شوکت خانم ہسپتال : طب کی دنیا میں ایک نئے دور کی ابتداء
10 جون 2018 2018-06-10

انسانی زندگی ایک جہد مسلسل ہے جس میں با ہمت لوگوں کے لیے ایک کے بعد ایک کامیابی منتظر ہوتی ہے۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں بھی ایسے ہی باہمت لوگوں کی ٹیم ہمہ وقت مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے ۔ میں یہ بتاتے ہوئے بے انتہاء خوشی اور فخر محسوس کرتاہوں کہ میرا تعلق پاکستان کے ایک ایسے منفرد ہسپتال سے ہے جو اپنی کارکردگی کی بدولت ایک اندرون و بیرون ملک ایک روشن مثال بن چکا ہے ۔

حال ہی میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹرکے اعزازات کی لمبی فہرست میں ایک ایسے اعزاز کا اضافہ ہو اہے جو نہ صرف اس ہسپتال کے عملے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر بات ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال نے جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کی جانب سے پیشنٹ کئیر کے میدان میں بین الاقوامی معیار اپنائے رکھنے کی وجہ سے "گولڈ سیل آف اپروول"حاصل کی ہے۔ گولڈ سیل آف اپروول مریضوں کی دیکھ بھال کے ضمن میں کسی بھی ہسپتال میں رائج اعلیٰ ترین پیمانوں اور مریضوں کی معیاری دیکھ بھال کیلیے ہسپتال کی انتظامیہ کے عزم کی علامت ہے۔ واضح رہے کہ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کا قیام1997میں جوائنٹ کمیشن ریسورسز کے غیر منافع بخش ذیلی ادارے کے طور پر ہوا، کمیشن نے مریضوں کی دیکھ بھال اورحفاظت کے ضمن میں انٹرنیشنل اکریڈیشن اورکنسلٹیشن سمیت دیگر پروگرام متعارف کروائے ۔

یہ اعزاز ملنا اتنا آسان نہیں تھا اس کے لیے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر لاہور میں جوائنٹ کمیشن انٹرنیشل کے ماہرین کی جانب سے 5دن کا ایک تفصیلی سروے کیا گیا۔ ان ماہرین کی جانب سے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کے معیار کی کڑی جانچ پڑتال کیگئی ان شعبوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے بین الاقوامی معیار، انیستھیزیا، سرجیکل کئیر،میڈیکیشن مینیجمنٹ، معیار کی بہتری کے انتظامات، انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول، انتظامی امور، فیسیلیٹی مینیجمنٹ، عملے کی تعلیمی قابلیت اور مریضوں اور لواحقین کی آگاہی کے شعبے شامل ہیں۔

شوکت خانم ہسپتال کو پاکستان کے پہلے سپیشلائزڈ کینسرہسپتال ہونے کا اعزاز ہی حاصل نہیں، یہ ہسپتال کینسر کے ان ہزاروں مریضوں کے لیے زندگی کی واحد امید ہے جو کینسر کا مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ ہسپتال ایک بیٹے کی اپنی ماں سے لا زوال محبت کی ایک داستان ہے ، ایک قوم کے جذبہ ء خدمت ، اور ایک قومی ہیرو سے محبت کرنے والے ہزاروں لوگوں کی محنت کی کہانی ہے جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچائیں گے۔

شوکت خانم ہسپتال جس بڑے پیمانے پر اعلیٰ معیار کی سہولیات مستحق مریضوں کو پہنچاتا ہے اس کے لیے ایک بہت بڑے بجٹ کی ضرورت پڑتی ہے جس کو پورا کرنے میں ہسپتال کے خیر خواہو ں کی طرف سے دیے جانے والے عطیات بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ سال 2018کے لیے ہسپتال کا بجٹ تقریباً 11ارب روپے ہے۔ یہ بجٹ ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتا رہا ہے تو اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ایک تو ہسپتال علاج کی سہولیات کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا اور ساتھ ہی یہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں واحد کینسر ہسپتال ہے جو 70سے 80فیصد مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کے کینسر کا علاج انتہائی مہنگا ہوتا ہے اور ایک مریض کے علاج پرکم از کم دس لاکھ روپے تک خرچ ہوتا ہے ۔

ہسپتال اپنے سالانہ اخراجات کا تقریباً نصف اندرون و بیرون ملک اپنے ڈونرز سے عطیات و زکوٰۃ کی صورت میں وصول کرتا ہے جبکہ بقایا نصف لیب کولیکشن سنٹر اور دیگر ذرائع آمدن سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ ہسپتال نے زکوٰۃ کے استعمال کے حوالے سے ایک واضح پالیسی برقرار کھی ہے جس کے مطابق زکوٰۃ کی رقم صرف اور صرف مستحق مریضوں کے علاج پر ہی خرچ کی جاتی ہے اور اس مد میں ہسپتال اپنے قیام سے اب تک تقریباً 33ارب روپے خرچ کر چکاہے۔ شوکت خانم ہسپتا ل میں کسی بھی مریض کے ساتھ اس کی مالی حالت کے پیشِ نظر کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھاجاتااور تما مریضوں کو ایک ہی طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں کینسر کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہوا رہا ہے اور تیزی سے پھیلتی ہوئی کینسر کی شرح کے باعث شوکت خانم میوریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹرز میںآنے والے مریضوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہاں آنے والے ہر مریض کوکینسر کی تشخیص وعلاج کی سہولیات فراہم کی جائیں تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ہمارے محدود وسائل ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم ترجیحی بنیادوں پر صرف ایسے مریضوں کا انتخاب کریں جن کو اس سے فائدہ حاصل ہونے کے امکانات زیادہ ہوں ۔

مریضوں کے اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنے کے لیے 2015میں پشاور میں دوسرا شوکت خانم ہسپتال تعمیر کیا گیاجہاں اب مریضوں آغاز کے مقابلے میں مریضوں کی دوگنی تعداد کا علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف کراچی میں تیسرے اور پاکستان کے سب سے بڑے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کاآغاز بھی سال2018کے اختتام تک متوقع ہے جہاں کینسر کی نشخیص اور علاج کی تما م تر سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ یہ نیا ہسپتال ملک میں کینسر کا علاج فراہم کرنے کی مجموعی گنجائش میں اضافہ کرے گا۔

ہمارے لاہور اور پشاور کے ہسپتالوں میں اس سال 9004نئے مریض رجسٹر کیے گئے ۔ جبکہ دونوں ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 243,633مریضوں کو آؤٹ پیشنٹ کلینک کے ذریعے طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ اس سال پشاورکے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں مریضوں کی آمد میں 20 فیصدکا واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پاکستان کا سب سے زیادہ قابل اعتماد خیراتی ادارہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہماری شفاف مالیاتی پالیسی اور اعلیٰ کارکردگی ہے اورمیں پاکستان کے تمام لوگوں اور بلخصوص ہسپتال کے ڈونرزکو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم آئندہ بھی اپنے مشن کے مطابق غریب اور مستحق کینسر کے مریضوں کو علاج کی جدید ترین سہولیات فراہم کرتے رہیں گے۔


ای پیپر