سیکنڈ وائف۔۔۔۔
10 جولائی 2018 2018-07-10

دوستو، الیکشن کے چرچے جولائی کے آخری عشرے تک چلنے ہیں، لیکن اس سے پہلے کئی سیاست دانوں کی خفیہ زندگی بے نقاب ہوگئی، الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں ایسے ایسے لوگوں نے اپنی دوسری اہلیہ کا پول کھول دیا جن سے توقع بھی نہیں تھی۔۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں، شوہر کی کامیابی میں بیوی کی اہمیت کا اندازہ آپ ان باتوں سے لگا سکتے ہیں کہ کوئی مری ہوئی بیوی کا نام لے لے کر صدر بن گیا۔کوئی بیمار بیوی کا نام لے لے کر خود کو بچا رہا ہے۔اور کوئی بیوی کے اشاروں پر چل کے وزیراعظم بننا چاہ رہا ہے۔تمام شادی شدہ لوگوں سے گزارش ہے کہ بیویوں کی قدر کرو، کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ ہم یہاں آپ کو دوسری بیوی سے متعلق کوئی رہنمااصول نہیں بتارہے اور نہ ہی فیصل آبادیوں کی طرح دوسری بیوی پہ جگتیں ماریں گے۔۔ آج بس تھوڑی سی آپ کی معلومات میں اضافہ کریں گے۔۔
الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں جن سیاست دانوں اور انتخابی امیدواروں نے اپنی ایک سے زائد بیویوں کا ذکر کیا ہے ،ریسرچ کے بعد کچھ کے نام ہمیں مل گئے۔۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے گوشوارے میں دو بیویوں نصرت شہباز اور تہمینہ درانی کاذکرکیا ہے۔۔ترجمان پی ٹی آئی فواد چودھری نے بھی دو بیویوں صائمہ فواد اور ۔حبہ فواد۔۔ سابق اپوزیشن لیڈر خورشید نے طلعت بی بی سمیت دو بیویوں کا تذکرہ کیا۔۔فاروق ستار نے بھی دو بیویوں کا ذکر کیا۔۔ریاض حسین پیر زادہ نے عائشہ ریاض اور بلقیس ،پیر امین الحسنات نے قدسیہ حسنات اور طاہرہ حسنات ،سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے صدف کوثر سمیت دو،حمزہ شہباز نے مہرالنساء اور رابعہ ،خواجہ سعد رفیق نے غزالہ اور شفق حرا ،ارشد وہرہ نے کلثوم وہرہ اور سونیا ارشد ،قیصر محمود شیخ نے کنزہ شیخ اور غیرملکی ،رانا مبشر نے شازیہ اور نائلہ،ناصر اقبال بوسال نے نویدہ نواز اور مدیحہ عروج ،احمد شاہ کھگا نے مصباح احمد اور عمارہ احمد ،آصف حسین نے فوزیہ آصف اور عشرت آصف ،اشرف آصف کی دو بیویاں نصرت اور طاہرہ حبیب ،عارف خان سندھیلہ نے شمیم اور ثروت ناز ،سردار عرفان ڈوگر نے رضیہ پروین اور کرن فاطمہ ،زبیر کاردار نے صبا زبیر اور ناہید اختر ،سمیع خان نے عظمیٰ بخاری اور زاہدہ بخاری ،جمشید اقبال چیمہ نے مسرت جمشید اور نسیم چیمہ ،اسلم کچھیلہ نے عذرا بیگم اور افسر خاتون ،چودھری عابد رضا نے سعدیہ عابد اور رافعہ اشرف ،ثناء خان مستی خیل نے فرحت خان اور سندس خان ،شیر افضل خان نے رقیہ نیازی اور نسیم اختر ،ڈاکٹر سعید الٰہی نے سامعیہ انعام اور ہدیٰ سعید ،جام مہتاب نے عامرہ مہتاب اور عظمیٰ مہتاب،خالد احمدلونڈ نے صوفیہ اور فوزیہ ،سید ایوب نے کلثوم اور بینش ، این اے 207سے امیدوار غلام مصطفیٰ نے زبیدہ نساء اور بشیراں ،این اے 210سے سید سورج شاہ نے تاج بی بی اور بی بی حاجراں ،این اے 211سے غلام مرتضیٰ نے تحسین اور مختیار بیگم ، این اے 224سے عبدالستار باچانی نے شمشاد ستار اور بدرالنساء ،این اے 130سے سردار حر بخاری نے فوزیہ حر اور عالیہ حر ،این اے 123سے لطیف خان سرانے مصباح شہزادی اور عذرا پروین ،این اے 126سے چودھری اشرف نے نسرین اشرف اور آسیہ اشرف ،این اے 132سے طارق حسن نے حمیرہ حسن اور حنا حسن ، این اے 134سے نواز نے مسرت نواز اور رفعت نواز ،این اے 133سے نواب علی میر نے طاہرہ پروین اور عاصمہ ،این اے 123سے وحید احمدنے فریحہ وحید اور نائلہ وحید ،این اے 170سے امیدوار عرفان احمد نے فریحہ عرفان اور لاریب ،این اے 207سے امیر بخش مہر نے حسنہ اور صائمہ ،پی پی 240سے احمد ریاض نے غلام عائشہ اور نازیہ احمد ، این اے 167سے امیدوار اسلم نے عشیشہ بی بی اورسرداراں بی بی،این اے 116سے نذر عباس نے شازیہ اسلم اور شہناز کوثر ، این اے 169سے نورالحسن نے نادیہ اقبال اور شازیہ ،این اے 207سے حضور بخش میرانی نے دو بیویاں ظاہر کی ہیں ،این اے 130سے امیدوارابو بکر نے تین بیویاں آمنہ ، عروج اور سائرہ ، این اے 132سے امیدوار امجد نعیم نے ثریا ،صغرا ں اور تنزیلہ،جبکہ این اے 213سے امیدوار قادر بخش مگسی نے بھی تین بیویاں ظاہر کیں۔۔عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے 60 سے زائد سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی میں 2اور2سے زائد بیویوں کا اعتراف کیا ۔
خاتون خانہ نے بڑے لاڈ بھرے انداز میں شوہر سے کہا۔۔ سنیئے جی، آپ نے دوسری شادی تو نہیں کر رکھی ؟ ۔۔شوہر ہکابکارہ گیا،فوری طور پر کہا۔۔ نہیں بیگم۔۔ بالکل بھی نہیں۔ خاتون خانہ نے بڑے بھولپن سے کہا۔۔توآپ کاغذاتِ نامزدگی جمع کیوں نہیں کرواتے۔۔۔ میری تسلی کے لیے۔ ۔۔کل ہمارے ایک دوست ہم سے ناراض ہوگئے ،اسکی بیوی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور ایک مشہور ہڈی سپیشلسٹ نے کہا کہ آپریشن ہوگا۔ خرچہ لاکھوں میں ہو گا۔ دوست بہت ٹینشن میں تھا۔ اس کا موڈ خوشگوار بنانے کے لئے منہ سے نکل گیا۔۔یار،اتنے میں تو دوسری آجاتی یار۔۔ہمارے دوست بھڑک اٹھے،غصے سے بولا ،اب بتا رہا ہے جب 50% ایڈوانس جمع بھی کرادیا۔۔ ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں۔۔لومیرج کرنیوالے بندے کو سسرال والے کبھی نہ کبھی پکڑوا ہی دیتے ہیں،صفدر ہی کی۔مثال لے لو۔۔ویسے ہمیں حیرت تو انتخابی گوشواروں پرہورہی ہے، جس میں امیدواروں اور سیاست دانوں نے ایسے ایسے انکشافات کئے کہ ہر شریف اور پڑھا لکھا شہری سرپکڑ کر رہ جائے، مثال کے طور پر، انڈے والا شامی برگر ستر روپے تک عام مل جاتا ہے، زنگر شوارمہ سو روپے تک ، دودھ فی لیٹر نوے سے سو روپے کا ہے لیکن رائے ونڈ محل فی مرلہ آٹھ روپے، کراچی کے سب سے مہنگے علاقے کلفٹن میں بلاول ہاؤس صرف چونتیس لاکھ کا۔۔ویسے یہ بات بھی سوفیصد سچ ہے کہ میڈیا کو جو باتیں بتانی چاہیئے اس کے علاوہ سب کچھ بتارہا ہے۔۔ہم نے ایک آٹھویں جماعت کے طالب علم سے پوچھا، پاکستان کا آرمی چیف کون ہے۔۔اْس نے تڑک سے جواب دیا، جنرل قمر جاوید باجوہ ۔۔ہم نے فوری اگلا سوال داغا۔۔ اور بحریہ کا سربراہ کون ہے؟۔۔ اس نے برجستہ کہا۔۔ملک ریاض۔۔ جس کے بعد ائرفورس کا پوچھتے پوچھتے رک گئے۔۔ایک خاتون اپنی پڑوسن کو بتارہی تھی کہ ۔۔۔تجھے معلوم ہے، 20 سال تک میری کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔۔پڑوسن نے حیرانی سے پوچھا۔۔پھر تو نے کیا کیا؟۔۔خاتون فرمانے لگیں۔۔پھر میں اکیس سال کی ہوئی تو میرے ابا نے میری شادی کردی۔۔پھر کہیں جاکر پہلا بیٹا ہوا۔۔۔تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ، پڑوسن کھڑے کھڑے بیہوش ہو گئی تھی۔۔اب ایسا نہیں ہر عورت کوڑھ مغز ، کم عقل یا بھولی بھالی ہوتی ہے، کچھ ماشااللہ کافی پڑھی لکھی بھی ہوتی ہیں۔۔ جیسے ایک انتہائی پڑھی لکھی خاتون نے شوہرسے اچانک پوچھ لیا۔۔ کیا کررہے ہو؟؟ شوہر بھی اتفاق سے ’’فل‘‘ ایم فل تھے، کہنے لگے۔۔عزت کی ڈور کو الجھنوں کی جکڑ اور کشمکش سے آزاد کررہا ہوں۔۔۔انتہائی پڑھی لکھی خاتون خانہ نے اس کا مطلب پوچھا تو شوہر نے تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ۔۔پاجامے کے ’’ناڑے‘‘ کی گانٹھیں کھول رہا ہوں۔۔۔بیگم صاحبہ نے فوری ردعمل دیا اور شوہر سے کہا۔۔ہوا میں محوِ پرواز ہوتے ہوئے شکم پْری و لذتِ کام و دہن کے لیے شیرِ منجمد شتاب لاؤ۔۔اس بار حیران ہونے کی باری شوہر کی تھی، زوجہ ماجدہ کے کہے جملے کا مطلب پوچھ لیا۔۔ انتہائی پڑھی لکھی خاتون خانہ نے آسان اردو میں کہا۔۔جا، جلدی جاکے دہی لے آ تاکہ کھانا کھاسکیں۔۔
اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اپنے بچوں کو پیسے کمانے کے نہیں خوش رہنے کے گر سکھائیے، جب وہ بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر انکی قیمتیں دیکھ کر نا محسوس کیا کریں۔


ای پیپر