جیوندیاں قدر کوئی ناں۔۔۔
10 جون 2018 2018-06-10

جیوندیاں قدر کوئی ناں تے مویاں قدراں‘ کے مصداق پاکستان سپورٹس بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اسلام آباد میں ہاکی سٹیڈیم کو لیجنڈ گول کیپر منصور احمد کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں پاکستان سپورٹس بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی نے قومی کھلاڑیوں کیلئے سپورٹس انشورنش پالیسی لانے، اسلام آباد میں ہاکی سٹیڈیم کو لیجنڈ گول کیپر منصور احمد کے نام سے منسوب کرنے، نارووال سپورٹس کمپلیکس کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کرنے سمیت منصور احمد کے لواحقین کو 10لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

چٹیاں قبراں تے پھل پان والی گل اے کہ قومی ہیرو اپنی زندگی میں حکمرانوں سے زندگی کی بھیک مانگتے مانگتے لحد میں اتر گئے مگر کسی کو رتی برابر بھی شرم نہ آئی، ان کے مرنے کے بعداجلاس ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ ابو عاکف، ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ عامر علی احمد، ڈپٹی ڈی جی ایڈمن منصور احمد خان سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی، اجلاس میں ہاکی لیجنڈ منصور احمد کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور کھلاڑیوں کی دوران علالت، حادثے کے پیش نظر قومی کھلاڑیوں کیلیے سپورٹس انشورنش پالیسی لانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت تمام فیڈریشنز سے کھلاڑیوں کے نام لیے جائینگے اور سٹیٹ لائف کے ذریعے ان قومی ایتھلیٹس کی انشورنس کروائی جائے گی لیکن کتنے دکھ کی بات ہے کہ اس پالیسی میں ان کی زندگی میں کچھ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں؟ اجلاس میں لیجنڈ گول کیپر منصور احمد کے نام سے ہاکی سٹیڈیم منسوب کرنے سمیت حکومت کی جانب سے منصور احمد کے اہلخانہ کو 10لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کی منظوری دی گئی جبکہ بیڈمنٹن کی سابق پلیئر زرینہ وقار کے علاج کیلئے بھی 10لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

قارئین کئی ہیرو جنہوں نے دنیا میں ملک کا نام روشن کیا چاہے وہ شعبہ سپورٹس سے ہوں، شو بزنس سے تعلق ہو، صحافت میں لوہا منوایا ہو، مذہب کیلئے دنیا میں نام روشن کیا ہو ہم نے ان کی قدر نہیں کی کسی بیورکریٹ کو، کسی سیاستدان کو، کسی کن ٹٹے کو، کسی ملک کیخلاف بولنے والے کو، کسی پاک فوج کیخلاف ’’بک بک‘‘ کرنے والے کو چھینک بھی آ جائے تو بیرون ملک علاج کیلئے جہاز ہر وقت تیار کھڑا ہوتا ہے لیکن جن لوگوں نے ملک کا نام روشن کیا جن لوگوں نے گرین کارڈ کو جوتے کی نوک پر رکھا ہم نے ان کی قدر نہ کی ذلیل و خوار کیا، وہ آہیں بھرتے اس دنیا سے چلے گئے پھر ہم نے ’’ستے پئے منڈے دا منہ چمیا‘‘ تعزیتی ریفرنس کروا کر اخبارات میں بڑی بڑی خبریں لگوا کر روڈز اور محلوں سمیت سپورٹس گراؤنڈز ان کے نام سے منسوب کرکے ؟

قرآن نے لعنت سے منع فرمایا ہے ورنہ کروڑ ہا بار موجودہ سیاستدانوں پر لعنت بھیجتا کہ جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے قانون کو موم کی ناک بنایا، جنہوں نے اپنے مفادات کیلئے آرڈیننس تیار کیے، جنہوں نے اپنی تنخواہیں بڑھانے کیلئے عوام سے مشورہ نہ کیا،کالا باغ ڈیم کا مسئلہ ہوتوکہا جاتا ہے ہم عوام کے پاس جائیں گے، جاتا کوئی نہیں، ملکی مفاد پر دھبہ آئے تو عوام کے پاس جانے کا راگ الاپا جاتا ہے، الیکشن آئے تو بھی عوام کے پاس جانے کی گردان کی جاتی ہے لیکن یہ صرف ٹوپی ڈرامہ ہوتا ہے کون پوچھتا ہے عوام سے ، کیا عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کرتے وقت کسی نے عوام سے پوچھا، کیا ممتاز قادری کو پھانسی دینے سے قبل کسی نے عوام سے پوچھا، کیا قاتل ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کرتے وقت عوام سے پوچھا گیا، کیا قاتل کرنل جوزف کو چھوڑتے وقت عوام سے پوچھا گیا، نہیں کیونکہ ہمارے سیاستدان غدار اور غداروں کی اولادیں ہیں جنہوں نے ملک بنایا وہ عزت سے چلے گئے جو بعد میں آئے نے ہندوؤں اور سکھوں سے وفاداری کے عوض جاگیریں حاصل کیں وہ بد قسمت عوام پر قابض ہوگئے۔

اسی لئے خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا کل کو وزیر اعظم ،صدریا کسی اور اہم شخصیت کو کوئی امریکی سفارتکار مار ڈالے گا تب بھی اسے استثنا مل جائے گا؟ قارئین بات چلی ’’ہیروز ‘‘ سے اور پہنچ گئی’’ زیروز‘‘ تک جنہوں نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ’’ابا‘‘ پی پی میں تو بیٹا’’ن لیگ‘‘ میں بیٹی ’’پی ٹی آئی ‘‘میں تو بیوی کسی اور پارٹی میں سب نے اپنی اپنی دکانداری سجائی ہوئی ہے، یہ بھی نہ ہوا تو ایک پارٹی میں پانچ سال کھابے اڑائے پھر کسی اور میں اڑان بھرلی، اللہ اللہ خیر صلہ، ترقیاتی کاموں کے نام پر لوٹ مار، صحت کے نام پر لوٹ مار، تعلیم کے نام پر لوٹ مار، کشمیر کے نام پر لوٹ مار، غرض کہ ہر وہ کام جس میں کمائی کا ذریعہ ہو اس میں ان نام نہاد نمائندوں کا مفاد عزیز ہے میں لٹ مار کی گئی، عوام مرے یا جئے انہیں کیا، صرف ایک سوال کا جواب چاہیے کہ کیا 10لاکھ روپیہ میں منصور احمد کے اہل خانہ کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے، آخر میں بس اتنا ہی کہ زندہ ہو تو پانی نئیں پچھنا ، مر جائے تے قبر اں تے پھل پوندے نیں؟؟؟


ای پیپر