سرخیاں ان کی ۔۔۔؟
10 جولائی 2018 2018-07-10

*۔۔۔زرداری فریال سمیت 35 افراد پر پابندی۔۔۔؟
سپریم کورٹ کے حکم پر وزارت داخلہ نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین جناب آصف زرداری اور انکی بہن فریال تولپور سمیت دیگر 35 افراد کا نام ’’ ای سی ایل ‘‘ میں شامل کر کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔ فخر انسانیت نے فرمایا ہے۔ انصاف کی گھڑی برسوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور یہ بھی کہ جو حاکم رعیت کو دھوکا دے گا خدا اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔ اور جو شخص حق بات سے ترش رو ہو خدا بھی اس سے ترش رو ہوتا ہے۔ لہذا سچ بات یہ ہے کہ جس طرح سماجی تربیت یعنی ’’Socialization ‘‘ میں ایک انسانی حیوان کو انسان بنایا جاتا ہے، یعنی اسے معاشرتی، ثقافتی، اخلاقی، مذہبی، سیاسی اور معاشی قدروں ’’values ‘‘ کی تربیت دے کر نہ صرف مثالی انسان بنایا جاتا ہے بلکہ ایک مفید شہری اور مطمئن فرد بھی بنایا جاتا ہے۔ اور جس طرح یہ سب کچھ خود آگہی اور ذات کی شناخت کے لیے ازحد ضروری ہے۔ عین اسی طرح معاشرے کے مجموعی کلچر اور ترقی کے لیے ایک کامیاب سیاسی و سماجی زندگی بے حد ضروری ہے۔ جس کے متعلق ہم ہمیشہ آدھا سچ بول کر سو فیصد نتائج کا سوچتے ہیں اور کبھی سوچتے ہی نہیں کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں۔ شاید اسی لیے ایک آگ سے آتش فشاں کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اور ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ دوسروں میں منفی پہلو تلاش کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے ہماری بھلائی کے لیے کوئی کتنا ہی اچھا اور مفید کام کرے ہم اسے دیکھتے ہی تنقید و شکایت کے تیر لیکر چڑھائی کر دیتے ہیں۔ میں اکثر نجی محفلوں میں یہ لیکچر دیتا ہوں کہ جب ہم کچھ نہ کرنے کا تہیہ ہی کر چکے ہیں اور اگر کوئی بلا تفریق مرد ہو عورت ہو اپنا ہو غیر ہو استاد ہو شاگرد ہو کوئی افسر ہو، سیاستدان ہو، مولوی ہو یا واعظ محتسب ہو یا سماجی کارکن ہماری ہر ایک سے جنگ ہے۔ ہمیں ہر ایک سے شکایت ہے لہٰذا جب کوئی معاشرہ ایسے کرانک مرض ’’Chronic disease‘‘میں مبتلا ہو جائے تو پھر اس کا علاج لگ بھگ آپریشن ہی ہوتا ہے۔ امکان غالب ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی سرجن بننے کا ارادہ کر لیا ہے۔ ویسے بھی آپ لاکھوں ایٹم بم بنالیں، سینکڑوں ڈیم بنا لیں، بے شک ملک کو قرضوں سے بھی نجات دلا دیں ملک کو بھی جنت ارضی بنا دیں۔ جب تک معاشی دہشتگ گردوں کو نہیں جکڑتے اور بہادری سے ایک بڑا آپریشن نہیں کرتے۔ سب بے کار کی باتیں ہیں۔ اور کسی نے کہا تھا کہ باتوں میں کیا رکھا ہے۔ جبکہ قبضہ گروپس، طاقتور مالیاتی مجرموں کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ انہی کی ملی بھگت سے قوم بد حالی اور مسائل میں گرفتار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*۔۔۔تحریک انصاف کا انتخابی منشور بھی آ گیا۔
خوش آمدید، خوش آمدید۔۔۔ اگر چہ یہ ایک خوش کن الفاظ اور خوبصورت خوابوں پے مبنی منشور ہے مگر آپس کی بات ہے۔ کسی کو خبر نہ ہو۔ میرا مطلب ہے اگر پارٹی منشوروں پر عملدرامد ہوتا تو ہم آج یہاں رو رہے ہوتے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*۔۔۔ نواز شریف اور مریم کی آمد۔۔۔
بلاشبہ یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ورنہ جو ایک دو دیّے بچے تھے وہ بھی بجھ جاتے۔ میری تو خواہش ہے کہ جناب پرویز مشرف ، جناب اسحاق ڈار وغیرہ واپسی کا سفر باندھیں خود کو عدالتوں میں پیش کریں تاکہ جمہوریت مضبوط ہو۔ اور جناب نواز شریف بھی واپسی پر اپنے دونوں مغرور بیٹوں کو ساتھ لے کر آئیں۔ ویسے بھی اب زیادہ دنوں تک انکا لندن میں stay مناسب نہیں ہے۔ ان کی مشکلات بڑھیں گی۔ بلکہ میرا تو مشورہ ہے کہ وہ اپنی دولت سے ایک نیا ڈیم بنانے کا ایئر پورٹ اترتے ہی اعلان کر دیں۔ ممکن ہے اس سے کچھ نہ کچھ ان کے گناہوں کا کفارہ ادا ہو جائے اور اللہ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما دے۔ ورنہ کبھی کبھی ایک معمولی نیکی دریا عبور کرا دیتی ہے اور کبھی کبھی ایک معمولی بات کسی بڑے سانحے کا باعث بن جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*۔۔۔تعلیم ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب۔
مگران وزیر اعلیٰ پنجاب جناب ڈاکٹر حسن عسکری جن سے آج شام چھ بجے اسی موضوع پر میری بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کے تعلیم ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت اور کامیابی کی کنجی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جناب عسکری بذات خود علم کا سمندر ہیں۔ ان کے کالم اندھیروں میں جگ مگاتے دیے ہیں۔ مگر ہمارا یہ المیہ ہے۔ کہ ہم احساس کمتری کے مارے یہ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں کیا دے رہا ہے۔ تعلیم تو ستاروں پے کمند ڈالنے کا نام ہے مگر ہم ماضی کی کہانیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کو فخریہ انداز میں بتانے کا نام ہی تعلیم سمجھتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ہمارے معصوم طلبہ میٹرک، ایف اے، بی اے، ایم اے بلکہ کئی کئی ماسٹر کر کے بھی حیران پریشان ہیں کہ اب انہوں نے کیا کرنا ہے۔ کیا بننا ہے۔ یا وہ کیا بن چکے ہیں۔ معاشرے میں اب ان کی اہمیت یاحیثیت کیا متعین ہوئی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان میں چند معصوم بچے تو ماڈرن ازم کے نام پر ایسے ایسے نشوں اور خباستوں کا شکار ہو چکے ہیں کہ انہیں دیکھ کر گھن آتی ہے۔ ظلم در ظلم تو یہ ہے کہ چونکہ ہمارے ملک میں یکساں نظام تعلیم نہیں ہے۔ جس سے مختلف طبقے اور گروہ پیدا ہو رہے ہیں۔ جبکہ انگلش میڈیم اور اردو میڈیم مدرسہ میڈیم تین طبقوں کے بچوں کو کھڑا کر کے پوچھا جائے کہ کیا وہ اپنی تعلیم یا حیثیت سے خوش ہیں تو یقین جانیے وہ حیران پریشان ہو جاتے ہیں۔ اور چونک کر کہتے ہیں کہ ہم سے یہ کیا پوچھا جا رہاہے۔ اس لیے خدا کا واسطہ قوم کا خانہ خراب نہ کریں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں کہ کون سی تعلیم اور کون سا نظام تعلیم اور یہ کہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم ہم کو کیا دے پا رہا ہے۔؟


ای پیپر