وفاقی حکومت نے این جی اوز کیخلاف مزید سخت قوانین تیار کرلئے
10 جولائی 2018 (16:36) 2018-07-10


اسلام آباد: وفاقی حکومت نے این جی اوز کیخلاف بھی مزید سخت قوانین تیار کرلئے ہیں۔ وفاقی دارلحکومت اپنے منشور اور دعوؤوں کے مطابق کام نہ کرنے والی470 این جی اوز کو تحلیل کردیا گیا جبکہ 292 این جی اوز سے اکاؤنٹس اور کارکردگی کی رپورٹس طلب کرلی گئیں این جی اوز کیلئے بنائے گئے نئے قانون کے مطابق جھوٹی معلومات دینے والے اور اغراض مقاصد سے ہٹ کر کام کرنیوالی این جی اوز کو جرمانے اور 3سے 5سال تک قید کی سزائیں بھی تجویز کردی گئیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی این جی اوز کیخلاف انسدادہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی اور انکے تمام اثاثے بھی ضبط ہوسکیں گے۔


تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے این جی اوز کے کام میں شفافیت لانے کیلئے نہ صرف ایک نیا قانون تیار کیا ہے بلکہ پہلے سے موجود این جی اوز کیخلاف برق رفتار کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا ہے وزارت داخلہ سے کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق رواں برس درست معلومات نہ دینے والی اور اپنے ایجنڈ سے ہٹ کر کام کرنیوالی 470این جی اوز کو تحلیل کر دیا گیا جبکہ 292 این جی اوز کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جن میں اس سے اکاؤنٹس کی تفصیل ،مختلف منصوبوں پر خرچ ہونیوالی رقم اور فنڈز کہاں سے لئے وغیرہ تفصیلات مانگی گئی ہیں۔


وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ درست معلومات نہ دینے والی این جی اوز کو ختم کردیا جائے گا مزید برآں معلوم ہوا ہے کے وزارت داخلہ نے تمام این جی اوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حوالے سے حساس اداروں سے رپورٹ بھی مرتب کروائی ہے تاکہ وزارت داخلے کو ایکشن لینے میں آسانی ہوسکے وزارت داخلہ نے این جی اوز کے کام میں بہتری کیلئے جو قانونی مسودتیار کیا ہے اس کے مطابق جھوٹ بول کر فنڈز لینے والی این جی اوز کے بورڈ ممبران کو جرمانے اور سزا دی جاسکے گی جبکہ ہر این جی اوز اپنے فنڈز کے مختلف پراجیکٹس میں اٹھنے والے اخراجات بارے تفصیلات دینے کی بھی پابند ہونگی اور درست معلومات نہ دینے والے تمام این جی اوز کو نہ صرف تحلیل کر دیا جائے گا بلکہ بورڈ ممبران کو بھی سزائیں دی جائیں گی واضح رہے کہ اس وقت 1482این جی اوز رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1012 اس وقت فعال ہیں اس میں سے 470 کو تحلیل کرکے 292کو حتمی نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں ۔


ای پیپر