خطِ غبارِ من است این غبارِ خاطرِ ما

10 جولائی 2018

ڈاکٹر زاہد منیر عامر

مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’غبار خاطر‘‘ میں لکھا ہے کہ میں جب قاہرہ میں تھا تو باقاعدگی سے دارلاوبرا جایا کرتا تھا۔ مولاناکی اس بات سے مجھے دارلاوبرا (Cairo Opera House)دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی میں نے اس بات کا ذکر ایک دوست سے کیا انھوں نے اسے نہ صرف یاد رکھا بلکہ وہ چند ہی روز بعد قاہرہ سمفنی کے ٹکٹ لے کر میرے ہاں پہنچ گئے، مجھے زمالک میں میری رہائش گاہ سے لیا اور ہم کچھ ہی دیر میں دارلاوبراکے مرکزی دروازے پر تھے۔ یہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے ام کلثوم کا مجسمہ دکھائی دیا۔ ام کلثوم یعنی کوکبۃ الشرق،یہ بعینہ وہی مجسمہ ہے جو زمالک میں میری رہائش کے قریب برج ام کلثوم کے باہر نصب ہے۔ ام کلثوم مصر کی نامور مغنیہ تھی جس نے اقبال کے شکوہ جواب شکوہ کے منتخب حصے گا کر اقبال کو اوّل اوّل عالمِ عرب میں متعارف کروایا تھا۔ہم آہستہ آہستہ مرکزی ہال کی طرف بڑھ رہے تھے۔ابھی پروگرام کا آغاز نہیں ہوا تھا کچھ ہی دیر میں سٹیج پر دونوں جانب چار چار صفوں میں فن کارآکر بیٹھ گئے ،دائیں جانب والوں کے پاس بہت بڑے سائز کے آرکسٹرا تھے اور بائیں جانب کی صفوں میں آرکسٹرا کا سائز چھوٹا ہو تا چلا گیا تھا۔ یہی صورت اسٹیج کی دوسری طرف بھی تھی ۔یہ محفل قاہرہ میں فن لینڈ کے سفارت خانے کی طرف سے منعقد ہو رہی تھی ۔پہلے غالباً فنش سفارت خانے کے ایک افسر نے آکر کہا کہ موسیقی دنیا کی مشترک زبان ہے اور ایک خوش گوار شب کی دعا کی،یوں انھوں نے مہمانوں کو خوش آمدیدکہا۔ اس کے بعد ٹیم میں سے ایک صاحب نے اٹھ کر ہلکی سی دھن بجوائی جو بڑے فن کاروں کے استقبال کا اعلامیہ تھی اس کے بعد رالف جوتونی اور ارتو نوراس سٹیج پر آئے جن کا بھرپور تالیوں سے استقبال کیا گیا ۔
یہ پروگرام قاہرہ میں فن لینڈ کے سفارت خانے کی طرف سے منعقد کیا جا رہا تھا۔ فن لینڈ ۱۹۱۷ء تک روسی ایمپائر ہی کا ایک حصہ تھا ۔اس کی آزادی کے لیے کوشش کرنے والوں میں جین سبلس کے نام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جس کی بنائی ہوئی سمفنی کی بہت سی دھنوں پر اس بنا پرپابندی عاید کر دی گئی تھی کہ ان سے فِنِی عوام کو آزادی کا درس ملتا تھا۔ یہ ۱۹۱۷ کا واقعہ ہے جب ابھی جین اپنی عمر کی محض تیسری دہائی میں تھا،اس کی ایک سمفنی کو جس کانام ''Finland Awakes'' تھا جوبعد ازاں Finlandiaکے نام سے معروف ہوئی ، فن لینڈ کی تحریک حریت میں خاص مقام حاصل ہے ۔آج کی اس محفل کا دوسرا اور اہم سیشن فن لینڈ کے اسی قومی فن کار کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ رالف جوتونی (Ralf Gothoni)بھی فن لینڈ کا فن کارہے جو سپین میں رہتا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ دنیا کا بڑا پیانو نواز اور پیانو کی ٹیم کا قائد(Pianist & Conductor)ہے اس نے بڑی ہی تن دہی اور انوالومنٹ کے ساتھ پیانو کی اس محفل کی قیادت کی، یوں محسوس ہو تا تھا کہ وہ پوری طرح اپنے فن میں ڈوبا ہو اتھااس کا انگ انگ اس کے فن میں شریک تھا اور پیانو نوازوں کی ساری محفل حسب توفیق اس کی انگلیوں کے اشاروں پر عمل پیرا تھی۔۔۔
ارتو نوراس(Arto Noras) آج کی دنیا میں سیلو کا مانا ہوافن کار (Cellist)ہے اس نے ۱۹۶۶ء میں ماسکو میں ہو نے والے بین الاقوامی مقابلوں میں شہرت حاصل کی وہ فن لینڈ کے قومی مقابلۂ موسیقی اور بین الاقوامی پالو سیلو مقابلے (PauloCello Competitionکا آرٹسٹک ڈائریکٹر اور سیلو کا پروفیسر ہے اس کا جسم اور اس کی انگلیاں، اس کے وائلن پر بے قراری سے تڑپ رہے تھے، جسم کا تحرک، وائلن کی سروں سے زیادہ تھا، یوں محسوس ہو تا تھا کہ اس کا وجود فن سے بھراہواہے جسے باہر نکلنے کی راہ نہیں مل رہی۔اس کی کیفیت دیکھ کر مجھے اپنے محترم پروفیسرمرزامحمد منور صاحب مرحوم یاد آئے ،تقریر کرتے ہوئے ،جن کا جسم ،خاص طور سے ہاتھ ،ان کے الفاظ سے آگے نکل نکل جایاکرتے تھے ۔
رالف جوتونی کی پرفارمنس بہت شاندار تھی لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ ٹیم کے باقی افراد میں اس ایسا جوش و جذبہ نہیں تھا، کہیں کہیں توان کے سُرتا ل(اگر آرکسٹرا میں ان اصطلاحوں کی گنجائش ہو)الگ بھی ہو جاتے تھے،پاکستان میں جب آرکسٹرا بجایاجاتا ہے تو فن کاروں کے پیانو کی فڈلز(Fiddles،غالباً اسے اردو میں مضراب کہنا جائز ہو) بھی یکساں حرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں، اس قدر کہ ان کی اٹھان سے بننے والے زاویے بھی ایک دوسر ے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں لیکن یہاں فڈلز کابنایا ہوا منظر نامہ ایسا نہیں تھا۔آرکسٹرا کی سمفنی کے دودور ہوئے پہلادور تین حصوں پر مشتمل تھا اس دوریعنی concerto for cello and orchestraکو Antonin Dvorak (1841...1904)کے نام سے منسوب کیا گیا دوسرے دورکے چار مراحل تھے جنھیں mphony Sکہا گیا اور اسے Jean Sibelius (1865 ...1957)کے نام سے منسوب کیا گیا پہلا دور Allegro , Adagio ,Finaleکے مراحل پر جب کہ دوسرا دورا,Andante,(ma non troppo lento)Andante,Alegroenergico Scherzo اور Finale کے مرحلوں پر مشتمل تھا ۔
پہلے دور میں استقبالیہ دھن کے بعد رالف جوتونی اور ارتونوراس داخل ہوئے اور ارتو نوراس اپنا وائلن سنبھال کر کرسی پر بیٹھ گئے جبکہ رالف جوتونی سٹیج پر بنے ہوئے ایک چھوٹے سے پلیٹ فارم پر اپنی ٹیم کی جانب اور حاضرین محفل کی جانب پشت کر کے کھڑے ہوگئے،ان کی انگلیوں کی جنبش اور ان انگلیوں میں تھامی ہوئی ایک چھوٹی سٹک کے اتار چڑھاؤمحفل کی گرمیِ رفتار کاسامان تھے جیسے جیسے ان کی سٹک حرکت کرتی بازو بلند ہوتے جسم تڑپتا اور وہ اپنے قدموں پر یوں اچھلتے جیسے رقص کر رہے ہوں تو محفل کا رنگ دیدنی بلکہ شنیدنی بھی ہو جاتا ۔کہاجاتا ہے کہ سمفنی کی روایت کے مطابق یہ کہانی کا خدا ہے جو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے جبکہ وہ جو لوگوں کے سامنے منہ کر کے بیٹھا وائلن کی آواز کے شعلوں سے آگ لگا رہا ہے، وہ ہے جس پر بیت رہی ہے (یہاں ارتونوراس یہ کردار ادا کر رہے تھے )جبکہ ٹیم کے باقی ارکان دنیا ہیں جو اس کہانی پر تبصرہ کر رہی ہے۔
نو بجے شروع ہونے والی یہ محفل رات گیارہ بجے اختتام پذیر ہو ئی، جس کے دو مرحلوں کے درمیان میں پندرہ منٹ کا وقفہ بھی تھا۔تمام محفل کے دوران میں کامل سکوت طاری رہا۔ ایک ہم نشین مجھے اثنائے پروگرام میں کچھ بتانا چاہ رہے تھے تو ہمارے عقب میں بیٹھے ایک صاحب نے ان کا کندھا جھنجوڑ کر انھیں بولنے سے منع کردیا ۔پروگرام شروع ہونے سے چند لمحے پہلیکچھ اور مانوس چہرے بھی دکھائی دیے بعض تو ہمارے ساتھ ہی کرسی نشین ہوئے ۔واپسی پر فن لینڈ کے وہ نوجوان جو ہمارے اس دورہ کے اصل میزبان تھے اور جنھوں نے ہمارے لیے اس پروگرام کے دعوت نامے بھجوائے تھے اپنی بیگم کے ساتھ ملے۔یہ مسٹر سامی فرسٹیڈیس اور ان کی بیگم تھے۔ مسٹر سامی کی بیگم قاہرہ کے فنش سفارت خانے میں تھیں جب کہ مسٹر سامی پاکستان انٹر نیشنل سکول قاہرہ میں انگریزی پڑھاتے تھے۔اب یہ دونو فن لینڈ واپس جا چکے ہیں۔ فن لینڈ کے کچھ اور لوگوں کو بھی دیکھا ان کے اطوار عام یورپیوں کی طرح تھے ۔خوش اخلاقی سے پیش آئے ۔کچھ دیر بعدہم ہال سے باہر آگئے،باہر ایک بڑا مجسمہ ہماری توجہ کا مرکز بنا۔ یہ ایک کرسی نشین شخص کا مجسمہ تھا پہلے تو آنکھوں کی نابینائی سے اس پر طہ حسین کا گمان ہوا لیکن یہ ان کا مجسمہ نہیں،مجسمے کے سامنے پیچھے یا کہیں اور کوئی نام یا تفصیل درج نہیں تھی۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصر کے مطرب کبیر محمد عبدالوہاب کا مجسمہ ہے ۔یہاں وہاں اور بھی مجسمے نصب ہیں۔ قاہر کا پرانا دارالاوبرا جس کا ذکر مولانا آزاد نے’’ غبارخاطر‘‘ میں کیا ہے پرانے شہر وسط البلد میں واقع تھاجسے خدیو اسماعیل نے ۱۸۶۹ء میں تعمیر کروایا تھا۔یہ اطالوی طرز تعمیر کا نمونہ تھا اور محض چھ ماہ کی مدت میں تیار کیا گیا ۔دارالاوبرا کی یہ اولین عمارت ۲۸/ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو ایک حادثے میں جل کر خاکستر ہوچکی ہے۔موجودہ عمارت نئی ہے اور نئے شہر کے قلب میں واقع ہے ۔یہ عمارت جاپان کے ادارے جائیکا (Japan International Cooperatin Agency)نے تعمیر کی ہے اور اس کے ڈیزائن میں مشرقی فن تعمیر کی خصوصیات کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔عمارت کا سنگ بنیاد مارچ ۱۹۸۵ء میں مصرکے اس وقت کے صدرحسنی مبارک نے رکھااور انھی کے دور حکومت میں اکتوبر ۱۹۸۸ء میں شہنشاہ جاپان کے چھوٹے بھائی تومو ہی تو آف می کاسا نے ایک شاندار تقریب میں اس کا افتتاح کیا۔یہ ایک بڑا ثقافتی مرکز ہے۔یہاں ایک میوزک لائبریری بھی ہے جس میں عرب دنیا کی موسیقی کے یادگار ریکارڈ محفوظ کیے گئے ہیں ۔فن موسیقی پر شائع ہونے والے رسائل و جرائد کے ذخائر ہیں۔ اس فن سے متعلق کتابوں کا یک بڑا ذخیرہ محفوظ ہے جسے دیکھ کر اس شعبے میں ہونے والے کام کی وسعت کا ندازہ ہوتا ہے ۔ یہ کتابیں عام کتابوں سے سائز اور ضخامت میں کہیں بڑی ہیں اور ان کی اشاعت بہت اہتمام سے ہوئی ہے کتابوں کے علاوہ سی ڈی سیکشن اور ویڈیو کیسٹ سیکشن بھی ہے ۔ویڈیو کیسٹس دیکھنے کے لیے ایک لیبارٹری نماکمرے میں قطار اندر قطار کمپیوٹر رکھے ہیں جن پر شائقین آکر اپنے من پسند پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔دارالاوبرا میں وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والی محافل موسیقی کا ریکارڈ بھی یہاں رکھاجاتا ہے اس لائبریری میں داخلے کا ٹکٹ بہت کم یعنی ایک مصری پاؤنڈ رکھا گیا ہے ۔
دارالاوبرا میں ایک سے زیادہ اور ایک سے بڑھ کر ایک آڈیٹوریم بنائے گئے ہیں۔فنون لطیفہ سے متعلق یہاں بعض مستقل نمائشیں لگی رہتی ہیں۔ بعض سرکاری علمی اداروں کے دفاتر بھی ہیں مثلاً المجلس الاعلیٰ الثقافہ اور المرکز القومی للترجمہ وغیرہ۔ یہاں تعلیمی ترقی کا مرکز Educational Development Centre) (بھی ہے ،چھ ذیلی شعبوں پر مشتمل یہ مرکزاپریل ۱۹۹۲ء میں قائم گیا۔یہ ادارے مصر کی وزارت ثقافت کے تحت کام کرتے ہیں ۔ المرکز القومی للترجمہ دنیا کے اعلی ٰ ادب کو عربی میں منتقل کرنے کا کام کرتا ہے اور بہت باقاعدگی سے علمی موضوعات خصوصاً ترجمے کے فن پر کانفرنسیں منعقد کرتا ہے اور ان کانفرنسوں کی روداد پر مشتمل نہایت خوبصورت کتابیں اور رسالے بھی شائع کیے جاتے ہیں۔راقم کی اردو شاعری کے عربی ترجمے پر مبنی کتاب بدایات و نہایات بھی اسی ادارے نے شائع کی ہے۔

مزیدخبریں