اگر پٹاکہ چل گیا تو ؟
10 جون 2020 2020-06-10

قارئین محترم ، پچھلی دفعہ میں آپ سے ذکر کر رہا تھا، کہ حضرت عمر فاروقؓ کے مدینہ شریف اور اہل مدینہ منورہ کے بارے میں کیا نظریات تھے اب اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض ہے، کہ عرصے سے محدثین فقہا اور علماءاور مورخین کے مابین یہ معرکتہ الآرا بحث مسلسل جاری ہے کہ حرمین شریفین میں سے افضلیت کس شہر کو حاصل ہے؟

بعض عمائدین کے نزدیک مکہ معظمہ کو اور بعض مدینہ منورہ کو افضل قرار دیتے ہیں۔

امام ابی محمد علیؓ تحریر فرماتے ہیں، کہ حرم مکہ مکرم اور اس کی حدود سمیت اللہ تعالیٰ کے تمام شہروں سے افضل ہے، اس کے بعد مدینہ منورہ کو فضلیت حاصل ہے، اور اس کے بعد اقصیٰ کو حاصل ہے، جبکہ امام مالکؓ کے نزدیک مدینہ منورہ ، مکہ معظمہ سے بھی افضل ہے،

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول پاک نے حجتہ الوداع کے موقع پر صحابہ کرامؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا ، کیا تمہیں معلوم ہے، کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے، ہم سب نے جواب دیا، آج کا دن پھر، ارشاد ہوا سب سے زیادہ حرمت والا شہر کون سا ہے، تو ہم نے عرض کیا ہمارا یہ شہر مکہ

حضور کے ارشاد کے جواب میں صحابہ کرامؓ نے مکہ معظمہ کو تمام شہروں سے زیادہ حرمت والا قرار دیا، اس پہ مہر تصدیق ثبت کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے، مگر سیدنا فاروق اعظمؓ، امام مالکؓ اور بعض علماءکے بلکہ ان کی اکثریت مکہ معظمہ پر مدینہ منورہ کی افضیلت کے قائل ہیں۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے ، کہ رسول پاک نے فرمایا کہ میری مسجد میں ایک نماز ادا کرنا ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے باقی مساجد کے مقابلے میں ، مگر مسجد حرام میں نماز ، میری مسجد سے بھی ایک سو گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ لیکن امام مالکؓ اور ان کے اصحاب تفیضل مدینہ کے قائل ہیں، اور سند کے طور پر حدیث مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں ”میری قبرشریف اور میرے منبر شریف کے درمیان کا حصہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔

جبکہ ابی سلمہؓ ایک اور حدیث کے مطابق فرماتے ہیں ، کہ حضور کا فرمان ہے، کہ جو انہوں نے مکہ معظمہ میں حزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ خدا کی قسم بے شک تو اللہ تعالیٰ کی زمین میں سب سے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا جاتا۔ تو میں تجھے ہرگز نہ چھوڑتا۔

محدث جلیل علامہ علی بن سلطان ، اور مالکیہ کے نزدیک مدینہ منورہ مکہ معظمہ سے افضل ہے۔ کیونکہ حضور نے فرمایا کہ روئے زمین پر مدینہ منورہ کے سوا کوئی ایسا خطہ نہیں، جس میں مجھے دفن ہونا پسند ہو۔

اور یہ بھی آپ کا فرمان ہے، کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو، یعنی اس کے وسائل ایسے ہوں، کہ وہ مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کر سکے، تو وہ خوش نصیب قیامت کے دن میری شفاعت اور شہادت با سعادت سے مشرف ہو گا، ارشاد مبارک ہے، کہ مدینہ منورہ میری ہجرت گاہ ہے اور اسی خاک پاک سے میں قیامت کے دن اٹھایا جاﺅں گا، لہٰذا امت کا یہ حق ہے، کہ وہ میری ہمسائیگی اختیار کرے، اگر پڑوس میں رہ کر گناہوں سے اجتناب کرے، تو میں قیامت کے دن ان کے لئے شفیع اور گواہ بنوں گا۔

اس کے علاﺅہ فرمایا، کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکلیف اور مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے گا، تو قیامت کے دن، اس کے حق میں گواہی دونگا، اور شفاعت کروں گا۔

قارئین، یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں ، ایک تو یہ کہ امت مسلمہ میں ہر ایک مسلمان کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہوتی، کہ وہ مدینہ پاک میں ہجرت کر جائے، اور دوسرے یہ کہ مدینہ پاک جانے والا ہر شخص مسلمان نہیں ہوتا۔

سیدنا فاروق اعظمؓ سے مروی ہے، کہ حضور نے فرمایا، کہ جو شخص مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں فوت ہوا، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے رکن والے لوگوں میں اٹھائیں گے، اور یہ کہ قیامت کے دن جسے سب سے پہلے میری شفاعت کا شرف حاصل ہو گا، وہ مدینہ منورہ کے لوگ ہوں گے، اس کے بعد اہل مکہ اور پھر طائف والوں کی شفاعت کی جائے گی، ہم مسلمانوں کے لئے حضور کا یہ فرمان اور ان کی یہ تمنا ، کہ سفر آخرت کے لئے وہ مدینے پاک کی سرزمین کو پسند کرتے ہیں ، ہمارے لئے سکون ، طمانیت اور مقام انبساط ہے ، کہ ہم اگر مدینہ پاک میں دفن نہیں ہو سکتے، مگر یہ آرزو کتنی خوش کن ہے ، کہ ہم حضور کے امتی ہیں، اسی لئے تو سربسجور ہو جاتے ہیں ، اور بقول نیر

مجھے کہ ادنیٰ نظر آتی ہے یہاں خلا بریں

سوئے کعبہ تریے قدمین میں سجدہ کرتے

دیر ظلمات میں آیا وہ سویرے کرتے

ایک بے سایہ کو دیکھا گیا سایہ کرتے !

ایک مرتبہ جنت البقیع میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی، وہاں بانی ریاست مدینہ بھی موجود تھے، اسی اثناءمیں ایک صاحب آئے ، اور قبر دیکھ کر کہنے لگے، یہ کیسی بری جگہ ہے، آپ کو اس کی بات ناگوار گزری، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم نے کیسی بری بات کہی ہے، غالباً آپ کو مرادیہ تھی ، کہ مومن کی قبر تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے۔ اس نے عرض کی یارسول اللہ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کی موت اپنے گھر میں ہوئی ہے، انہیں اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش کرنا چاہئے تھا، حضور نے تین مرتبہ فرمایا ، کہ شہادت کے برابر تو کوئی چیز نہیں ہو سکتی لیکن ساری روئے زمین پر کوئی ایسی جگہ نہیں ، جہاں مجھے اپنی قبر بنانا پسند ہو، یہ بھی تو آپ کا ارشاد مبارک ہے ، کہ جس مٹی سے مجھے پیدا کیا گیا ہے، اسی مٹی سے ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ کو بھی پیدا کیا گیا، پھر ہم اسی میں دفن کئے جائیں گے۔

نئی ریاست مدینہ کے وزیر شیخ رشید نے (سمائ) چینل پر پاکستان کے ایٹمی دھماکہ کرنے والے دن جو ”بھگوڑہ“ بیان دیا تھا، ذرا اس کی جھلک آپ کو بتاتا ہوں، شیخ رشید نے میزبان کو کہا، کہ میں جب پاکستان نے دھماکہ کیا ، ان دنوں میں وزیر اطلاعات تھا، میرے علم میں تھا، کہ پاکستان نے دھماکہ کرنا ہے، میں اسی دن اتنا خوف زدہ تھا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا ، میں نے فوراً جہاز پکڑا اور دوبئی چلا گیا ، میں نے کہا پٹاخہ اگر ادھر ادھر ہو گیا ، یا لیکیج ہو گئی تو کیا ہو گا، وہاں کے سفیر نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا ، چپ ہو جاﺅ میں نے کہا ، بس ٹی وی لگاﺅ، جب میں نے دیکھا ، کہ پاکستان نے دھماکہ کر لیا ہے ، تو میں نے اگلی فلائٹ پکڑی اور پاکستان آ گیا، سفیر نے روٹی کا پوچھا تو میں نے کہا، روٹی تو میں کھا کے ہی جاﺅں گا۔

قارئین دھماکہ ہو جانے کے بعد نہیں ، بلکہ عسکری اور سیاسی قیادت اس وقت بھی ایک پیچ پہ تھی، مگر سنا ہے کہ قیامت کے روز بھی ایک دھماکہ ہو گا ، اور چاغی کے پہاڑ سمیت سب ریزہ ریزہ ہو جائے گا.... مگر کچھ لوگ عرش الٰہی کے سائے تلے ہوں گے ۔ قارئین، آپ بتائیں ۔ وہ قدیم ریاست مدینہ والے ہوں گے ، یا جدید کے ؟؟؟


ای پیپر