تو سمجھتاہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
10 جولائی 2019 2019-07-10

چند روز قبل ایک دوست نے ایک وےڈیوکلپ ارسال کیا۔ ایک تفریحی ٹاک شو میں شیرمیاں داد قوال ”عشقِ مجسم“الاپ کرتے ہوئے اچانک میری مشہور زمانہ غزل کا مطلع بگاڑ کر گارہے ہیں ۔

غزل کا اصل مطلع یہ ہے :

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں

مطمئن ایسا ہے، وہ جسے ہوا کچھ بھی نہیں

موصوف نے اسے ترمیم کرتے ہوئے گایا :

ان کے نزدیک غمِ ترک وفا کچھ بھی نہیں

مطمئن ایسے ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں

اور کسی حدتک ساقط الوزن کردیا۔ اِسی طرح اگلے تین اشعار میں بھی ”بھونڈی“ ترمیم کردی۔ مقطع جس میں شاعر کا تخلص ہوتا ہے یکسر گایا ہی نہیں وجہ یہ تھی کہ اس میں میرا نام آتا اور قوال صاحب جسے جون ایلیا کا کلام کہہ رہے تھے، اس کی تردید ہوجاتی۔

عزیز قارئین:میری یہ غزل میری شہرت بھی آگے نکل گئی ہے۔ 1980ءکی دہائی میں تخلیق ہونے والی میری یہ غزل سینکڑوں رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع شدہ ہے۔ اسی دور میں روزنامہ امروز کے سنڈے میگزین، روزنامہ امن کراچی اور ماہنامہ تخلیق جیسے جرائد میں چھپی ہوئی ہے۔ انہی ایام میں نصرت فتح علی خاں جیسے عظیم گلوکار نے اپنی قوالی کے ابتدائی الاپ میں بھی اس کی اشعار استعمال کیے۔ انہی کے الاپ کے سبب یہ غزل بہت مشہور ہوئی، مجھے بہت تاخیر سے علم ہوا کہ نصرت فتح علی خاں نے اس غزل کو گایا۔ یہ غزل یوٹیوب پر سینکڑوں کلپ کے ساتھ موجود ہے اور میرے نام سے موجود ہے۔ میں نے کئی مشاعروں ٹی وی پروگراموں میں اسے پیش کیا۔ جس کا ریکارڈ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ گوگل پر میرانام لکھیں یا غزل کا مصرعہ تو بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں جب میں لاہور آیا تو اسے لاہور ریڈیو پر مختلف گلوکاروں نے گایا۔ ممتاز غزل گائیک غلام علی، گلوکارہ ترنم ناز، خالد اصغر ،ڈاکٹر امجد پرویز اور دیگر فنکاروں نے بھی اسے عمدگی سے گارکھا ہے۔ فیس بک پر سینکڑوں بار اسے پوسٹ کیا گیا۔ میرے احباب نے اس کے مختلف اشعار اپنی وال پر لگارکھے ہیں۔ میں حیران ہوں شیرمیاں داد نے کیوں تحقیق نہ کی۔ معمولی سی تحقیق سے اس غزل کے حقیقی شاعر تک پہنچا جاسکتا تھا ریختہ پر بھی موجود ہے۔ اس غزل کے آغاز میں دو وزن سے خارج اشعار الاپ کرکے اور ”عشق مجسم“ کا ”دُم چَھلّا “ لگاکر شیرمیاں داد نے اسے اپنی ترمیم وترتیب سے گاکر اسے 2019ءکا اپنا مشہور آئیٹم قرار دے دیا۔ شاعر کو کریڈٹ نہیں دیا گیا۔ نہ اجازت لی گئی الٹا جیوکے پروگرام ”خبرناک“ کی ٹیم کو بھی یہ باور کرایا گیا کہ یہ غزل ”جون ایلیا“ کی ہے۔ گویا گلوکار نے انہیں بھی ”مس گائیڈ“ کیا۔ اور اینکر نے بھی ”جون ایلیا“ کا کلام کہہ دیا۔ اب یہ غزل یوٹیوب پر چل رہی ہے۔ اور مختلف ویڈکلپ کے ساتھ اس کے اشعار جو ترمیم شدہ ہیں میرے لیے”صدمہ“ کا باعث ہیں۔

ایک شاعر کی زندگی میں، کس دیدہ دلیری سے اس غزل کے اشعار میں تحریف کرکے پیش کیا جارہا ہے جو میری چالیس سالہ ادبی ریاضت اور ساکھ کو سخت نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ میں نے گلوکار شیرمیاں داد کو اپنے وکیل افتخار شوکت کے ذریعے لیگل نوٹس بھجوادیا ہے۔ ”خبرناک“ والوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس کی دوبارہ درست ایڈیٹنگ کرکے میرا نام اس میں شامل کرکے یوٹیوب پر لگائیں۔ شاعروں ادیبوں کے ساتھ پہلے ہی پبلشرز حضرات کی طرف سے مناسب سلوک نہیں کیا جاتا۔

پبلشرز ، کاغذ، کمپوزنگ، پرنٹنگ حتیٰ کہ بائنڈنگ اور بیچنے والوں کو بھی مناسب قیمت کمیشن دیتے ہیںنہیں دیتے تو شاعر کو رائلٹی نہیں دیتے۔ اسلام آباد کا ایک دوست نما پبلشرپچھلی دودہائیوں سے میری کتاب فروخت کررہا ہے اس سے بیس برسوں میں 500کتب فروخت نہیں ہوسکیں جبکہ دیگر پبلشرز اس کے دو دوایڈیشن ختم کرچکے ہیں۔ یہی حال گلوکاروں کا بھی ہے ۔وہ جس کلام سے لاکھوں کماتے ہیں اس کے خالق کو رائلٹی کیا نام کا کریڈٹ دینے سے بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ شاعروں ادیبوں کی تنظیموں اور خود رائٹرز کو اس نامناسب رویے کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر بھی ، لکھنے والوں کے کریڈٹ کو نمایاں ہونا چاہیے خاص طورپر ریڈیو ، ٹی وی پر جس شاعر کا کلام گایا جائے شاعر کا نام نمایاں طورپر دکھایا جائے ۔اکادمی ادبیات پاکستان جو اہل قلم کا سرکاری ادارہ ہے، اسے بھی اہل قلم کے حقوق کے لیے مناسب آواز بلند کرنی چاہیے۔ ورنہ ایسی ناانصافی ہردور میں ہوتی رہے گی۔ یہ تو تحریک انصاف کی حکومت ہے اس میں تو اہل قلم کو میرٹ پر انصاف ملنا چاہیے۔ سرکاری ایوارڈ ہوں،مراعات، یا کتب پر انعامات ہرجگہ میرٹ کو ملحوظ ہوناچاہیے ۔شعراءسے ناانصافی کرنے والے تخلیق کاروں کی آواز کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہم جو دوسروں کے حقوق کے لیے لکھتے ہیں آج خود اپنے لیے کالم لکھنا پڑا مگر دکھی دل کے ساتھ مجبوراً شیر میاں داد جیسے گلوکاروں کے لیے ہی یہ شعر کہہ رکھا ہے کہ :

میں تو اس واسطے چُپ ہوں کہ تماشا نہ بنے

تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں

مگر اب تماشا لگانا ہی پڑ گیا۔ صرف اور صرف حق اور سچ کے لیے۔


ای پیپر