مدینے کا دسترخوان
10 جولائی 2018 2018-07-10

مدینے والوں کے دل اور دسترخوان بہت وسیع ہیں۔ دینِ محمدیؐ بھی ایک دسترخوان ہے۔۔۔ وسیع و عریض! اِس خوانِ ایمان کے میزبانِ حقیقی خود رسولِ کریمؐ ہیں۔ تمام امتی اس خوانِ نعمت پر مدعو ہیں۔ کسی اُمتی کیلئے زییا نہیں کہ وہ کسی دوسرے اُمتی کو اس دسترخوان سے اٹھائے۔۔۔ اس سے میزبان ناخوش ہوں گے۔ مدینے کے دسترخوان پر افطاری کے سمے مجھے یوں معلوم ہوتا جیسے یہ دسترخوان پوری کائنات تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔و اللہ یعطی وانا قاسم۔۔۔ اور ابوالقاسمؐ کے بازوئے رحمت نے پوری کائنات کو اپنی آغوشِ میں لے لیا ہے۔ اللہ‘ رب العالمین ہے اور اس کے رسولؐ‘ رحمت اللعالمین!! تخلیق ۔۔۔ رحم اور رحمت کے پردوں میں نمو پاتی ہے۔ گویا رحمت کا ظہور نقطۂ کُن سے پہلے وقوع پذیر ہو چکا ہے۔
مسجدِ نبویؐ میں اندرونی صحن کی چھتریوں کے نیچے ڈیرہ لگا لیا۔ یہیں پر افطاری کا دسترخوان بچھ جاتا ہے اور میزبان بچھ بچھ جاتے۔ یہاں روزانہ ہمارے میزبان اپنے ہاتھ سے سب کو آبِ زمزم ڈال کر دیتے۔ نوکروں کی فوج ظفر موج کی موجودگی کے باوجود اپنے ہاتھ سے دسترخوان سمیٹتے، اور سب سے آخر میں ہمارا میزبان ‘ جو خود ایک خوشبواد شخص تھا‘ سب کے ہاتھوں پر خوشبو لگاتا۔ میں کئی دنوں سے یہ طریقِ میزبانی دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں اس شخص کی عالی ظرفی کا معترف ہوا جا رہا تھا۔ اس کے ایک ملازم سے چپکے سے میں نے اس کا نام پوچھ لیا تھا۔ ایک دن میں نے ہمت کی اور مدعائے دل اپنے میزبان کے سامنے پیش کر دیا۔ شکر ہے وہ انگریزی سمجھتا تھا اور مجھے زیادہ دقت نہیں ہوئی، وگرنہ ’’زبانِ یارِمن ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘ کا محاورہ بلادِ عرب میں عربی کے ساتھ سمجھ آتا ہے۔ میں نے کہا‘ مسٹر ولید علی میں نے سیرت کی کتابوں میں ایک واقعہ پڑھا ہے، یہیں اس مسجدِ نبویؐ میں ایک صحابی نے رسولِ کریمؐ سے عرض کیا‘ یا رسول اللہ! یہ شخص جو ابھی گیا ہے‘ مجھے بہت اچھا لگتا ہے، آپؐ نے فرمایا‘کیا تْو نے اسے یہ بتایا ہے۔ صحابی نے عرض کیا‘ نہیں بتایا۔ آپؐ نے فرمایا‘ جاؤ! اور ابھی اسے جا کر بتاؤ کہ تم مجھے بہت پیارے لگتے ہو۔ تمہیداً یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد میں نے کہا‘ جنابِ محترم‘حکمِ نبوی ؐ کے تحت میں بھی مسجدِ نبویؐ میںآج اور اسی وقت آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جب اپنے ہاتھوں سے ہمارے کاسے بھرتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے ہمارا دسترخوان سمیٹتے ہیں اور پھر ہمارے ہاتھوں کو عطر بیز کرتے ہیں تو میرا دل آپ کی محبت میں لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ میزبان اور اندازِ میزبانی میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ میرے میزبان نے مجھے بتایا کہ یہ دسترخوان اس کے بھائی (غالبا! برادرِ نسبتی) اکرم بخش کا بندوبست کردہ ہے، ان کا بھی شکریہ ادا کیجئے گا۔ اس محبت بھرے سپاس نامے میں اپنے بھائی کو شریکِ عنوان بنا لینا بھی اس شخص کے عالی ظرف ہونے کی دلیل تھی۔
میرے بائیں جانب مراکش کے ایک ڈپلومیٹ تھے۔ مجھے کلامِ مجید روانی سے پڑھتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے پوچھا‘کیا آپ عربی ہو؟ انہیں حیرت اس بات پر تھی کہ یہ شخص روانی سے عربی پڑھ رہا ہے، لیکن عربی بول نہیں رہا۔ میں نے انگریزی میں جواب دیا کہ میں پاکستان سے ہوں، انہوں نے جواب میں جو کچھ کہا، وہ عربی تھی نہ انگریزی۔ معلوم ہوا کہ ان سے بات چیت کیلئے فرانسیسی زبان چاہیے۔ مراکش فرانسیسیوں کے زیرِ تسلط رہا ہے، ہماری طرح وہاں بھی تعلیم یافتہ ایلیٹ کلاس سابقہ حکمران قوم کی زبان میں بات کرنے کے ہنر کو قابلیت کا جوہر جانتی ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے موبائل پر گوگل ٹرانسلیٹ کی مدد سے لکھ کر بتایا کہ ہم لوگ عربی زبان پڑھ لیتے ہیں لیکن بولنا اور سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ انہوں نے بھی اسی طرح اپنے موبائل کی مدد سے فرانسیسی میں لکھ کر انگریزی میں ترجمہ کرتے ہوئے مجھے ’’مشورہ‘‘ دیا کہ قرآن کا ترجمہ بھی سیکھنا چاہیے۔ ہماری یہ موبائل حرکتیں دیکھ کر میرے بیٹے نے ہم دونوں کو مشورہ دیا کہ آپ لوگ براہِ راست عربی کا اردو میں ترجمہ کر لیں تاکہ درمیان میں دو اضافی زبانیں ختم ہو جائیں۔ ایک دانشور اور ایک ڈپلومیٹ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ مراکش والے صاحب ہر نماز میں ایک مخصوص جگہ پر آکر بیٹھ جاتے۔ وہاں بیٹھے ہر شخص پر مجھے بے پایاں پیار آرہا تھا۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے مسجدِ نبویؐ میں ایک بہت بڑی کلاس لگی ہوئی ہے اور ہر طالب علم نماز میں اپنی حاضری لگوانے کیلئے آتا ہے۔ مجھے یہاں ہر شخص اپنا کلاس فیلو معلوم ہوتا تھا۔ درحقیقت ہر طالبِ علم حصولِ علم کیئے شہرِ علمؐ تک ہی پہنچے گا۔ یہ بہت بڑی کلاس ہے، یہاں نرسری سے لے کر پی ایچ ڈی تک سب نصاب بیک وقت پڑھائے جا رہے ہیں۔ ہر طالبعلم کا نصاب اس کے علم ، فہم ، شعور اور درجہِ ایقان کے مطابق ہے۔ اس لئے خبردار! کوئی کسی کا ممتحن نہ بنے۔ حساب بمطابق نصاب ہوتا ہے۔
ہمارے میزبان ہمیں افطاری میں اعلیٰ قسم کی کھجوریں، دہی کا ڈبہ ، کچھ خشک میوہ جات، بڑی مزیدار قسم کی دبیز تہوں والی ڈبل روٹی ‘ جسے یہ لوگ خبز کہتے، اور قہوہ پیش کرتے۔ مقدار میں قلیل لیکن غذایت سے بھرپور یہ افطاری صبح سحری تک کیلیے سیر کر دیتی۔ اپنے ہاں پکوڑوں، سموسوں اور دہی بھلوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر ہم افطاری کو جیب اور پیٹ دونوں کیلئے بوجھل کر دیتے ہیں۔ معلوم نہیں مسلمان فاقے سے کیوں ڈرتا ہے۔ فاقہ تو ہماری قوت ہے۔ ہماری بہت سی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا افاقہ فاقے میں ہے۔
مدینے والوں سے بہتر میزبان میں نے دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ مدینے کی ہوا میں ایسی لطافت اور نظافت کا جوہر موجود ہے کہ بخل سمیت دل کا میل کچیل سب دھل جاتا ہے۔ راقم کی نعت کا ایک شعر ہے:
دْھل گئی ہو گی گناہوں کی سیاہی
مدینے کی ہوا آبِ رواں ہے
حیرت ہوتی ہے‘ مدینے کے مکیں اتنے متحمل مزاج اور خوش اخلاق کیسے ہوتے ہیں، حالانکہ یہاں بھی وہی رنگ نسل اور زبان کے لوگ ہیں جو اَرد گرد ہزاروں میلوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ شہرِ مدینہ میں لوگوں کے صاف اور شفاف رویوں کو دیکھ کر زائر کا دل بھی صاف ہونے لگتا ہے۔ جدہ سے مکہ تک سنگلاخ پہاڑ اور رویے بھولنے لگتے ہیں، دل سے گلے شکوے صاف ہونے لگتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ شہرِ علمؐ میں علم کے ساتھ ساتھ حلم کی خیرات بھی بٹتی ہے۔ وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں وہ وجودِ مسعود بذاتِ خود موجود ہے جس کے حْسنِ خْلق کی گواہی قرآن میں دی گئی ہے۔مکہ شہرِ جلال ہے، مدینہ شہرِ جمال۔ جغرافیائی اعتبار سے مکہ مدینے سے چار سو کلومیڑ دور ہے لیکن مزاج کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ دور!! یہاں کی فضاؤں میں ٹھہراؤ، سکون، متانت ، بشاشت ، لطافت ، نظافت ، صباحت اور حلاوت بڑی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں بصارت ہی نہیں بصیرت بھی نکھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔مزاج کی تبدیلی خود اپنے وجود میں معلوم پڑنے لگتی ہے۔ یہاں کے شرطے بھی شتر بے مہار نہیں لگتے۔ وہ صبر کی تلقین کرتے ہوئے خود سراپا صبر بنے ہوتے ہیں۔ جس خندہ پیشانی سے زائرین کے اژدہا م کی دھکم پیل کچھ برداشت کرتے ہیں‘ یہ انہی کا حوصلہ ہے۔۔۔ معلوم ہوتا ہے‘ وہ سرکاری ڈیوٹی پر نہیں بلکہ سرکارؐ کی ڈیوٹی پر ہیں۔ جسے سرکارؐ اپنا سپاہی بنا لیں‘ وہ صبر کا پیکر ہو جاتا ہے۔۔۔ دوسروں کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں درویش ہو جاتا ہے۔۔۔ اور انجامِ کار خوف اور حزن سے مامون ہو جاتا ہے۔
حج اور عمرے کے سفر کو ایک سیر اور سیاحت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ سیاح اور زائر میں فرق ہوتا ہے۔ گو منتظمین ہمیں سیاح کا درجہ دینے کیلئے بھی تیار نہیں ‘چہ جائیکہ ایک زائر کی حیثیت سے استقبال کریں۔ سنا ہے‘ کسی زمانے میں زائر کا احترام کیا جاتا تھا، زائر کی زیارت کا قصد کیا جاتا تھا۔ اہلِ معانی کہتے ہیں‘ شعائر کا زائر خودشعائر میں سے ہوتا ہے‘ اور شعائر قابلِ تکریم ہوتے ہیں۔ سیاحت جسم، ذہن اوردولت کا سفر ہے۔۔۔ زیارت روح، قلب اور احساس کا سفر ہے۔ سیاحت عقلی سطح پر عمارت و امارت کو دیکھنے کا نام ہے، زیارت دل کی آنکھوں سے حال میں رہتے ہوئے ماضی کا مشاہدہ ہے۔ سیاح خود سیر کیلئے جاتا ہے، زائر کو بلایا جاتا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کی نعت کا شعر یاد آرہا ہے:
کرتے ہیں کرم جس پر سرکارِ مدینہؐ
ہوتا ہے نصیب اس کو سایہِ دیوارِ مدینہ
میں تو یہی سمجھا ہوں‘سایۂ دیوارِ مدینہ شفاعت ہے۔۔۔ حشر کی گرمی میں جسے شفاعت کا سایہ میسر آ گیا‘ وہ پناہ میں آ گیا۔۔۔ عفو اور عافیت میں آگیا۔ جسے اپنے اعمال کی جودی پر چڑھنے کا زعم کھا گیا‘ وہ فنا کے طوفان میں غرق ہو گیا۔ زیارتِ طیبہ کا مقصدِ وحید کالی کملی کے سائے میں پناہ کی درخواست پیش کرنا ہے۔ عید کے موقع پر بڑوں کی طرف سے عیدی ملا کرتی ہے۔ حضورؐ! اس عید پر یہ امتی شفاعت کی عیدی لینے کیلئے آیا ہے۔ آپؐ نے آج تک کسی سائل کا سوال ردّ نہیں کیا، پس! آج اس سائل کے کشکول میں بھی شفاعت کا سکہ دان کر دیں! آپؐ کا عطا کردہ سکہ دونوں جہانوں میں چلتا ہے۔ ہر سعید صفت کی طرح سخاوت نے بھی اپنے عمدہ معنی آپؐ کے دَر سے پائے ہیں!!


ای پیپر