان کی چار بڑی آبادیوں یعنی پشتون (جن میں آج کے طالبان اور شاہ افغانستان کے عہد کے قوم پرست دونوں شامل ہیں) تاجکوں، ازبکوں اور اقلیتی شیعہ آبادی کے نمائندوں کے درمیان افغانستان کے پائیدار امن کے حامل مستقبل کے بارے میں کوئی حقیقی اور قابل عمل فیصلہ نہیں ہو جاتا وہاں پر امن قائم نہیں ہو سکے گا … دوسرے الفاظ میں آج کی افغان قوم کو عہد جدید کے احمد شاہ ابدالی کی ضرورت ہے جس نے اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میں مختلف قبائل اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افغانوں میں اتحاد اور ملّی یکجہتی کا جذبہ ابھار کر انہیں باقاعدہ ایک قوم اور متحدہ ملک کی صورت میں اکٹھا کر دیا تھا… پاکستان کی مشکلات بھی اپنے ہمسایہ ملک کے حوالے سے اس وقت دور ہوں گی جب ہم ایک متحدہ افغان قوم کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے قدم بڑھائیں گے…


ای پیپر