Source : Social Media

راﺅ انوار کی ضمانت منظور،کس نے مجھے پھنسایا ،اہم انکشافات
10 جولائی 2018 (20:27) 2018-07-10

کراچی:سابق ایس ایس پی ملیرراﺅ انوار نے کہا ہے کہ استغاثہ یہ معلوم نہیں کرسکا کہ نقیب اللہ کوکب گرفتار کیا گیا، وقت آنے پر سب بتاﺅں گا کس نے مجھ کو پھنسایا۔نقیب اللہ قتل کیس میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد راﺅانوار نے انسداد دہشت گردی عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ثابت ہو گیا کہ وہ بے قصور ہیں انھیں بد نیتی کی بنیاد پرمقدمے میں ڈالا گیا،اللہ کا شکر گزار ہوں ضمانت مل گئی۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے میں اٹھانے والوں کا ذکر ہے نہ مارنے والوں کا،پہلے دن سے کہہ رہا ہوں میں بے قصور ہوں،99 گواہوں میں سے کسی نے میرا نام نہیں لیا۔سابق ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ کیس خراب کیا گیا اصل ملزمان بھی بچ جائیں گے،میرے ساتھ بھی وہ ہی کیا گیا جیسا مرتضیٰ بھٹوکیس میں ایک شخص کوپھنسانے کے لیے کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق ایس ایس پی ملیر را? انوار کی درخواست ضمانت پر ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے 10لاکھ روپے پر ضمانت منظورکرلی ہے۔

5 جولائی کو سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کی تھی جس میں راﺅ انوار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔یاد رہے 13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیرمیں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا صارفین اورسول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔از خود نوٹس کے بعد راﺅ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔۔عدالت نے راﺅانوار سے تفتیش کے لیے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس آفتاب پٹھان کی سربراہی میں پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دےدی تھی۔


ای پیپر