ایک نظر پنجاب پولیس پر
10 جون 2020 2020-06-10

مطالبہ ہے کہ جو پولیس افسر یا اہلکار فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، انہیں شہید لکھا اور پکارا جائے ۔ میڈیا خواہ پرنٹ ہو یا الیکڑانک جام شہادت نوش کرنے والے وطن کے ان سپوتوں کو ہلاک یا جاں بحق لکھتا اور بولتا ہے ۔تو نہ صرف پوری فورس بلکہ ان کے لواحقین اور دوست احباب دل کے آنسو روتے ہیں اور اسے امتیازی سلوک قرار دیتے ہیں ۔اس محکمہ کے ذمہ داروں کی طرف سے استدعا ہے کہ جام شہادت نوش کر جانے والے افسروں اور اہلکاروں کو شہید کے درجے پر ہی رکھیں ورنہ یہ اس خون کے ساتھ نا انصافی ہو گی جو راہ حق میں گرا ۔جو انمول ہے اور جس نے دھرتی ماں پرسلگتی جرائم کی اس آگ پر قابو پانے کی اپنے تئیں کوشش کی جسکی لپیٹ میں ہم ہیں اور اس کی تپش سے ہماری زندگیاں اجیرن ہیں ۔شہادت کے درجے کی ہم دنیاداروں سے طلب ۔۔۔۔ معاملہ ہماری سمجھ سے دور ہے لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ احادیث کی روشنی میں ہمارے یہ جوان جو اپنی جانیں قربان کر کے اپنے خون سے اس پاک مٹی کی پیاس بجھاتے ہیں وہ شہید ہی ہیں ۔رہا اس کا اجر تو وہ خالصتا اللہ کا معاملہ ہے ۔ہم جیسے انسان نہ یہ اجر دے سکتے ہیں نہ اللہ کے عطا کردہ شہادت کے رتبے کو چھین سکتے ہیں ۔صڑف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہلاک یا جاں بحق کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے تو اس غلطی کو درست کر لینا چائیے۔شہید کا لفظ ہی انکے لئے موزوں ہے ۔اس ایک لفظ سے پوری پولیس فورس کا مورال بلند ہوگا اور معاشرے میں بھی انکا وقار بلند ہوگا ۔ہمارے پولیس کے جوان کسی بھی طرح اپنے شہریوں کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔اس ضمن میں گزارش ہے کہ میڈیا ہاﺅسز ،پیمرااور پریس ریلیز جاری کرنے والے ادارے ڈی جی پی آر احتیاط کریں اور اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہے تو وہ بھی کر لی جائے ۔

ہمارے سامنے اس وقت ایک خط ہے جس میں پولیس ملازمین نے حکام بالا کے سامنے چند سوالات رکھے ہیں ۔ایک یہ کہ کرونا سے شہید ہونے والے پولیس آفیسرز اور ملازمین کو شہادت کے منصب پر فائز کرنے کے لئے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے ۔

دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ فرائض منصبی کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہیدوں کے ورثا کو شہید پیکج دیا جائے ،یہ پیکج 3یوم کے اندر بذریعہ نوٹیفکیشن قابل عمل بنایا جائے ۔

تیسرا یہ کہ تنخواہ اور دیگر مراعات جاری رکھی جائیں انہیں ایک دن کے لئے بھی بند نہ کیا جائے ۔

چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ شہید کی جگہ پر اسکی فیملی کے کسی فرد کو بھرتی کیا جائے ،اگر بیوہ خود ملازمت اختیار کرنا چاہے تو جس کے بچے ابھی نابالغ ہیں یاتعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے تو اس کے لئے ملازمت کی شرائط جس میں عمر کی حد،تعلیم وغیرہ شامل ہیں چھوٹ دی جائے ۔فیملی کلیم سیٹ شہدا پیکج کی وصولی سے ایک ماہ کے اندر لازمی شہید کے ورثا کو مل جائے ۔

اب اگر ان مطالبات پرہمدردی سے غور کیا جائے تو یہ بھی کسی طور ناجائز دکھائی نہیں دیتے اس لئے کہ ”جس تن لاگے سو تن جانے کیا جانے تن پرایا“جس خاندان کا کفیل ہی نہ رہے اس کی آب پاری جاری رکھنا محکمہ اور ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ان چراغوں کو روشن رکھنے کے لئے ایندھن کی سپلائی کی فراہمی ہمارا فرض ہے انہیں کسی طور بجھنا نہیں چائیے نہ انکی لو کم ہونی چائیے ۔یہ شہید کے خون کی قیمت نہیں بلکہ اس کی عظیم قربانی کا اعتراف ہے ۔ہمیں ا س خاندان کو مصیبت زدہ بننے سے بچانے کے لئے پوری کوشش کرنی چائیے ،لہذاان مطالبات پر ارباب اختیار ہمدردانہ غور کریںاور اس ضمن میں مثبت لائحہ عمل اختیار کریں۔ہماری پولیس فورس کا مورال کو بلند کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔

میرے سامنے گوجرانوالہ پولیس کے سب انسپکٹر زین العابدین کا معاملہ بھی آیا ہے جو شوکت خانم اسپتال میں کینسر کے علاج کی غرض سے داخل رہا اور بالآخر اسی موزی مرض کا شکار ہو گیا ۔زین العابدین کو جب وہ بستر مرگ پر پڑا موت و حیات کی جنگ لڑ رہا تھا تو اسے نوکری سے برطرف کر دیا گیا ۔نوکری سے فراغت کی وجہ اسکی جانب سے میڈیکل سرٹیفکیٹ فراہم نہ کرنا بنا ۔لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ زین جب اپنی بیماری سے نڈھال ،لاغر ہو چکا تھا تو افسران بالا نے اس کی طلبی فرمائی ،وہ افسر کے دربار حاضری نہ دے سکا اور پھر جو افسر کرتے ہیں ،ایس پی سول لائن عثمان بٹ جن کے پاس پولیس ہیڈ کوارٹر کا اضافی چارج بھی تھا اس افسر نے بھی زین العابدین کومحکمے سے برخاست کر دیا ، اس افسر نے اسکی موذی مرض کو عدم حاضری کا جواز ہی تسلیم نہیں کیا ۔ زین جو محکمہ پولیس کا سپوت تھا اپنی بیماری کے ساتھ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا صدمہ لئے راہی عدم ہو گیا ۔محکمہ کے کسی افسر کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ خود جا کر یا کسی ماتحت کو بھیج کر شوکت خانم اسپتال سے تصدیق کر لیں کہ زین العابدین واقعی کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ لڑ رہا ہے یا بہانہ بیماری کر رہا ہے ۔اس کی مدد کرنے کے ایسے موقع پر جب نجانے اس کے لواحقین بیماری کے علاج کے بھاری بھرکم اخراجات کیسے برداشت کر رہے ہیں ۔اس کے بچے کھانا بھی کھاپاتے ہیں یا نہیں ۔انکی تعلیم بھی جاری ہے یا نہیں ۔اس کی ملازمت کو ختم کر دینا کسی طور بھی انصاف نہیں ۔حالانکہ محکمہ کے پاس ملازمین کے لئے کروڑوں روپے کے ویلفیئر فنڈز ہوتے ہیں اور بیماری ہو یا کوئی ناگہانی دوسری صورتحال ان فنڈز سے ملازمین کی معاونت کرنا افسران بالا کا اختیار بھی ہے اور فرض بھی ۔سرکار کی طرف سے ملازمین کی تجہیز و تکفین کے لئے بھی فنڈز ہیں مگر زین کے لواحقین ان تمام مراعات سے بھی محروم کر دئیے گئے ۔بعض اوقات قدرت کا امتحان بڑا کڑا ہوتا ہے ۔اب اس کیس میں یہ امتحان زین پر تھا یا اسکے افسروں کا ۔۔۔۔یہ افسروں کو ہی سوچنا ہے کہ انہوں نے یہ کیا کیا ہے جبکہ افسر شاہی اپنی عیاشیوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے ایسے ہی فنڈز کا سہارا لیتی ہے جبکہ تھانہ جات کی عمارتیں بوسیدہ ، ٹپکتی چھتیں ہیں یہی نہیںبلکہ پولیس ملازمین کے نصیب میں دفتری فرنیچر ہے نہ ہی اچھی بیرکس جہاں صاف ستھرا بسترا تک دستیاب ہوسکے اورافسروں نے اپنے اپنے دفتر عالیشان بنا لئے ہیں ،چھوڑو چچا پوڑھے حوالدار یہ ایک لمبی بحث ہے ۔اور پھر بوڑھے چچا حوالدار حسب معمول کچھ دیر سوچ میں گم رہنے کے بعد اچانک تلملا کر بولے ۔۔۔۔ان افسروں کی کیا بات کرتے ہو ،ان کے نزدیک ہم اہلکار کچھ اہمیت نہیں رکھتے ،فنڈز ہونے کے باوجود ہمارا ایک پیٹی بند اسپتال میں بے یارو مددگا جان کی بازی ہار گیا ۔وہ تو گیا ان افسروں سے پوچھیں انہیں کیا ملا،انہیں تو اتنی توفیق نہیں کہ اس کی بیوہ ،اور یتیم بچوں کے سر پر کفالت کا ہاتھ رکھ دیں اور اسے سروس پر بحال کر کے لواحقین کو مراعات دیدیں ۔ہوسکتا ہے اسکے بچوں میں کوئی ایسا نکل آئے جو اپنے والد کی جگہ بھرتی ہو اور اس محکمے کا نام روشن کر دے کیونکہ شیراں دے پتر ای شیر ہوندے نیں!

وزیر اعظم صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب صاحب کو بھی اس جانب توجہ دینی چائیے کیونکہ باز پرس تو آخر میں انہی حکمرانوں کی ہونی ہے اور وہ بھی اللہ پاک کی عدالت میں ۔۔۔پھر کیا بنے گا؟ ۔۔۔انہیں سوچنا چائیے ۔


ای پیپر