file photo

ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈبلیو ایچ او کے خط کا جواب دیدیا
10 جون 2020 (11:32) 2020-06-10

اسلام آباد: معاون خصوصی صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈبلیو ایچ او کے خط پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندگیاں بچانے اور زندگی کے لئے معاش کے درمیان بیلنس رکھنے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

ہم نے لاک ڈاون میں نرمی کے ساتھ ایس او پیز پر فوکس کیا، دکانوں، انڈسٹریز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے ایس او پیز بنائے۔ حکومت پاکستان نے کورونا سے لڑنے کی مؤثر اسٹریٹجی بنائی، عوام کو وبا سے بچانے کے لئے ہر ممکن فیصلے کئے۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی کے ماتحت این سی او سی کا قیام عمل میں لائی، جس میں روزانہ اجلاس ہوتے ہیں اور این سی او سی ٹیکنیکل ایکسپرٹس کی مدد سے ہر لمحہ بدلتی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔ این سی او سی صوبوں سے ملکر این سی سی کے لیے سفارشات تیار کرتا ہے۔

گزشتہ روز ڈبلیو ایچ او کے خط میں کہا گیا تھا کہ کورونا سے متعلق ایس او پیز پر سختی سے عمل نہيں ہو رہا۔ جس کیلئے پنجاب حکومت کو سخت فیصلے لینے کی تجویز دی تھی۔

خط میں کہا گیا کہ ہاٹ اسپاٹ علاقوں کو لاک ڈاؤن کرنا جبکہ صحت کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔ صوبے میں دو ہفتے کا لاک ڈاؤن اور دو ہفتے نرمی کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ ٹیسٹنگ کی صلاحیت روزانہ 50 ہزار تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔


ای پیپر