حادثے اور مسخرے!
10 جون 2021 2021-06-10

ریلوے کے حالیہ حادثے پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا، ایک بار افغانستان کے ایک وزیر پاکستان کے دورے پر آئے، پاکستان کے اُس وقت کے وزیرخارجہ نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے اُن کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا ”سریہ افغانستان کے وزیرریلوے ہیں،“....نوازشریف نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا” افغانستان میں تو ریلوے ہی نہیں ہے، آپ پھر وزیر ریلوے کیسے ہوگئے ؟“....وہ بولے”سر آپ کے ہاں بھی تو وزیر قانون ہوتا ہے“.... اب اعظم سواتی کا وزیر ریلوے ہونا ایسے ہی ہے جیسے پاکستان میں ریلوے کا محکمہ ہی نہیں ہے اور سواتی صاحب صرف جائز ناجائز مراعات کا سوادلینے کے لیے وزیر بنے ہوئے ہیں۔ اُصولی طورپر اُنہیں”وزیر مالیات“ ہونا چاہیے تھا ریلوے کا اُنہیں تجربہ صرف اتنا ہے کہ ریلوے کا اُنہوں نے نام سنا، ہوا ہے، اپنی زندگی میں شاید ہی کسی ٹرین میں اُنہوں نے کبھی سفر کیا ہوگا، .... ویسے مجھے جب نواز شریف اور افغانستان کے وزیر ریلوے کے درمیان ہونے والا مکالمہ کسی نے سنایا مجھے بڑی حیرت ہوئی نواز شریف کو یہ کیسے معلوم تھا افغانستان میں وزیر ریلوے نہیں ہوتا؟، البتہ اگر وہ یہ کہتے افغانستان میں سری پاوے نہیں ہوتے، کھدیں اور زبانیں نہیں ہوتیں، آلوگوشت نہیں ہوتا یا ہریسہ اور بونگ وغیرہ نہیں ہوتے، تب مجھے شاید اُن کی اِن معلومات پر ذرا حیرت نہ ہوتی، .... جناب نواز شریف کی افغانستان کے ریلوے کے بارے میں معلومات پر میری حیرت کی ایک وجہ ایک اور واقعہ ہے، کہتے ہیں ایک بار وزیراعظم کی حیثیت میں وہ اپنے وزیراطلاعات شیخ رشید کے ساتھ بذریعہ موٹروے اسلام آباد سے لاہور آرہے تھے، راستے میں اچانک شیخ رشید کی رگِ خوشامد پھڑکی، وہ اُن سے کہنے لگے ”میاں صاحب آپ اِس دورکے شیر شاہ سوری ہیں“ ....میاں صاحب نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھا اُن سے پوچھا ”کون ہے یہ شیر شاہ سوری؟ اِس کا نام میں نے پہلے بھی کہیں سُنا ہے“ ....شیخ رشید نے اُنہیں بتایا ”سر یہ وہ شخص تھا جس نے برصغیر میں سڑکوں کے جال بچھا دیئے تھے“۔ ....میاں صاحب بولے ”اچھا پھر تو بڑا”کمیشن“ بنایا ہوگا اُس نے “....سابقہ حکمرانوں نے جتنا کمیشن بنانا تھا یا کھانا تھا وہ کھاچکے، اب موجودہ وہ حکمرانوں کی باری ہے، پاکستان ایسا بدقسمت ملک ہے جہاں لوگ صرف کمیشن بنانے اور کھانے کے لیے ہی حکمران بنتے ہیں، جو کمیشن نہ بنائے، مال نہ کھائے، اُسے اپنے ”حکمران“ ہونے پر شبہ ہونے لگتا ہے، موجودہ وزیراعظم عمران خان یقیناً کمیشن نہیں کھارہے، نہ مال بنا رہے ہیں، مگر اُن کی ناک کے نیچے جو کچھ ہورہا ہے خصوصاً پنجاب میں کرپشن کے جو بازار اور منڈیاں تقرریاں تبادلوں کے ضمن میں چوبیس گھنٹے بغیر کسی وقفے کے کھلی ہیں اُس کا تفصیلی حال اگلے روز ہمارے صحافی بھائی قیصر کھوکھر نے کُھل کھلا کر لکھ دیا ہے، میرا خیال تھا قیصر کھوکھر نے جن افسروں کے نام لے لے کر اُنہیں ننگا کیا ہے وہ اپنی ”کردار کشی“ پر ضرور عدالتوں سے رجوع کریں گے، یا دیگر کسی فورم پر ضرور اپنی صفائی پیش کریں گے۔ اِس حوالے سے مگر ایسا سکوت طاری ہے جی چاہتا ہے قیصر کھوکھر کو خراج تحسین پیش کروں۔ اُنہوں نے حقائق سے پردہ اُٹھا کر ہم جیسے ”نام نہاد بہادر و دلیر قلم کاروں“ کے منہ پر باقاعدہ ایک طمانچہ مارا ہے جو تعلقات بنانے اور نبھانے کے چکر میں افسروں وحکمرانوں کی کرپشن کے تمام تر شواہد موجود ہونے کے باوجود اُنہیں منظر عام پرنہیں لاتے، .... ریلوے میں تو بارہا ہونے والے ”حادثے“ اِس محکمے کے وزیر کی نااہلی سامنے لے آتے ہیں، پر یہاں تو ہرشاخ پر اُلو بیٹھا ہے۔ جن محکموں میں کوئی ایسا حادثہ نہیں ہونا جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہواُن محکموں میں سب سے بڑا ”حادثہ“ یہ ہوتا ہے اُن کے سربراہان انتہائی نکمے اور کرپٹ ہوتے ہیں، ابھی آج میں کسی اخبار میں پڑھ رہا تھا ” وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ریلوے کے کرپٹ عناصر کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا “.... اِس ”جہاد“ کا امکان حالیہ حادثے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، یعنی یہ حادثہ اگر نہ ہوتا جہاد بھی نہ ہوتا، وزیرریلوے جہاد بھی ویسا ہی کریں گے جیسا ہمارے محترم وزیراعظم خالی باتوں اور بہانوں سے مسلسل کرتے جارہے ہیں، .... اعظم سواتی کے ریلوے کے کرپٹ عناصر کے خلاف جہاد کے صرف اعلان پر مجھے اپنے مرحوم دوست دلدارپرویز بھٹی یاد آگئے، جنرل ضیاءالحق کے دوراقتدار میں ہماری ”اسلامی پولیس“ لوگوں کو سڑکوں پر لگے ناکوں پر روک کر اُن کے منہ سونگھا کرتی تھی کہیں کسی نے شراب تو نہیں پی رکھی؟۔ ایک رات راوی پر لگے ناکے پر دلدار بھٹی کو روکا گیا، سب انسپکٹر اندھیرے میں اُنہیں پہچان نہ سکا، اُس نے دلدار بھٹی سے کہا ”گاڑی سے باہر آﺅ“ .... دلدار بھٹی باہر آیا سب انسپکٹر بولا ”منہ سُونگھا“ .... دلدار بھٹی نے کہا ” پہلاں تُوں سُونگھا“ .... سب انسپکٹر نظریں جھکاکر بولا ”چل جا “.... ہمارے وزیر ریلوے نے اعلان تو بڑے فخر سے کردیاہے وہ ریلوے کے کرپٹ عناصر کے خلاف جہاد کریں گے“۔جواباً ریلوے کے کرپٹ عناصر نے بھی اُن کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا، پھر وہ کیا کریں گے؟،.... اگلے روز میں حکومت پنجاب کی ”جپھیاں پپیاں نیم ترجمان“ بی بی فردوس عاشق اعوان کی ایک پریس کانفرنس سن رہا تھا، وہ عورتوں کی ”قائم علی شاہ“ بنتی جارہی ہیں، بلکہ بے تکی باتیں کرنے میں سائیں قائم علی شاہ سے بھی آگے نکلتی جارہی ہیں، اُنہیں یہ ادراک بھی نہیں ”بولنے کی کوئی حدہوتی ہے بکنے کی کوئی حد نہیں ہوتی“۔ ریلوے کے حالیہ حادثے پر اُنہوں نے فرمایا ” اللہ کے فضل سے اِس سال ہماری حکومت میں ریلوے کا یہ پہلا حادثہ ہے“ ....اُن کا ترجمان ہونا بھی اصل میں اِک ”حادثہ“ ہی ہے، اِس ”حادثے“ کوبھی وہ ”اللہ کا فضل“ ہی قرار دیتی ہوں گی، اُن کی حالت میرے اُس دوست جیسی ہے جس سے ایک بار میں نے پوچھا ”خیر سے کتنے بچے ہیں آپ کے ؟“۔وہ بولا ” اُوپر والے کی مہربانی سے دس بچے ہیں میرے“....فردوس عاشق اعوان نے جس واقعے بلکہ جس سانحے کو ”اللہ کا فضل“ قرار دیا ہے اُس کے نتیجے میں موجودہ حکومت کے ہم جیسے خیرخواہوں کو اب یہ دعا کرنی چاہیے اللہ اِس حکومت پر اپنا فضل اب تھوڑا کم کردے۔....مجھے تو ڈر ہے کسی روز فردوس بی بی ” سلپ آف ٹنگ“ کے نتیجے میں اُس شخص کو ”اللہ کا عذاب“ قرار نہ دے دیں جس کی وہ ترجمان ہیں !! 


ای پیپر