عام انتخابات: دیکھئے اس بحر کی تہ سے اب اچھلتا ہے کیا؟
10 جون 2018 2018-06-10

میاں نوازشریف کا سیاسی کیریئرفیصلہ کن موڑپرآپہنچاہے ۔یاتووہ سیاسی افق پرامررہیں گے یا پھرقصہ پارینہ ہوجائیں گے۔ اس کاانحصارعام انتخابات کے نتائج سے بھی زیادہ ان کیخلاف بنائے گئے مقدمات اوران کی نظریاتی ثابت قدمی پرہے۔فطرت نے انہیں بینظیربھٹویا زرداری کے برعکس چیتے کا جگررکھنے والے عمران خان کے مقابل لاکھڑا کیا ہے اورچوگ دینے والے ہاتھ بھی روگ دینے پرتلے ہوئے ہیں،پرویزمشرف کیلئے سپریم کورٹ کا فیاضانہ رویہ اورعزت مآب پروفیسرحسن عسکری کی بطورنگراں وزیراعلیٰ پنجاب حلف برداری نشانیاں ہیں ان کیلئے جوسمع وبصراوربصیرت رکھتے ہیں۔ہرچندکہ پروفیسرصاحب دھیمے لہجے کی متوازن شخصیت ہیں۔تاہم جب دھرنے کے ہنگام جمہوری قوتوں نے مل کرپارلیمنٹ میں ایک "میچیورموو" سے عمران قادری اتحادکو دیوارسے لگادیاتھا اورعوام کی اکثریت جمہوریت کا تسلسل چاہ رہی تھی پروفیسرعسکری صاحب زیرک، منجھے ہوئے تجزیہ کارہونے کے باوجودکسی اورکی زبان بول رہے تھے،ایازامیرکے شکوے بجا کہ وہ ٹکٹ سے ہاتھ دھوئے ہوئے تھے، اوراکیڈمک کے بجائے اول وآخرصحافی ہی ہیں، مگرعسکری صاحب کی بے خودی بے سبب نہ تھی!
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ حالات شریف فیملی کوٹوانہ خاندان،دولتانہ فیملی، نواب آف کالاباغ جیسے مقدر سے دوچارکرسکتے ہیں یا وہ بھٹوخاندان کی طرح پاکستانی سیاست میں امررہیں گے؟ اس کا فیصلہ بھی میاں صاحب کے ماضی سے کہیں زیادہ مستقبل کی حکمت عملی اوراصولی موقف پراٹل رہنا کرے گا۔ شدید عملیت پسندی جب بھرپورآئیڈیالزم سے ہمکنار ہوتی ہے تو تاریخ کے درخت پرلگے کامیابی کے پھل ٹوٹ ٹوٹ کرجھولی میں گرنے لگتے ہیں، میاں صاحب کی سیاست میں عملیت پسندی تو کوٹ کوٹ کربھری ہی تھی مگراب آئیڈیالزم بھی درآیاہے تویہ ان کی سیاسی قوت میں اضافہ سمجھا جائے. بشرطیکہ آئیدیالزم ان کی عملت پسندی سے غیراصولی اورغیراخلاقی عناصرکو صاف کرتا چلاجائے۔اگرریحام خان کی حالیہ کتاب میں ن لیگ کا ہاتھ ہے تویہ آئیڈیالزم پرعملیت پسندی کی برتری کا ثبوت ہے اوردوستوسکی کی بات ماننا پڑے گی کہ زندگی کا دوسرا نصف پہلے نصف کا تسلسل ہواکرتاہے، گویا ن لیگ نے جس طرح بینظیربھٹو کی کردارکشی سے سیاست کا آغازکیا تھا، عمران خان کی کردارکشی سے انجام کو پہنچ رہی ہے ۔ میاں صاحب جس چوراہے پر کھڑے ہیں وہاں سے کئی راہیں پھوٹ رہی ہیں، مگر کامیابی کی راہ طویل اور حوصلہ آزما ہے ۔عمران خان کو تاریخ بائیس سال کے بعدایسے مقام پرلائی ہے کہ جہاں انہوں نے اپنے ہی بیان کردہ رہنما اصولوں کی دھجیاں اڑاکرعملیت پسندی سے سمجھوتہ کرلیا ہے اور وہ کسی بھی طرح وزیراعظم ہاؤس میں براجمان ہونا چاہتے ہیں جبکہ میاں نواز شریف کو تاریخی جبرنے ایک اصولی موقف پرلاکھڑا کیا ہے ۔مگریہ راہ سنگریزوں سے اٹی پڑی ہے اورمیاں صاحب کے پاؤں کے تلووں نے تو شاید خاک کو بھی کبھی نہ چھوا ہو، اس راہ میں توقدم قدم پرلٹنا پڑتا ہے جبکہ میاں صاحب صا حب تکاثر ہونے پریقین رکھتے آئے ہیں۔
ہاں مگرمیاں صاحب کی دوبڑی خوبیاں ہیں جس وجہ سے وہ آج بھی پاکستان کے بڑے سیاسی لیڈرکہے جاسکتے ہیں۔وہ بڑی سوچ رکھتے ہیں اور بڑے رسک لیتے ہیں۔یہ سفر۹۸ کے ایٹمی دھماکوں سے شروع ہوتا ہے ۔ایک طرف توانہوں نے بے پناہ عالمی دباؤاوربڑی سے بڑی پیش کش کو ٹھکرا ہ کرایٹمی دھماکوں کے ذریعے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیربنایا، ساتھ ہی اس کا ادراک کرلیاکہ پاک بھارت دشمنی صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ خطے اور امن عالم کیلئے خطرہ ہے اور اس کیلئے پاکستان کے وقار اور تشخص کو قائم رکھتے ہوئے انہوں نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ میاں صاحب سے بھی زیادہ کچھ ایسی حقیقتیں بی جے پی قیادت اٹل بہاری واجپائی پروا ہوچکی تھیں۔ اس ادراک اورکاوش کا پہلا اوراب تک کا آخری ثمراعلان لاہورتھا جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیراعظم دوستی اور محبت کا دم بھرنے لاہورآیا۔کچھ مذہبی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا اورانہیں کس کی آشیرواد حاصل تھی یہ بھی سب جانتے ہیں، میاں صاحب شاید اپنے فہم وذکاء سے بڑا کام چھیڑبیٹھے تھے کیونکہ اس کے بعد انہیں جس قدر چوکنا رہنے کی ضرورت تھی اس کا ثبوت نہیں دیا اورکارگل ایشو پرٹریپ ہوگئے۔شایدایٹمی دھماکوں سے بھی بڑا رسک انتہائی مضبوط ومنظم پاکستان آرمی کے چیف کی برطرفی والا تھاجب انہوں نے مشرف کوہٹاکربٹ صاحب کو آرمی چیف بنایا۔پانچ جولائی ستترکوآئی بی نے بھٹوصاحب کو ایک جملے میں خبردارکیا تھا کہ Khakis are comming.مگربھٹونے ضیاء کو ہٹانے کا رسک نہیں لیاتھا دودن بعدسات جولائی کومارشل لاء لگ گیاتھا۔مگرمیاں صاحب نے بغیرکسی رسک کی موجودگی کے یہ رسک لیا، تاہم طریقہ غلط تھاجو کام وہ ببانگ دہل اپنے آئینی اختیارات سے کرسکتے تھے اسے غلط اوربھونڈے طریقے سے کرنے کی سزا بھگتی۔
اسی طرح کی غلطی ان کے پاک بھارت تعلقات کے وژن میں بھی ہے ۔ اس سلسلے میں جہاں وہ جلدبازی کا شکارہیں وہاں روایتی مقتدرقوتوں کا خوف بھی انہیں غلطیوں پرمجبورکرتاہے یا پھرتکبرہے کہ اداروں کوتوپرکاہ برابربھی اہمیت نہیں دینی۔
حقیقت یہ ہے کہ خوف اورتکبرہردوکیفیتوں میں مبارک سے مبارک عقل بھی تحلیل ہوجایا کرتی ہے ۔ مودی جی کو اداروں سے بالا ہی بالاسب تکلفات بالائے طاق رکھتے ہوئے رائیونڈ بلانے کی شاید ضرورت نہ تھی، نہ ہی جنڈال جی سے مری میں ملاقات کرنے کی ضرورت تھی۔ایسی حرکتیں مشرف کرتا تو سمجھ آسکتی تھیں مگر آئینی طورپرمنتخب وزیراعظم کو چوردروازوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت خوب کہ آپ نے دوہزارتیرہ کی انتخابی مہم میں بھارت مخالف جزبات کے بجائے بھارت سے متعلق انتہائی مصالحانہ بیانئے کو اپنایااس پرقائم رہے ، آپ کلبھوشن تک کے ایشو پر مہر بلب رہے کہ کہیں بھارت ناراض نہ ہوجائے۔ایک اور بڑا مسئلہ میاں صاحب کے اردگردسیکولرلبرل عناصرکی موجودگی ہے جوبھارت سے تعلقات پاکستان کے تشخص اوروقارکی قیمت پرچاہتے ہیں، ان کے نزدیک کیونکہ سرحدکے دونوں پارآلوگوشت کھایاجاتاہے اور بھنگڑا کھیلاجاتاہے ، پاک بھارت کو یک جان دوقالب بنانے کا اس طبقے کواس سے بڑا کوئی اخلاقی اصول نظرنہیں آتا ہے ۔یہ پاکستان کو بتدریج بھارتی وجود میں ضم کرنے کی مذموم سازش ہے ۔یہ طبقہ سودلیلوں سے پاکستان کی مذہبی شناخت کو رد کرتاہے اورہزاردلیلوں سے اسرائیل کی مذہبی شناخت کا دفاع کرتاہے۔میاں صاحب کو چاہئے کہ اس حلقے کے حصارسے نکلیں اورحکمت عملی پرنظرثانی کریں۔بھارت سے تعلقات ضروری ہیں مگرپاکستان کا تشخص اوروقارپہلے ہے ۔
میاں صاحب کی نظرعام انتخابات سے کہیں زیادہ قوم کے مستقبل پرہونی چاہئے۔تین دفعہ وزیراعظم منتخب ہونے والے میاں نوازشریف اگرثابت قدم رہتے ہیں،اداروں کو آئینی حدودمیں رکھنے کی جدوجہدمیں پرعزم ہیں اوروہ پاک بھارت تعلقات پاکستان کے تشخص اوروقارکو نظراندازکیے بغیربہتربنانے کی سعی کرتے ہیں ہیں تو وہ قومی افق پرتابندہ رہیں گے، میاں صاحب بھٹوصاحب کے بعد دوسرے بڑے عوامی لیڈرہیں جنہیں ایک بڑی عوامی عصبیت حاصل ہے ۔میاں صاحب اگرمتزلزل ہوئے تو جمہوری قوتیں نہ جانے کب تک یرغمال رہیں ۔حضرت قائداعظم ، حضرت علامہ اقبال اور جنرل گریسی کے ورثاء کے درمیان یہ معرکہ پانی پت ہے ، دیکھئے اس بحرسے اب اچھلتاہے کیا،، گنبد نیلوفری رنگ بدلتاہے کیا؟


ای پیپر