کشمیر میں اقوام متحدہ کی تحقیقات کا خیر مقدم
10 جولائی 2018 2018-07-10

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے پہلی بار متنازع علاقے کشمیر میں بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کی ۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کی بڑے پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کونسل پر زور دیں گے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایک جامع بین الاقوامی تحقیقات کرنے والے کمیشن آف انکوائری (سی او آئی) قائم کرنے پر غور کرے۔سی او آئی اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطح تحقیقات میں سے ایک ہے جو عام طور پر بڑے بحرانوں کی تحقیقات کرتا ہے۔
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کے قیام سے متعلق انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ تجویز2016 سے پاکستان کی طرف سے جاری مطالبے کے عین مطابق ہے۔ رپورٹ سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعے کی یاددہانی اور انسانی جانیں بچانے اور امن کو فروغ دینے کے لئے اس کے حل کی اہمیت اجاگرہوتی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بامقصد مذاکرات کے ذریعے تنازعہ جموں وکشمیر کے حتمی سیاسی حل پرزور دیا گیا ہے جس میں کشمیری بھی شامل ہوں۔بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین اورمنظم خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے جائز مطالبے کو مسلسل نظر انداز کررہاہے۔ رپورٹ میں قتل و غارت' معذور کرنے' بدسلوکی اور کشمیریوں پر بھارتی فوج کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم سے متعلق مواد سے پاکستان کے موقف کی ایک بار پھر تصدیق ہوگئی ہے۔ تنازعہ جموں و کشمیر کا پائیدار حل جنوبی ایشیا اور باقی دنیا میں امن' سلامتی اور استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ بھارت کی طرف سے یہ حقیقت تسلیم کرنے سے انکار' پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل نہ ہونااور آزادی کے لئے کشمیریوں کی خواہشات کو دبانا علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لئے مسلسل خطرہ ہے۔تنازعہ جموں و کشمیر کے حل میں اقوام متحدہ کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔
بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کے بلاامتیاز قتل عام، پیلٹ گنز کے استعمال سے بینائی ضائع کر دینے، اجتماعی قبروں کے کیسز اور جنسی تشدد انسانیت کے خلاف جرائم ہیں جن کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔سکیورٹی فورسز پر الزام ہے کہ انھوں نے کشمیر میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔
آخر سوشل میڈیا کے شوقین برہان وانی وادی میں بھارتی اقتدار کے خلاف لڑنے والے مقامی باغی جنگجو ہی تو تھے اور کشمیر میں آج کل اس طرح کے 100 کے قریب مقامی جنگجو موجود ہیں، جو کہ اب 2011 کی نسبت چار گنا زیادہ ہیں۔
کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر عبداللہ نے برہان کی موت کے بعد ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’وانی کی قبر کے اندر سے لوگوں کو عسکریت پسندی کے لیے بھرتی کرنے کی صلاحیت سوشل میڈیا کے ذریعے ایسا کرنے سے کہیں زیادہ ہو گی۔‘برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 1500 سے زائد زخمی ہیں جن میں سے درجنوں کی آنکھوں میں چھرّے لگنے کی وجہ ان کی بینائی جانے کا بھی خدشہ ہے۔زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد 16 سے 26 سال کے نوجوانوں کی ہے۔
سکیورٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارتی فورسز، آرمی، نیم فوجی دستے، بارڈر گارڈز، اندرونِ ملک شورش کو روکنے کے لیے پوری طرح لیس نہیں ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو غیر ملکی دشمن سے لڑنے کی تربیت دی گئی ہے۔ کشمیر میں ، جہاں سکیورٹی قائم رکھنے کے لیے فوج کا عمل دخل دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اپنے ہی لوگوں کو مارنے سے وہ قابض فوج کی طرح نظر آتے ہیں۔ پولیس نہ کشمیر اور نہ ہی بھارت میں کوئی بہت ہی اچھی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ اسے 155 سالہ نو آبادیاتی قانون کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس میں کبھی اصلاحات نہیں کی گئیں۔علاقے میں شورش شروع ہونے کی دو دہائیوں بعد بھی سکیورٹی فورسز ہجوم کو کنٹرول کرنے کے جدید طریقوں سے نا آشنا نظر آتی ہیں۔ پانی کی توپوں، ’سکنک‘ سپرے، اور آواز پیدا کرنے والی مشین کو استعمال کرنے کی باتیں ہوتی رہیں ہیں لیکن سکیورٹی فورسز نے ان کی جگہ چھرے والی بندوقیں استعمال کی ہیں جن کی وجہ سے کئی افراد کی آنکھوں پر کافی زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اختتامِ ہفتہ کو ہونے والے ہنگاموں میں 100 سے زیادہ افراد کو آنکھوں میں چھرے لگے اور خدشہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی بینائی کھو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے اسلحہ اور آنسو گیس بھی استعمال کی ہے۔
ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ’ کشمیر میں گولی مار کر ہلاک کرنے سے آپ دل اور دماغ نہیں جیت سکتے۔‘ 1990 سے لے کر اب تک کشمیر میں شورش کے حوالے سے 20 سے زیادہ سرکاری تحقیقات کی گئی ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ ان کا نتیجہ کیا نکلا۔
سابق حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 120 افراد کی ہلاکتوں، جن میں سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکن کہتے ہیں کہ ’نہ کسی کو سزا دی گئی، نہ ہی کسی پر مقدمہ چلا۔ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کو 100 فیصد استثنی حاصل ہے۔‘ ماہرین کہتے ہیں کہ جب تک کوئی سیاسی حل نہیں ڈھونڈا جاتا تشدد یوں ہی چلتا رہے گا۔


ای پیپر