ترک عدالت نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی
10 جولائی 2020 (19:59) 2020-07-10

استنبول:ترکی کی عدالت نے عجائب گھر آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے تجویز دی تھی کہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا مسجد کا درجہ بحال کیا جائے۔ آیا صوفیہ جو کہ 16ویں صدی کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے مسیحیوں کی بازنطینی اور مسلمانوں کی سلطنتِ عثمانی دونوں کے لیے اہم تھا اور اب ترکی کی وہ یادگار ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد جاتے ہیں۔

آیا صوفیہ کی موجودہ عمارت ڈیڑھ ہزار سال قبل 538 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی،تاہم ترکی کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ امریکی، روسی یونانی افسران اور مسیحی رہنماؤں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

واضح رہے کہ آیا صوفیہ کو 1934 میں عجائب گھر بنا دیا گیا تھا اور ابھی مسئلہ اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر ہے۔ یہ فیصلہ مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور میں ترک سیکولر ریاست کی بنیاد کے ایک دہائی بعد کیا گیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ بڑی طاقتوں، تہذیبوں اور مذاہب کے تصادم کی داستان سناتی ہے۔


ای پیپر