جامعات کی عالمی درجہ بندی اور ہم۔۔۔!!
10 جون 2019 2019-06-10

جامعات کی درجہ بندی کرنے والے بےن الاقوامی ادارے کےو۔اےس(QS) نے 2019 کی درجہ بندی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے اجراءکے بعد ، پاکستانی مےڈےا مےں اےسی خبرےں، تبصرے اور ادارےے پڑھنے اور سننے کو ملے۔ جن مےں تاسف کا اظہار کےا گےا کہ تعلےم پر اربوں روپے سالانہ خرچ کرنے کے باوجود کوئی اےک بھی پاکستانی ےونےورسٹی ، دنےا کی ساڑھے تےن سو بہترےن ےونےورسٹےوں مےں شامل نہےں ہو سکی ۔ ( پانچ سو بہترےن جامعات مےں البتہ دو ےونےورسٹےاں شامل ہےں)۔ جب بھی کوئی رےٹنگ اےجنسی اپنی رپورٹ جاری کرتی ہے، ہمارے ہاں ےہی بحث سننے کو ملتی ہے۔ درجہ بندی مےں نماےاں جگہ حاصل کرنے مےں ناکامی کو، پاکستانی جامعات کی ناقص کارکردگی (بلکہ نالائقی اور نااہلی ) سے تعبےر کےا جاتا ہے۔

جہاں تک کےو۔اےس (QS) کا تعلق ہے ، دراصل ےہ مارکےٹنگ کا اےک ادارہ ہے ۔آغاز مےں کےو ۔اےس(QS) اور ٹائمز ہائر اےجوکےشن (times higher education) مشترکہ رےنکنگ رپورٹ جاری کےا کرتے تھے۔ پھر ےہ دونوں ادارے علےحدہ ہو گئے ( جےسے ہمارے ہاں مےوزک بےنڈ ٹوٹ جاتے ہےں)۔ اب ےہ دونوں ادارے علےحدہ علےحدہ درجہ بندی رپورٹےںجاری کرتے ہےں۔ دلچسپ بات مگر ےہ ہے کہ اےک ہی ےونےورسٹی کو دونوں ادارے الگ الگ درجے (rank) پر رکھتے ہےں۔ ےعنی رےٹنگ اےجنسی بدلنے سے جامعہ کا درجہ بھی بدل جاتا ہے۔ اسکے باوجود دنےا بھر مےں ان اداروں کی رےنکنگ کو خاص اہمےت حاصل ہے۔ پاکستان سمےت دنےا کے بےشتر ممالک کی ہائےر اےجوکےشن پالےسےوں مےں بھی انکی درجہ بندی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ تاہم اسکے ساتھ ساتھ درجہ بندی سے متعلق اےجنسےوں کے طرےق کارmethodology) ) پر سوالات اٹھتے رہتے ہےں۔ ان پر تنقےد ہوتی ہے۔انہےں جانبداراور متعصب بھی سمجھا جاتا ہے۔

جامعات کی درجہ بندی کے مصدقہ ےا غےر مصدقہ ہونے کی بحث سے قطع نظر، سوال ےہ ہے کہ کےا ہماری اعلیٰ تعلےمی درس گاہوں اور جامعات کی کامےابی اور کارکردگی کا معےار ( اور کسوٹی) فقط ےہ ہے کہ وہ عالمی درجہ بندی مےں جگہ پائےں؟ مےرے نزدےک اسکا جواب نفی مےں ہے۔ اصولی طور پر ہمےں اپنی جامعات کی کارکردگی کو اپنے قومی اور سماجی مسائل کے تناظر مےں جانچنا اور پرکھنا چاہےے۔ ہزاروں مےل دور قائم اےک کمرشل ادارہ اسکا تعےن کس طرح کر سکتا ہے؟اس سے پہلے کہ ہماری جامعات عالمی درجہ بندی مےں نام پےدا کی دوڑ مےں شامل ہوں، لازم ہے کہ ہم اپنے تعلےمی نظام کو درپےش مسائل پر نگاہ ڈالےں۔

ہمارا بنےادی مسئلہ ےہ ہے کہ آج تک ہم پرائمری تعلےم کا سو فےصد ہدف حاصل نہےں کر سکے۔ دستور پاکستان کا آرٹےکل 25-A رےاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کی عمر تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلےم کی فراہمی کا اہتمام کرے۔ آئےن کی اس شق پر ہم آج تک عمل درآمد نہےں کراسکے۔ برسوں سے ہم اس بحث مےں الجھے ہوئے ہےں کہ ذرےعہ تعلےم ارد و ہو نی چاہےے ےا انگرےزی ۔ اس بحث کو بھی ہم انجام تک نہےں پہنچا سکے۔ بلند آہنگ نعروں اور دعوو¿ں کے با وجود تعلےمی نصاب کو جدےد عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے مےں بھی ہم تاحال ناکام ہےں۔ دینی مدارس کو قومی دھارے مےں لانے کی حکومتی کوششےں بھی آج تک بار آور نہےں ہو سکےں۔ سرکاری اسکول جن مےں ملک کے 70 فےصد بچے زےر تعلےم ہےں۔ ان کی حالت دگرگوں ہے۔ لائبرےری، لےبارٹری، فرنےچر (جےسی عےاشی) تو رہی اےک طرف، بےشتر اسکولوں مےںپےنے کا صاف پانی اور لےٹرےن جےسی بنےادی سہولےات بھی مےسر نہےں۔دنےا بھر مےں ہائر اےجوکےشن کی بنےاد ، اسکول اےجوکےشن پر ہی کھڑی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہماری توجہ عالمی درجہ بندی سے زےادہ، اسکولوں کی حالت زار سنوارنے پر مرکوز ہونی چاہےے۔

اعلیٰ تعلےم کی حالت بھی کچھ زےادہ مختلف نہےں۔ جامعات سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ محض ڈگری بانٹنے والے اداروں کے بجائے، علمی درسگاہوں کے طور پر کام کرےں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اےسا نہےں ہو رہا۔معےار تعلےم کا حال انتہائی ابترہے۔ اگر کسی کو اےم ۔فل اور پی۔اےچ۔ڈی ڈگری ہولڈرز کی قابلےت اور استعداد کارسے متعلق آگہی درکار ہے ،تو پنجاب پبلک سروس کمےشن کے چےئرمےن کا وہ خط پڑھ لےجےے جو انہوں نے 2018 مےں، اس وقت کے چانسلر اورگورنر رفےق رجوانہ کو لکھا تھا۔ےا پھر ان رےمارکس پر غور کر لےں، جو چند ہفتے قبل سپرےم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس گلزار احمد نے ہائےر اےجوکےشن سے متعلق کےس کی سماعت کے دوران جامعات کی ماےوس کن کارکرگی پر دئےے ہےں ۔ مزےد آگاہی چاہےے تو ،سی۔اےس۔اےس کے آٹھ دس سالوں کے (زوال پذےر) امتحانی نتائج پر نگاہ ڈال لےں۔

اےسے تعلےمی نظام کے ساتھ لمحہ فکرےہ ےہ نہےں کہ ہم عالمی درجہ بندی مےں نماےاںجگہ نہےں پاتے۔ فکرمند ی کی بات ےہ ہے کہ ہماری ےونےورسٹےاں کےسی افرادی قوت مارکےٹ مےں بھےج رہی ہےں۔ اور نوجوانوں کوکتناذمہ دار شہری بنا رہی ہےں۔ بلا شبہ پاکستان مےں ذہےن و فطےن افراد کی کمی نہےں ہے۔ ہر شعبے مےںدرجنوں مثالےں موجود ہےں جب پاکستانی نوجوانوں نے اقوام عالم مےں ملک کا نام روشن کےا۔ مگر ذرا عمومی جائزہ لےں۔ ہمارے اعلیٰ تعلےمی ادارے کس طرح کے ڈاکٹرز پےدا کر رہے ہےں؟ وہ جو اپنی مراعات اور تنخواہوں مےں اضافے کے لئے مرےضوں کے علاج سے انکار کر دےتے ہےں۔ اےمرجنسی وارڈز کی تالہ بندی کر تے اور مرےضوں کو موت کے رحم و کرم پرچھوڑ دےتے ہےں۔ ہم کےسے اےنکرز اور صحافی مارکےٹ مےں بھےج رہے ہےں، وہ جو ٹےلی وےژن چےنلز پر بےٹھ کر عدالتےں سجاتے ہےں ، ججوں کی طرح فےصلے صادر کرتے ہے اورصحافتی اخلاقےات کو خاطر مےں نہےں لاتے۔ ہمارا نظام تعلےم کےسے وکےل پےدا کر رہا ہے؟ وہ جو ججوں کےساتھ گالی گلوچ کرتے ہےں۔ عدالتوں مےں توڑ پھوڑ اور مار پےٹ کے مرتکب ہوتے ہےں۔ ہم کےسے پولےس آفےسر تےار کر رہے ہےں؟ اےسے جو مظلوم کی داد رسی کے بجائے، اسکے دکھوں مےں مزےد اضافے کا باعث بنتے ہےں۔ کم و بےش ہر شعبے مےں اخلاقی انحطاط کی ےہی کےفےت دکھائی دےتی ہے۔ اگر ہماری جامعات اےسے اعلیٰ تعلےم افرادپےدا کر رہی ہےں، تو ےقےن جانےے عالمی درجہ بندی کا حصہ بننے ےا نہ بننے سے سماج کی صحت پر کوئی فرق نہےں پڑنے والا۔

آج علم کی جستجو کا عالم ےہ ہے کہ ہماری لائبرےرےا ں وےران ہو چکی ہےں۔ طالب علم کےساتھ ساتھ استاد کو بھی کتاب پڑھنے کی رغبت ہے نہ فرصت۔ اعلیٰ تعلےم ےافتہ نوجوان انگرےزی تو کجا، اردو سے بھی نا بلدہےں۔ تدرےس سے تربےت کا عنصر نکلتا چلا جا رہا ہے۔ جامعہ کا استاد تدرےس اور تحقےق سے کہےں زےادہ انتظامی عہدوں کے حصول مےں دلچسپی رکھتا ہے۔ نوجوان نسل تےزی سے عدم برداشت اورانتہاپسندی کا شکار ہو رہی ہے۔بےشتر پڑھے لکھے افراد آئےن پاکستان اور جمہورےت کے بنےادی فلسفے تک سے آگاہ نہےں۔ اصل مےںےہ ہےں وہ مسائل جن پر ہمےں متفکر ہونا چاہےے۔ لازم ہے کہ ہم اپنی جامعات کی کارکردگی کو اس تناظر مےں جانچےںاور اس مےں بہتری کی کاوش کرےں۔

جہاں تک عالمی درجہ بندی کا تعلق ہے تو تقرےر اور تحرےر کی حد تک ےہ مثال بہت بھلی لگتی ہے کہ بھارت (جو ہمارے ساتھ آزاد ہوا تھا) کی دو درجن جامعات کےو۔اےس رےنکنگ(2019) کا حصہ ہےں۔ ےاد رہے کہ بھارت کا تعلےمی بجٹ (2019-20) تقرےبا 1962 ارب (پاکستانی) روپے ہے۔ اتنے بھاری بھرکم بجٹ کےساتھ عالمی درجہ بندی مےں جگہ بنانااتنی بڑی بات نہےں۔ جبکہ ہماری وفاقی حکومت ہائر اےجوکےشن کے بجٹ مےں تقرےبا 50 فےصد کمی کا عندےہ دے چکی ہے۔ ۔۔۔۔ہمارے ہاں اس خبر کا تو بہت چرچا ہے کہ ملک کی بگڑتی اقتصادی صورتحال کی وجہ سے افواج پاکستان نے اس سال دفاعی بجٹ مےں مزےد اضافہ نہ کرنے کا فےصلہ کےا ہے۔ تعلےمی بجٹ مےں 50 فےصد کٹوتی کا حکومتی اعلان مگر کوئی بڑی خبر نہےں ہے۔ نہ ہی ےہ کوئی اےسا اہم معاملہ ہے جسے زےر بحث لاےا جائے۔ حال ہی مےںبرازےل حکومت نے تعلےمی بجٹ مےں کمی کا اعلان کےاہے۔وہاں لاکھوں طلباءاور اساتذہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہےں۔ ہمارے ہاں مگر کسی کو اس صورتحال پر کوئی تشوےش نہےں ہے ۔ےہ دراصل ترجےحات کا معاملہ ہے۔ ہمےں اپنے تعلےمی نظام کی اصلاح درکار ہے تو بے سود مباحث مےں الجھنے کے بجائے، اپنی ترجےحات کا تعےن کرنا ہو گا۔ تب ہی تعلےم سے جڑے مسائل حل ہو پائےں گے۔


ای پیپر