زندگی اورموت پر بھی سیاست۔۔۔؟؟؟
10 جولائی 2018 2018-07-10



لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والا پاک وطن جوں جوں زندگی کی بہاروں کی طرف بڑھ رہا ہے مسائل ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ، بڑھتے ہی جا رہے ہیں غیروں سے زیادہ اسے اپنوں نے زخم دئے جو بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہر بات پہ سیاست کو وطیرہ بنا لیا گیا ملکی مفاد کو بھی ہم نے سیاست کی نظر کردیاکالاباغ ڈیم کو ہی لے لیں ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوکر سمندر میں گرتا ہے لوڈشیڈنگ کا رونا ہر کوئی روتا ہے لیکن جب ڈیم بنانے کی بات ہو تو ’’کمینوں ‘‘کو موت پڑ جاتی ہے جب سے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کالاباغ کیلئے ایک مہم شروع کی ہے تب سے متعدد کے پیٹ میں’’ مروڑ ‘‘اٹھ رہے ہیں،کالاباغ ڈیم زندگی اور موت کا مسلہ بنا ہوا ہے ہم اس پہ بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آتے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے دنوں مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کراچی میں گئے تھے انتخابی مہم کے سلسلے میں جہاں انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم کھٹائی میں پڑ گیا کالا باغ قومی وحدت کو نقصان پہنچا کر نہیں بنایا جا سکتا ہمیں بھاشا ڈیم کو ترجیح دینا ہو گی ہم نے 20 سال ضائع کر دئیے یہاں کوئی پوائنٹ اسکورننگ نہیں کر رہا اس حمام میں سب ننگے ہیں کیونکہ کسی نے کام نہیں کرنا تھا سب بہانے ڈھونڈتے رہے ،ہمیں بھاشا ڈیم پر توجہ دینا ہو گی ڈیم کی زمین ڈھونڈی جا چکی ہے اس پر 100 ارب کی سرمایہ کر دی 5 سال میں اس ڈیم کا مکمل ہونا مشکل ہے لیکن اللہ نے موقع دیا تو 5 سال میں بھاشا ڈیم کو 80 فیصد تک مکمل کر دیں گے اس سے 4 ہزار میگا واٹ سستی بجلی پیدا ہو گی،پنجاب میں جلسہ ہو تو کالاباغ ڈیم موضوع اولین ہوتا ہے کسی اور صوبے میں جلسہ ہو تو کالا باغ کا ذکرگول کردیا جاتا ہے اللہ ہمارے سیاستدانوں کو ہدایت دے ان سے زیادہ عوام کو جو ’’انہے واہ ‘‘ووٹ کی پرچی پر مہر لگاتے ہیں۔
قارئین کشن گنگا ڈیم پاکستان کیلئے واٹر بم ہے جو ہمارے لئے موت کا پروانہ ہے لیکن ہے کسی سیاسی جماعت یا اس کے سربراہ کو توفیق نہ ہوئی کہ اس پر لب کشائی کرے سیاستدان تو اپنی لڑائیوں میں مگن ہیں انہیں اس سے کوئی سرورکار نہیں کہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہوتا جا رہا ہے ؟آنے والے دنوں میں بھارتی آبی جارحیت سے ملک بنجر ہو جائے گا،کالا باغ ڈیم ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسلہ بنتا جا رہا ہے ہم اس پر بھی سیاست کر رہے ہیں، پاکستان کی 20 فیصد شرح ترقی پانی پر منحصر ہے، 48 سے زائد عرصہ ہو گیاملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا،صرف باتیں ہوئی ہیں بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا جس سے نیلم جہلم خشک ہوگیا، کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر ہے، پانی کے ایشو سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں جسے ہم نے سیاست کی نظرکردیا اب جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثارنے بھاشا اور مہمند بنانے کا اعلان کرتے ہوئے قوم سے فنڈز دینے کی اپیل کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ڈیم ترجیحی بنیادوں پر تعمیر ہونے چاہیے، چیف جسٹس کے ملکی مفاد کے اس اقدام پر خراج تحسین کرتے ہیں لیکن دونوں ڈیموں پر مثال کے طور ایک لاکھ اور کالاباغ ڈیم پر ایک ہزار خرچہ آنا ہے کالا باغ تو بنایا تحفہ ہے اللہ کی طرف سے جسے ہم نے اپنی نااہلیوں سے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا،اللہ جانے ہم کب تک الٹے کان پکڑتے رہیں گے۔؟مشترکہ مفادات کونسل نے پہلی قومی واٹر پالیسی کی منظوری دیدی جس میں کہا گیا تھا کہ اس پر عمل کرتے ہوئے پانی کے وسائل کیلئے ترقیاتی بجٹ کا 10 فیصد مختص کیا جائے، 2030 تک پانی کے وسائل پر بجٹ 20 فیصد تک بڑھایا جائے،نئی واٹر پالیسی پرعمل درآمد کیلئے سابق وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ نے قومی واٹر چارٹر پر دستخط کئے اور قومی واٹر کونسل بھی قائم کردی گئی، بعض معاملات پر اختلاف کی بنا پر سندھ،کے پی کے اور بلوچستان کے سابق وزرائے اعلیٰ نے بائیکاٹ کیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاستدان ملک اور قوم سے کتنے مخلص ہیں؟ ،پانی کی شدید کمی کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں 1951ء میں پانی کی فی کس دستیابی 5260 مکعب میٹر تھی جواب ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی گر چکی ہے، 2025 تک فی کس پانی کی دستابی 860مکعب میٹر تک گرنے کا خدشہ ہے،پانی کی کمی پر قابوپانے کیلئے مرکز اور صوبوں کو مزید سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، آج صوبوں اور مرکز نے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے بھاشا ڈیم کی تعمیر سے امیدیں باندھ رکھی ہیں، اس ڈیم کی تعمیر کیلئے بھی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی، تکمیل کے بعد بھی یہ بجلی کی پیداوار اور پانی کی دستیابی کے حوالے سے کالا باغ ڈیم کا متبادل نہیں ہو سکتا،کالا باغ ڈیم پر سیاسی جماعتوں کو مثبت قدم اٹھانا چاہیے یہ سوچ کر کہ یہ منصوبہ ملکی بقا کا ضامن ہے چیف جسٹس سریم کورٹ کے اس اقدام کی پوری قوم معترف ہے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ کالا باغ کا نام تبدیل کرکے پاکستان ڈیم رکھ لیا جائے لیکن اصل بات نام کی نہیں چند لوگ پنجاب دشمنی میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں ان چند لوگوں کو ’’پٹہ‘‘ڈال دیا جائے تو کئی ڈیم تعمیر ہوسکتے ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنا نہیں ملک کا مفاد عزیز رکھا جائے۔




ای پیپر