حسرت کے یہ آنسو!
10 جون 2018 2018-06-10

آج کلاس میں ماں باپ کی عظمت پر ایک حدیث شامل سبق تھا،اسی حدیث کی مطالعہ کر کے اس پر ماں باپ کی عظمت کا ایک واقعہ دیکھا تو حالت یکسر بدل گئی،میں نے سوچاکہ آج کی یہ سبق اس واقعہ کے ساتھ لکھ کر قارئین کرام کے نظر کر لوں،کلاس سے فارغ ہو کر فوراً سٹاف روم میں آکر لیپ اٹھا کر دوزانوں بیٹھ کر وہی درس لکھ کر قارئین کے سامنے کالم شکل میں پیش کر دیا۔

والدین کی عظمت و تقدس کا اعتراف ایمان کا ایک اہم حصہ ہے ،اس شخص کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے جو ماں کی خدمت کے لئے خود کو وقف رکھتاہو، حضورﷺ کی یہ حدیث چشم کشا ہے ، کہ ماں کی قدموں کے نیچے جنت ہے (نسائی)ایک عظیم اور اہم احسان کا ذکر قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف انداز سے کیا ہے ، اللہ فرماتے ہیں اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھااور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا، اس کے حمل کا اور دودھ چھرانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پرور دگار توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر احسان کئے ہیں، اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہو جائے ، اور میری اولاد کو بھی صالح بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں (الاحقاف)

ماں کی عظمت کا ایک سبق آموز واقعہ جو حقیقت پر مبنی ہے کہ حیزان الفہیدی الحربی نامی ایک شخص جوبریدہ سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں (اسیاح) کا رہنے والا ہے ۔ قصیم کی شرعی عدالت میں فیصلہ جیسے ہی اس کے خلاف گیا تو اس نے خود تو رو رو کر اپنی داڑھی کو آنسوؤں سے تر بتر کیا ہی، مگر اس کو دیکھنے والے لوگ بھی رو پڑے ۔ آخر کس بات پر یہ زاروقطار رونا اور غش پڑ جانا؟ اولاد کی بے رخی؟ خاندانی زمین سے بے دخلی؟ حیزان کی بیوی نے اُس پرخلع کا دعویٰ کیا؟ نہیں، ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا تو پھر آخر کس بات کا رونا! ۔حیزان اپنی ماں کا بڑا بیٹا ہے ، اکیلا ہونے کی وجہ سے سارا وقت اپنی ماں کی خدمت اور نگہداشت پر صرف کرتا تھا۔ حیزان کی ماں ایک بوڑھی اور لاچار عورت جس کی کل ملکیت پیتل کی ایک انگوٹھی، جسے بیچا جائے تو کوئی سو روپے بھی دینے پر نا آمادہ ہو۔ سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ ایک دن دوسرے شہر سے حیزان کے چھوٹے بھائی نے آکر مطالبہ کر ڈالا کہ میں ماں کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ شہر میں میرے خاندان کے ساتھ رہ سکے ۔ حیزان کو اپنے چھوٹے بھائی کا اس طرح آکر ماں کو شہر لے جانے کا ارادہ بالکل پسند نا آیا، اس نے اپنے بھائی کو سختی سے منع کیا کہ وہ ایسا نہیں کرنے دے گا، ابھی بھی اس کے اندر اتنی ہمت ، سکت اور استطاعت ہے کہ وہ ماں کی مکمل دیکھ بھال اور خدمت کر سکتا ہے ۔ دونوں بھائیوں کے درمیان تو تکار زیادہ بڑھی تو انہوں نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا، مگر معاملہ عدالت میں جا کر بھی جوں کا توں ہی رہا، دونوں بھائی اپنے موقف سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے اور عدالت پیشیوں پر پیشیاں دیتی رہی تاکہ وہ دونوں کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ مگر یہ سب کچھ بے سود رہا۔ مقدمے کی طوالت سے تنگ آ کر قاضی نے آئندہ پیشی پر دونوں کو اپنی ماں کو ساتھ لے کر آنے کیلئے کہا تاکہ وہ اُن کی ماں سے ہی رائے لے سکے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرے گی؟اگلی پیشی پر یہ دونوں بھائی اپنی ماں کو ساتھ لے کر آئے ، اُنکی ماں کیا تھی محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، بڑھیا کا وزن بیس کلو بھی نہیں بنتا تھا۔قاضی نے بڑھیا سے پوچھا کہ کیا وہ جانتی ہے کہ اُس کے دونوں بیٹوں کے درمیان اُسکی خدمت اور نگہداشت کیلئے تنازع چل رہا ہے ؟ دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اُسے اپنے پاس رکھیں! ایسی صورتحال میں وہ کس کے پاس جا کر رہنا زیادہ پسند کرے گی؟ بڑھیا نے کہا، ہاں میں جانتی ہوں مگر میرے لیے کسی ایک کے ساتھ جا کر رہنے کا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ اگر حیزان میری ایک آنکھ کی مانند ہے تو اسکا چھوٹا بھائی میری دوسری آنکھ ہے ۔ قاضی صاحب نے معاملے کو ختم کرنے کی خاطر حیزان کے چھوٹے بھائی کی مادی اور مالی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ اُس کے حق میں کر دیا۔ جی ہاں، تو یہ وجہ تھی حیزان کے اس طرح ڈھاڑیں مار مار کر رونے کی۔ کتنے قیمتی تھے حیزان کے یہ آنسو! حسرت کے آنسو ، کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرنے پر قادر کیوں نہیں مانا گیا؟ اتنا عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بھی ماں کی خدمت کرنے کو سعادت حاصل کرنے کیلئے یہ جدوجہد؟ شاید بات حیزان کی نہیں، بات تو اُن والدین کی ہے جنہوں نے حیزان جیسے لوگوں کی تربیت کی اور اُنہیں برالوالدین کی اہمیت اور عظمت کا درس دیا۔

موجودہ دورمیں معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہے اور مسلمان اپنی روایات اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں، آئے روز والدین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور قتل جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب ایک معمول بن چکاہے ۔ اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی والدین سے اچھا سلوک ہے جسے مسلمان آج فراموش کرچکے ہیں ۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حقوق العباد کے متعلق اسلام کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور خصوصاً والدین کے مقام و مرتبہ کے متعلق جو احکامات ہیں ، اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مختلف پروگراموں کے ذریعے عام کرے اورمعاشرے کے تمام طبقات اس معاملے میں اہم کردار اداکریں تاکہ مسلم معاشرہ میں والدین اور بزرگوں کو ان کا جائز مقام مل سکے ۔


ای پیپر