تحریک انصاف میں شطرنجی سیاست اور تبدیلی!
10 جولائی 2018 2018-07-10

عام انتخابات میں چند ہفتے باقی ہیں۔سیاسی حالات کا زائچہ تو اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا نطر آتا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہونے جا رہے ہیں۔ملک میں موجود تمام سیاسی جماعتیں باقاعدہ انتخابی مہم کا حصہ بن چکی ہیں۔جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر نہ ہونے کی تمام قیاس آرائیاں دم توڑ چکی ہیں۔وقت کیساتھ سیاسی مہرے بھی اپنی چالیں بدل رہے ہیں اور جس کے باعث ہر آنیوالا دن سیاسی حدت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔بظاہر سیاسی حالات کی کروٹ پاکستان تحریک انصاف کی جیت کو یقینی بناتی نظر آرہی ہے۔اندازے اور تجزیوں کے اعداد و شمار پنجاب میں مسلم لیگ ن کو سرخ جھنڈی دکھا رہے ہیں۔اگر ہونیوالے عام انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بدستور آج بھی من عن قائم ودائم ہے کہ تاریخ میں ملکی انتخابات میں ہمیشہ سے صوبہ پنجاب کو مرکزیت حاصل رہی ہے ۔ اور اسی وجہ سے پنجاب سے مسلم لیگ ن کو چاروں شانے چت کرنے کیلئے تحریک انصاف نے مضبوط امیدوار میدان میں اتارے ہیں تاکہ ن لیگ کو پنجاب سے بیدخل کر کے وفاق کیساتھ ساتھ پنجاب کے تخت کی حکمرانی بھی حاصل کی جا سکے اور اس مرحلہ کو طے کرنے کیلئے پی ٹی آئی نے بلا تفریق اور بلا جھجھک ایسے الیکٹیبلز کیلئے ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے دروازے کھول دئیے جو ہر آنیوالی تبدیلی کے آگے بند باندھنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ تبدیلی کا جو سونامی بپھر کر ملک میں رائج خود ساختہ نظام سے ٹکرانے جارہا تھا منزل پر پہنچنے سے قبل ہی اپنی ساخت کھو بیٹھا ہے۔پی ٹی آئی کی ٹکٹیں وہ امیدوار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو سیاسی سرمایہ کار ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی الیکشن لڑنے کی سائنس جانتے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے اگر تبدیلی نے انہی کندھوں پر سوار ہو کر جشن فتح منانا ہے تو پھر اس تبدیلی کو بائیس سال انتظار کی اذیت سے کیوں دوچار کیا گیا۔اس تبدیلی کو نظریہ ضرورت کا سرخ جوڑا پہنا کر آج سے قبل ہی سہاگن بنایا جا سکتا تھا۔یہ پاکستان تحریک انصاف کی ٹیم کے وہ سرخیل ہیں جو انتخابات میں کی گئی سرمایہ کاری عوام سے سود سمیت وصول کرینگے۔عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف نے پانچ دہائیوں کے بعد ایک قومی پارٹی کے طور پر عوام کے دلوں میں قدم جمائے تھے۔لیکن افسوس یہ جماعت بھی سرمایہ کاروں‘منی لانڈرز‘ قبضہ مافیا‘جاگیرداروں کے در کی مجاور بن گئی۔اس کے علاؤہ عمران خان کی ذاتی شخصیت اخلاقی الزامات کی زد میں ہے جس کو تحریک انصاف مؤثر انداز میں ڈیفنڈ کرنے سے قاصر ہے۔جس سوچ‘نظریے اور ویثرن کیساتھ تحریک انصاف کیساتھ عوام کھڑی تھی اب وہ تاثر زائل ہو چکا ہے۔ میں نے ایسے نظریاتی کارکنوں کی آنکھوں سے تبدیلی کو بہتے دیکھا ہے جن کی آنکھیں اس فرسودہ نظام کے خاتمہ کو عمران خان کی قیادت میں تعبیر کی صورت دیکھ رہی تھی۔یہ وہ تلخ حقائق کا باب ہے جو تبدیلی کو گہنا چکا ہے۔اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی پاپولرٹی عروج پر ہے اور حالات کی دستک یہ بتا رہی ہے کہ تحریک انصاف کے انتخابی راستے میں آنیوالے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے۔کیونکہ اسکی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے بیرئیر ہٹا دئیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے اقتدار کی ٹھنڈی اور مسحور کن ٖفضائیں عمران خان کیلئے چشم براہ ہیں۔عمران خان اقتدار میں شراکت پر نفی کا اظہار کر چکے ہیں لیکن پاکستان کے انتخابات کے بعد کی اقتداری تاریخ کا مؤرخ تو مخلوط حکومتوں کا زائچہ کھولے بیٹھا ہے ان حالات میں عمرانی خواہش کا پورا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔خیر وقت بہت بڑا فیصلہ ساز ہے آنیوالے دن اس کا فیصلہ کر دینگے۔پاکستان تحریک انصاف میں مسلم لیگ ن کیطرح انتشار کی دراڑیں بہت واضح ہو چکی ہیں۔جہانگیر تریں کی نااہلی نے انکے سیاسی کردار کا باب بند کر دیا ہے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان ہونیوالی لفظی جنگ کا اختتام شاہ محمود نے اس ایک جملہ کیساتھ کردیا کہ ان کا اس کھیل میں کوئی کردار ہی نہیں ہے۔جہانگیر ترین اپنے اہل خانہ کیساتھ لندن چلے گئے ہیں اطلاعات یہی ہیں کہ وہ علاج کی غرض سے گئے۔اب شاہ محمود قریشی کی سیاست کا محور صوبہ پنجاب کے اقتدار کے گرد ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ جنوبی پنجاب کی شکل میں بننے والے صوبہ پر حکومت کرینگے یا پھر پورے پنجاب کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔اگر وہ پنجاب کی حکومت کیلئے پر تولتے ہیں تو انکے راستے میں علیم خان کھڑے ہیں۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود کے درمیان اختلافات کی وجہ بھی پنجاب کی وزارت اعلی ہی ہے دونوں کی یہ کوشش ہے کہ وزیر اعلی ان کے دھڑے سے بنے اب شاہ محمود قریشی کو پنجاب کی مسند اقتدار تک پہنچنے کیلئے علیم خان جیسے مظبوط پلر سے ٹکرانا پڑے گا۔واقفان حال کا یہ کہنا ہے کہ علیم خان پنجاب کی وزارت اعلی کیلئے موزوں اور مضبوط امیدوار ہیں اسکے علاؤہ انکی پارٹی خدمات کو بھی تحریک انصاف میں سراہا جاتا ہے۔اب اگر تحریک انصاف عام انتخابات میں جیت جاتی ہے تو عمران خان کیلئے پارٹی میں موجود اسٹیک ہولڈرز کو ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہو جائینگے جس کیلئے ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتیں اپنی اپنی جیت کیلئے پر جوش بھی نظر آرہی ہیں۔موجودہ سیاسی حالات کی نبض تو اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ تحریک انصاف مرکز میں مخلوط حکومت بنائے گی۔عمران خان کی جیت کے راستے میں وہ امیدوار بھی دیوار بنائے کھڑے ہیں جنکو ٹکٹ نہیں ملے اور وہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اراکین سے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں انتخابات میں حصہ نہ لینے کا حلف لیا گیا تھا آزاد حیثیت سے اراکین کا انتخابات میں حصہ لینا حلف نامے اور آرٹیکل 62-63 کی خلاف ورزی ہے نعیم الحق اور ارشد داد پر مشتمل دو رکنی کمیٹی بنادیگی ہے جو ضابطہ اخلاق کی خلاف وارزی کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کریگی۔ تحریک انصاف جب تک حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو جاتی عمران خان کیلئے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔اب مرکز کی حکومت میں حصہ ڈالنے کیلئے جیپ پر سوار ہو کر آنیوالے درجنوں آزاد امیدوار بھی تیار ہیں اب ان کو کہاں مرکزیت سے نوازنا ہے یہ بھی آسان مرحلہ نہیں ہے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر جب یہ حکومت بنے گی تو اس سے یہ اخذ کرنا اتنا مشکل نہیں ہے کہ اسکی مضبوطی و پائیداری کی کیا ضمانت ہو گی۔بحر حال وقت گذرنے کیساتھ ساتھ اقتدار کی سیج تبدیلیوں کیساتھ سجائی جا رہی ہے ۔اہل نظراور اہل دانش کی نظر میں عمران خان کو وہ کچھ ملتا نظر نہیں آرہا جس عزم کو تعبیر دینے کیلئے انہوں نے بائیس سال مشقت کی خاک چھانی باقی یہ وقت پر منحصر ہے اسکا فیصلہ کیا ہو گا۔


ای پیپر