مشتاق احمدیوسفی
10 جولائی 2018 2018-07-10

زندگی کا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ محفلوں کی جان ہوا کرتے ہیں، لوگوں میں خوشیاں بکھیرنے کا سبب ہوتے ہیں، اُن کی گفتگو پھلجھڑیاں بکھیرتی ہے اور ان کی تحریر کا حرف حرف مسکراتا ہوا اور کھلکھلاتا ہوا ہوتا ہے ان کی زندگی ہی میں لوگ اُن کے متوالے ہو جاتے ہیں اور ان کے فن کو ان کی زندگی ہی میں ان کے عہد سے تعبیر کرتے ہیں وہ لوگ بھی یوں چپ چاپ چلے جاتے ہیں جیسے زندگی ان کے لئے کبھی تھی ہی نہیں۔پیچھے رہ جاتی ہیں تو ان کی خوبصورت یادیں، ان کی باتیں اور اُن کی محبتیں جن پر صرف ان کے خاندان ہی نہیں بلکہ ایک زمانے کا حق ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ پبلک پراپرٹی بن جاتے ہیں۔ اُردو ادب کے ایک مانے ہوئے اور بہت بڑے مزاح نگارجناب مشتاق احمدیوسفی کا شمار بھی چند ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جن سے ان کے چاہنے والے والہانہ محبت کرتے تھے، اب بھی کرتے ہیں۔ جوان سے ایک مرتبہ مل لیتا ان کی گفتگو اور شخصیت کا رسیا ہو جاتا ۔ مجھے بھی اُن سے دوچار مرتبہ ملنے کا موقع ملا۔ 2008 میں ادیبوں کے خاکوں سے متعلق شائع ہونے والی میری کتاب ’’خوش باشیاں‘‘ میں ان کا خاکے بھی شامل تھا۔90 کی دہائی کے اوائل میں معروف مزاح نگار یونس بٹ کی کتاب کی لاہور میں تقریبِ رونمائی میں بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئے انہوں نے فائیوسٹار ہوٹل میں ہونے والی اس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ڈاکٹر یونس بٹ اچھا مزاح لکھتے ہیں لیکن ڈاکٹر ی بھی کوئی بُرا پیشہ نہیں ہے۔‘‘ اس پر محفل کشتِ زعفراں بن گئی۔ یقیناًیونس بٹ نے بھی اس جملے کو انجوائے کیاہو گا۔ گویا مشتاق احمد یوسفی جب ڈائس پر ہوتے تو حاضرین محفل ان سے ایک سے بڑھ کر ایک جملے کی توقع کررہے ہوتے اور وہ ان کی توقع سے بھی بڑھ کر اچھوتا اور منفرد جملہ پھینکتے کہ لوگوں کی باچھیاں کھِل اُٹھتیں۔ دورِ حاضر کے معروف کالم نگار برادرم توفیق بٹ نے گورنمنٹ کالج لاہور ہی کے زمانے سے ادبی تنظیم ’ہم سخن سا تھی‘ کے تحت تقریبات کا آغاز کردیا تھا۔ وہ جب ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی میں1989 میں میرے کلاس فیلو ہوئے تو میرا بھی ایک ادبی ذوق تھا تو میں بھی اُن کے ساتھ ہوگیا۔ ہماری مشترکہ محبت ڈاکٹر اجمل نیازی تھے۔ جو ہم دونوں کے استاد ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے بتایا کہ توفیق بٹ کا داخلہ بھی ماس کمیونیکیشن میں ہوا ہے۔ یوں توفیق بٹ ہم سخن ساتھ کے صدر اور میں نائب صدر کے طور پر ادبی تقریبات کے انعقاد میں اپنا حصہ ڈالتا رہا۔ غالباً 1996 میں توفیق بٹ نے مشتاق احمدیوسفی کو بطورِ خاص ایک تقریب کی صدارت کے لئے مدعو کیا۔ وہ کراچی سے تشریف لائے۔ شیزان ہوٹل مال روڈ پر ہونے والی تقریب میں مشتاق احمد یوسفی صاحب نے جو مضمون پڑھا اُس کا عنوان تھا’’توفیق بٹ اور مختار بیگم‘‘ انہوں نے توفیق بٹ اور ہم سخن ساتھی کے بارے میں بڑی دلچسپ باتیں کیں لیکن مختار بیگم کے بارے میں کچھ نہیں کہا اور توضیح پیش کی کہ میری کبھی مختار بیگم سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے مضمون کو کوئی عنوان دینا تھا سو اس کا نام لکھ دیا۔ اس پر حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے۔
گویا اس طرح سے چیزوں میں مزاح پیدا کرنا جو طنز نہ ہو کہ دوسروں کو ناگوار گزرے اور مزاح ایسا ہو جس کو ہر کوئی انجوائے کرے تویہ بہت انفرادیت کی بات ہے۔ وہ آج ہم میں نہیں لیکن چراغ تلے، زرگزشت، خاکم بدہن اور آبِ گم کے ذریعے وہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ان کی تحریریں جیتی جاگتی تحریریں ہیں، اُن کے کردار اتنے جاندار ہیں کہ ہمیشہ زندہ وتابندہ رہیں گے۔ مشتاق یوسفی پیشے کے اعتبار سے بینکار تھے چیئرمین بینکنگ کونسل بھی رہے۔ لیکن تحریر اتنی پختہ اور دلپذیر جیسے وہ فل ٹائم رائیٹر ہی ہوں اور یہی اُن کا اوڑھنا بچھونا ہو۔ وہ اپنی تصنیفات کی اشاعت کے حوالے سے بہت پرفیکشنسٹ تھے۔ مسودہ لکھ کر ایک طویل عرصہ اپنے پاس رکھتے۔ پڑھتے، تصحیح کرتے،۱س کی پروف ریڈنگ کے حوالے سے بھی بہت ٹچی ہوتے۔ محیط اسماعیل جیسے ماہر پروف ریڈر اور اردو زبان کی گرائمر پر عبور رکھنے والے لوگوں کی خدمات سے استفاد کرتے بلکہ محیط اسماعیل کراچی میں جاکر اُن کے گھر ٹھہرتے اور پروف کے فرائض انجام دیتے۔ گویا وہ اپنے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ کی صحت اور استعمال کے حوالے سے خیال کرنے والے ادیب تھے۔ جس سے اُن کی شخصیت کے بارے میں ادراک ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے کہے ہوئے اور لکھے ہوئے حروف کے حوالے سے اتنا محتاط ہو وہ عام زندگی میں کتنا سلیقہ مند اور خوبصورت اوصاف کا حامل ہوگا۔
مشتاق احمدیوسفی اور مزاح نگاری کے اُس قبیلے کے سرخیل تھے جو خالصتاً مزاح کی آبیاری کرتے رہے۔ بعض لوگ مزاح کو ادب کی کوئی مؤثر صنف نہیں گردانتے اور مزاح لکھنے کی کوئی معمولی کام سمجھتے ہیں۔ وہ شائد مزاح اور پھکڑ پن کو ایک ہی چیز قرار دیتے ہیں۔ ان کے ہاں شائد لطیفہ بازی بھی مزاح ہی کے زمرے میں آتی ہو ۔ یہ حقیقت ہے کہ مزاح ہر کوئی نہیں لکھ سکتا اور مزاح کو سمجھنے کے لئے بھی ایک خاص ذہنی استعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے مزاح نگار معاشرے کے سماجی و معاشرتی پہلوؤں کو مزاح کے پیرائے میں یوں بیان کرتے ہیں کہ اُن کا اندازِ بیان کسی کو بُرا بھی نہیں لگتا اور مطمعِ نظر بھی اپنے اندازمیں ہدف تک پہنچ جاتا ہے اردو مزاح نگاری میں رشید احمد صدیقی، ابنِ انشاء پطرس بخاری، شفیق الرحمن ، کرنل محمدخان،عطاء الحق قاسمی کے نام خاص طور سے زبانِ زدِ عام ہیں لیکن مشتاق احمدیوسفی نے اپنے نیچرل انداز میں مزاح نگاری کرکے اپنی الگ شناخت بنائی کہ لوگ اُن کے دور کو ’عہدِ یوسفی‘ کے نام سے جاننے لگے۔ مشتاق احمدیوسفی نہیں رہے لیکن یہ دور ابھی بھی ان ہی کا ہے اور عہدِ یوسفی بھی تب تک چلتا رہے گا جب تک اُردو ادب میں مزاح نگاری کے حوالے سے مصنفین اور قارئین میں شغف برقرار رہے گا۔


ای پیپر