لطیفے ایسے ہی بنتے ہیں
10 جون 2018 2018-06-10

حکومت سازی، 90 دن میں کرپشن کا خاتمہ اور ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی۔ہنوز دلی دوراست۔ لیکن ٹکٹو ں کی تقسیم پر جلد بازیوں سے بچا جا سکتا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا اورحکومت سنبھالنے کیلئے بے چین و بے قرار پارٹی ہوم ورک مکمل کر لیتی تو پھر لطیفے کیسے بنتے ؟ ایک ایسی خاتون کو ٹکٹ کیوں کر جاری ہو جاتاجس نے درخواست کسی اور پارٹی کو دی تھی۔ ایک ایسے شخص کو ٹکٹ کیسے مل جاتاجس کو برسوں پہلے عدالت جعلی ڈگری میں نااہل کر چکی۔

عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم مشکل مرحلہ ہوا کرتا ہے۔قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تعداد کوئی ایک ہزار کے قریب ہے۔ چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کیلئے تو آسانی ہوا کرتی ہے۔چند ایک مخصو ص انتخابی حلقے جن کو چھوٹی سیاسی جماعتیں اپنی مخصوص پاکٹس تصور کر لیتی ہیں ۔ ان حلقوں سے ٹکٹ جاری کرنا ہو تے ہیں ۔ جاری بھی کیا کرنا ہوتے ہیں مخصوص خاندانوں نے الیکشن لڑنا یا پھر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہوتی ہے۔مسائل بڑی پارٹیوں کیلئے ہوتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) ہو یا پی ٹی آئی اور ماضی قریب تک پیپلزپارٹی۔ہزاروں کی تعداد میں خواہشمند حصول ٹکٹ کے آرزو مند ہوتے ہیں ۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ذرا پیپلز پارٹی کا تذکرہ۔تذکرہ بھی کیا۔ مرثیہ یا نوحہ ہی سمجھ لیجئے۔لطیفہ ہے کہ جو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ لے گا اس کو ایک عدد یو پی ایس،مائیکرویو اوون،سیل فون اور افطار،ڈنر کے کوپن فری دیے جائینگے۔بھٹو کی پارٹی جس کے ٹکٹ کیلئے امیدوار ہلکان ہو جایا کرتے تھے اب اس کے پاس امیدوار بھی میسر نہیں سوائے سندھ کے۔کے پی کے میں صورت حال کچھ بہتر ہے۔پنجاب میں تو صورت حال نہایت دگر گوں ہے۔ اس روز افطار کی ٹیبل پر پیپلز پارٹی کے قریبی صحافی نے کان میں سر گوشی کی۔بیس سیٹوں کا وعدہ کر لیا گیا ہے۔پوچھا کس نے تو بولے نام نہ لیں خود ہی سمجھ جائیں۔ پنجاب کے سیاسی حلقے متحارب سیاسی خا ندان، پوٹینشل امیدوار فنگر ٹپس پر رہتے ہیں ۔ کیوں خبر لینا دینا ہی تو اپنا دھندہ ہے۔ پوچھا کونسے ہیں ؟ با خبر نے نام گنوانا شروع کیے تو دل شکنی کے خوف سے ہم پیشہ بھائی کی مخالفت نہ کی۔ البتہ یہ ہوا کہ ان بیس میں سے ایک متوقع نشست کے امیدوارحامد سعید کاظمی کے گھر آصف زرداری ٹکٹ لے کر پہنچ گئے۔ جب پارٹی لیڈر ٹکٹ لیکر امیدواروں کے گھروں پر دستک دیتا پھرے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ پارٹی از اوور۔صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے معذرت کر لی۔سندھ کا رزلٹ کیسا ہو گا۔ کتنی سیٹیں ملیں گی۔ اب سارا انحصار صوبہ سندھ پر ہے۔اگر چہ اطلاعات کچھ اتنی خوش کن سندھ سے بھی نہیں۔ مضبوط تخت کے پایوں میں لرزش ہے۔باقی جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے ایک سو چالیس سیٹوں پر جیتنے والے تو ایک طرف رہے۔ مقابلہ کرنے والے امیدوار بھی ملنا دشوار ہیں ۔ 2013ء کے الیکشن سے پہلے کے مباحث یاد آتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے شہ دماغ خوشی منایا کرتے۔ گمان ان کو تھا کہ پی ٹی آئی مسلم لیگ کا ووٹ بنک کھا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کاووٹ بنک ناقابل تسخیر ہے۔ مباحثو ں میں اختلاف رائے کی جسارت کی تو احباب دیرینہ خفا ہو گئے۔ آنے والے دنوں میں ثابت ہو ا کہ طالب علم کا اندیشہ درست تھا۔بے سمت پارٹی کو پی ٹی آئی کی دیمک کھا گئی۔ مسلم لیگ (ن) صاف نکل گئی۔یہ بات ابھی بھی پیپلز پارٹی کے فیصلہ سازوں کو سمجھ نہیں آتی۔ اب شہیدوں کی پارٹی کے قلعہ نما بلاول ہاؤس تو ہر کیپٹل میں سر اٹھائے کھڑے ہیں ۔لیکن امید وار ہیں نہ ووٹر۔وجوہات کیا ہیں ۔ سب کو معلوم ہے۔ ایک سیاسی جماعت جو قومی اثاثہ ہے۔ زوال کی پکڑ میں ہے۔ جو افسوس ناک ہے۔ جماعت تو ایک مسلم لیگ (ق) بھی تھی۔2002ء میں حکمران تھی۔ پھر 2008ء سے 2013ء کے پہلے پانچ سالہ جمہوری دور میں اقتدار میں پارٹنر بھی رہی۔ مسلم لیگ (ق) توٹیسٹ ٹیوب بے بی تھا۔دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں اتنی نشستیں ملیں کہ انگلی کے پوریں بھی فالتو نکلیں۔ اب ایک اور لطیفہ چل رہا ہے۔لطیفہ گو لکھتا ہے کہ رات کو کچھ لوگ بیش قیمت گاڑیوں میں نکلتے ہیں مسلم لیگ (ق) کی ٹکٹیں مختلف گھروں میں پھینک کر راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں ۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ معرکہ الیکشن میں اس مرتبہ گجرات کی آبائی نشستیں بچانا بھی مشکل لگ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوتی تو گجرات کے چوہدری صرف گھر کے چوہدری رہ جائیں گے۔ جو ماضی میں وزیر اعلیٰ تھے۔جو ماضی میں وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔اب ممبری کیلئے بعض بااثر اہل صحافت کی پرچیاں لیکر گھوم رہے ہیں ۔ ایسی بلندی ایسی پستی۔جہاں تک بات مسلم لیگ (ن) کی ہے امیدوار اسکے پاس بہت ہیں ۔ایک سیٹ پر کئی کئی لیکن مسئلہ قیادت کا ہے۔ جس کے متعلق کسی بھی وقت فیصلہ آ سکتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ بعض سیٹوں پر پاکستان تحریک انصاف کے محرومین کی واپسی کا انتظار ہے۔ایسا ہو اتو ووٹ کو عزت دو،ووٹر کو عزت دو کی بجائے لوٹے کو دھتکاروکا نعرہ سننا ہو گا۔ مرضی ہے ان کی۔ بہر حال مسلم لیگ آج بھی سب سے بڑی پارٹی ہے۔تمام ملکی وغیر ملکی سروے بتاتے ہیں کہ سو سیٹوں پر وہ سب سے آگے ہے۔ مسلم لیگ (ن) قابل انتخاب شخصیات کے ڈھکوسلے سے نکل آئے گی تو شاید سچ مچ کی جماعت بن جائے۔ شاید ورنہ تو تحریک انصاف نے بھی کبھی تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا۔لیکن ٹکٹوں کی تقسیم نے سارے نظریے سارے دعوے خس و فاشاک کی مانند بہا دیے۔ تقسیم شدہ ٹکٹوں کی لسٹ سامنے ہے۔ حکومت بنانے کی دعویدار جماعت کے پاس ہر حلقہ کیلئے مضبوط امیدوار موجود ہوتے تو عمران خان کو پانچ حلقوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن نہ لڑنا پڑتا۔ان کی اپنی بطور ایم این اے کار کردگی ایسی ہے کہ وہ راولپنڈی اور پشاور کی جن دو نشستوں سے ممبر بنے تھے۔دونوں سے دستبردار ہو چکے۔راولپنڈی میں غلام سرور خان کو دو ٹکٹیں دے دی گئیں کیونکہ اور کوئی مضبوط امیدوار موجود نہ تھا۔ راولپنڈی کے روسٹنگ ایم پی اے عار ف عباسی اور اعجاز خان جازی پانچ سال اسمبلی میں جان لڑاتے رہے لیکن شیخ رشید کو خوش کرنے کیلئے ان کی قربانی دیدی گئی۔ دوسرے شہروں سے غیر مقبول امیدواروں کو ٹکٹ تھما دیئے گئے۔اسلام آباد سے الیا س مہربان نے ستر ہزار سے زائد ووٹ لیے ان کو ٹکٹ کے قابل نہیں سمجھا گیااورعمران خان خودمیدان میں آ گئے۔ڈی جی خان میں ایک مہینہ قبل متوقع اقتدار کی ٹرین میں سوار ہونے والے جعفر لغاریوں،دریشکوں اور کھوسوں کو ٹکٹ دیے گئے۔ نوشہرہ پرویز خٹک۔صوابی ارب پتی خاندان تر کئی فیملی کے حوالے ہو گیا۔ گوجرانوالہ میں چمک امتیاز وڑائچ سے جیت گئی۔ فیصل آباد کے رانے اور ساہی ٹکٹ لے گئے۔ ایسے بھی ہیں جن کو ایک بھی ٹکٹ نہ ملی۔ ایسے بھی ہیں جن کو اتنی ٹکٹیں ملیں کہ جیبیں چھوٹی پڑ گئیں۔ لطیفہ چل رہا ہے کہ قائد محترم 22 سال کی سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے پرانے مستری ناگزیر ہیں ۔کل ایک محروم کارکن نے فون کیا کہنے لگے کہ ٹکٹیں نواواردوں کو دیدی ہیں ،تبدیلی تو آئی ہے کوئی مانے نہ مانے۔


ای پیپر