کئے قوم سے تم نے جو وعدے!
10 جون 2018 2018-06-10

برسرِاقتدار آنے والی جمہوری حکومت کے بالآخر پانچ سال مکمل ہو گئے۔ نواز لیگ کے گزرے ہوئے پانچ سال سیاست، معیشت، معاشرت پر بہت بھاری ثابت ہوئے۔ تعلیم، صحت، مذہبی رواداری، بین الاقوامی تعلقات، کرپشن،دہشت گردی،ادارہ جاتی تصادم کے بدترین حکومتی رویے اور طرزِ حکمرانی نے ریاست کو مفلوج کر دینے کی حد تک منفی اثرات مرتب کیے۔ موجودہ حکومت کے آخری ماہ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح رہے۔ معیشت ، معاشرت اور ادارہ جاتی تصادم کے بعد جاتے جاتے نااہل نے ریاستِ پاکستان پر وہ ناپاک حملہ کیا جس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں کبھی کسی جماعت کے سربراہ نے اس طرح اپنے وطن کے خلاف خبثِ باطن کا اظہار نہیں کیا جس طرح نا اہل نے کیا۔ پوری قوم اور ریاستی ادارے بیک زبان ہو کر اس بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں جبکہ نااہل شرمندہ ہونے کی بجائے اپنے بیان پر ڈٹے رہنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
میاں صاحب !آج سے پانچ سال قبل آپ نے قوم سے کچھ وعدے کیے تھے اور قوم نے تیسری مرتبہ بھروسہ کرتے ہوئے آپ کو مینڈیٹ دیا تھا کشکول توڑنے کے لیے، بیرونِ ملک قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لیے، آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کے لیے، چوروں اور ڈاکوؤں کے پیٹ پھاڑ کر ملکی دولت نکالنے کیلئے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے، اداروں سے کرپشن ختم کرکے پاکستان کو ایشیئن ٹائیگر بنانے کیلئے، پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے لیے، پٹواری سسٹم کو نکیل ڈالنے کے لئے ، قرض اُتار کر وطنِ عزیز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ۔ افسوس! پانچ سال قبل کئی ایک جو وعدے کیے گئے اُن میں صرف قرض کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔
قرض لینے کا آغاز ملک کی آزادی کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ ایوب خان کا دور پہلا تھا جس میں تقریباً 180 ملین ڈالر بیرونی قرضہ ادا کر کے پاکستان پر کل قرضہ کم کرادیا گیا بلکہ پاکستان نے پہلی بار دوسرے ممالک کو قرض دینے شروع کیے جن میں جرمنی جیسا ملک بھی شامل تھا۔ بھٹو کے دور میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 6341 ملین ڈالر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کل بیرونی قرضہ 12913 ملین ڈالر تک پہنچا۔ نوازشریف کے دو ادوار میں کل بیرونی قرضہ 39000 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ دونوں منتخب جمہوری حکمرانوں نے مجموعی طورپر صرف دس سال کے عرصے میں26090 ملین ڈالر کا تباہ کن قرضہ لیا جبکہ ان دس سالوں میں 250 ارب روپے کے ایک موٹر وے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ پرویز مشرف کے عہد میں یہی قرض 34000 ملین ڈالر ہوگیا۔ پرویز مشرف کے 8 سالہ دور میں بیرونی قرضوں میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ انہوں نے تقریباً 5000 ملین ڈالر کے ریکارڈ قرضے کم کرائے۔ گزشتہ سالوں کے دوران پاکستان میں آنے والی حکومتیں ملک میں نئے منصوبے شروع کرنے کے لئے قرضے لیتی رہی ہیں جس وجہ سے اس وقت پاکستان پرغیرملکی قرضوں کا بوجھ 75 کھرب سے زیادہ ہو چکا ہے۔
موجودہ صورت حال میں ہر پاکستانی تقریبا 4 لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے اور اس وجہ سے پاکستان میں قائم ہونے والی بیشتر حکومتوں نے مزید قرضے لینے کیلئے انتہائی قیمتی قومی اثاثوں کو گروی بھی رکھنا شروع کر دیا ۔بیرونی قرضوں کی دستیاب معلومات سے انکشاف ہوا ہے کہ نواز شریف نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں صرف 4 سالوں میں جتنا قرض لیا وہ پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں لئے گئے کل قرض کے برابر نکلا۔ انہوں نے مجموعی طورپر چار برس میں36 ہزار ملین ڈالر قرض لیا۔ آصف علی زرداری کا دور پھر اتارے گئے قرض چڑھانے کا دور ثابت ہوا۔ بیرونی قرضہ 48100 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔ انہوں نے صرف پانچ سال میں 14100 ملین ڈالر کا قرضہ لے کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ نواز شریف اپنے آخری دور تک 35900 ملین ڈالر کا کمر توڑ قرضہ لے چکے ہیں۔
آمرانہ ادوار میں کل 6772 ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا جبکہ 5180 ملین ڈالر کا قرضہ اتارا گیا۔ یوں آمروں نے پاکستان کو کل 1592 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔ جبکہ جمہور ی حکمرانوں نے پاکستان کو کل 82408 ملین ڈالرکا مقروض کیا۔ جمہوری ادوار میں لئے گئے قرضوں کا محض سود ہی آمروں کے کل قرضوں سے زیادہ ہے۔ چند ماہ بعد پاکستان کو صرف سود کی مد میں 11000 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔ کون کرے گا، کیسے کرے گا۔ ظاہر ہے عوام کا مزید خون نچوڑا جائے گا۔ قرضے اب پاکستان کی معیشت کا 60 فی صد سے بھی زیادہ ہیں جو ملکی کی معاشی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دوران اب تک قرضوں میں پانچ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ صرف گذشتہ ایک سال کے دوران ایشیائی ترقیاتی بنک اور ورلڈ بنک سے بھی ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے ہیں۔ قرضوں کی بنیاد پر معیشت کی دیواریں کھڑی کرنا ریت کے دیوار کی مانند ہے۔
وطن عزیز 2013 میں چودہ ہزار ارب روپے کا مقروض تھا جبکہ آج صرف تقریباً پچیس ہزار ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ آخر ان قرضوں کی ادائیگی کون کرے گا۔ معیشت میں ترقی صرف اور صرف ایک سراب ہے جس سے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے کس شعبے میں ترقی کی ہے۔ پی آئی اے جو دنیا کی بہترین ائر لائن تھی آج کہاں کھڑی ہے۔ خود حکومت پی آئی اے کو بوجھ سمجھتی ہے اور اس کی نجکاری کر رہی ہے۔ پاکستان سٹیل مل جس کا زرمبادلہ میں ایک قابل ذکر حصہ تھا آج شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مسافروں کی نقل وحرکت کے باوجود ریلوے خسارے کا شکار ہے اور ملکی خزانے پر آج بوجھ بنی ہوئی ہے۔ان اداروں کا مجموعی خسارہ تقریباً 800ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اس کے باوجود معیشت میں ترقی کے دعوے کئے جا رہے ہے۔
ٹیکسٹائل کے شعبے میں ڈیڑھ سو کے قریب فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور صرف اسی شعبے سے وابستہ 8لاکھ مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ اسکے معاشی، اقتصادی، پلاننگ اور منصوبہ ساز اداروں میں بیٹھے افراد گزشتہ پچیس سالوں سے اپنے بیرونی آقاؤں اور انکے مقاصد کوپورا کرنے میں مگن ہیں اور حکومتیں اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں مگر وہ تمام افسران شطرنج کے کھیل کی طرح کبھی ایک سیٹ سے دوسری سیٹ پر براجمان ہوکر پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ہر پاکستانی پر قرض ہے۔ قرض کی ’مے‘ پینے والو ں کو اپنی ’فاقہ مستی‘ کے رنگ لا نے کی امید ہے۔قرض لے کر ہی قرض اتاریں جائیں گے تو یہ خوشحالی کیسے آئے گی۔آخر کار دیو الیہ ہو نے پر قرض کی ادئیگی اور وصولی بند ہو جائے گی۔کب تک ملک کے دگرگوں حالات اور دہشت گردی کا رونا رویا جائے گا۔ قرض دینے والے عالمی ادارے اب تو ملک میں خود ٹیکس عائد کرنے کی فرمائش کر تے ہیں۔


ای پیپر