اس نظام کو آخری موقع دینا چاہئے

10 جولائی 2018

عتیق الرحمن

پاکستان بننے کے بعد سے ہی بڑے جاگیرداروں نے سیاست اور اقتدار کی غلام گردشوں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی تھی اور زرعی ریفارمز نہ ہونے کی وجہ سے وہ آج تک قائم ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاست میں سرمایہ درر طبقہ کی انٹری ہوئی جسے سیاست میں بام عروج پر شریف فیملی نے پہنچایا اور اب انکی تعداد بھی ہر سیاسی و مذہبی جماعت میں بہت زیادہ ہے اور فیصلہ سازی میں ان کا کلیدی کردار ہے اب جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کی گرفت اقتدار پر مضبوط ہے اور کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئے یہی طبقہ جسے آج الیکٹیبلز کا نام دیا جاتا ہے اسمبلی میں اکثریت میں موجود ہوتے ہیں۔ اور اسی اکثریت کی بناء پر پارٹی ورکرز اور نچلی سطح سے آنے والے پارٹی لیڈران کا کردار پارٹی اور اسکے فیصلوں میں ثانوی رہ گیا ہے فیصلے وہی ہوتے ہیں جو کہ اس طبقہ کے مفادات کا تحفظ کریں یہ نظام اسی طرح کئی دہائیوں سے چل رہا ہے اور عوام کی حالت بھی اسی وجہ سے بد سے بدتر ہورہی ہے۔

2012 وہ سال تھا جب اس جمود کے خلاف ارتعاش پیدا ہوا جسکا سہرا ڈاکٹر طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک اور عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو جاتا ہے جنہوں نے اس نظام میں تبدیلی کی بات کی اور نوجوانوں اور پسے ہوئی عوام کی قابل ذکر تعداد کو اس نعرہ نے اپنی جانب متوجہ کیا۔

2013 کے الیکشن میں تبدیلی کی خواہشمند ان دونوں جماعتوں میں تبدیلی کے طریقہ کار پر اختلاف سامنے آیا جب عوامی تحریک دھرنے اور الیکشن کے بائیکاٹ اور تحریک انصاف الیکشن کے ذریعے تبدیلی کی خواہش لیے الیکشن کے عمل میں شامل ہوئی، تحریک انصاف اسمبلی میں تو پہنچی لیکن اقتدار مسلم لیگ ن کے مقدر میں آیا اور پانچ سال کے لیے تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن 2018 سر پر ہے اور ایک بار پھر پاکستان عوامی تحریک نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ڈاکٹر طاہرالقادری کا موقف ہے کہ اس نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، اس لیے پہلے ان تمام عناصر کا احتساب کیا جائے جو کہ پاکستان اور اسکی عوام کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے، ساتھ ریفارمز کی جائیں کیونکہ موجودہ نظام میں ملک کی 98 فیصد عوام کا کوئی کردار نہیں الیکشن کے نام پر وہی چند خاندان مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتے ہیں کیونکہ الیکشن کے لوازمات کوئی پڑھا لکھا، قابل پاکستانی برداشت ہی نہیں کرسکتا چاہے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور عبدالستار ایدھی جیسے محسن پاکستان ہی کیوں نہ ہوں اس لیے احتساب اور ریفارمز کے بغیر حقیقی جمہوریت نہیں آسکتی اور چند خاندانوں کی آمریت ہی مسلط رہے گی۔

عمران خان صاحب ایک بار پھر الیکشن میں کامیابی کے لیے پرامید ہیں اور اس بار انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ الیکٹیبلز کو پارٹی ٹکٹ دیئے ہیں جو کہ انکے بقول الیکشن کی سائنس (لوازمات) جانتے ہیں، بظاہر عمران خان نے اس بات کا اقرار کرلیا ہے کہ اس نظام میں ایسے لوگوں کے بغیر اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات سے قطع نظر کہ انکے پاس تبدیلی کی خواہشمند نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد ہے اور وہ خود بھی اس وقت پاکستان کے پاپولر ترین لیڈر ہیں، تحریک انصاف نے یہ نعرہ لگایا ہے کہ وہ الیکٹیبلز کے ذریعے اقتدار میں آکر اس نظام کو تبدیل کردیں گے جو کہ بظاہر ممکن نہیں لگتا، کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ممبران اسمبلی جو کہ خود اس نظام سے فائدہ لینے والے ہیں اپنے ہی مفادات کے خلاف قانون سازی کریں گے اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھنے دیں گے جبکہ اسکا شکنجہ انکے گرد بھی تنگ ہوگا۔ سابقہ ایسے تجربات کامیاب نہیں ہوئے اور ایسے عناصر کے کندھوں پر کھڑی حکومت نے ہمیشہ سمجھوتہ کیا یا انہیں حکومت سے ہی ہاتھ دھونا پڑا۔

اب تک کی صورت الحال سے لگتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی اور کسی بھی جماعت کو حکومت سازی اور قانون پاس کرنے کے لیے دوسری جماعتوں اور آزاد ارکان کے گروپ کا سہارا لینا پڑے گا اگر تحریک انصاف کو سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت سازی کے لیے دوسری پارٹیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو انکی حکومت آزاد ارکان، دوسری جماعتوں کی بیساکھیوں اور اپنی پارٹی میں موجود اس نظام سے مفادات لینے والے الیکٹیبلز کے سہارے کھڑی ہوگی اور اقتدار ملنے کے باوجود تبدیلی ایک خواب ہی رہے گی۔

مسلم لیگ شہباز شریف کی قیادت میں پرامید ہے کہ وہ دیگر اتحادیوں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنالے گی کیونکہ پنجاب میں اب بھی انکی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی بھی پرامید ہے کہ وہ شہری سندھ میں ایم کیو ایم کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے گی اور دیہی سندھ میں اب بھی اس کی پوزیشن کو چیلنج کرنے والی GDA میں وہ دم خم نہیں کہ وہ اسے زیادہ ٹف ٹائم دے سکے اس لیے سندھ سے پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کرلے گی۔ کے پی، بلوچستان اور پنجاب سے اسے اتنی سیٹیں حاصل ہوجائیں گی کہ کوئی بھی حکومت اسکے بغیر نہیں بن سکے گی اور وہ ایسی صورت میں بارگیننگ کی صورت میں بلاول بھٹو ذرداری کو اگلا وزیر اعظم بناسکتی ہے ۔ چوہدری نثار بھی آزاد ارکان کی طاقت کے ساتھ حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں ڈاکٹر طاہرالقادری الیکشن میں حصہ نہ لینے کی پریس کانفرنس کرکے یورپ کے تبلیغی دورے پر چلے گئے ہیں انکا ملک سے باہر چلے جانا اور بظاہر تحریک انصاف کو ٹف ٹائم نہ دینا اس نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی کی خواہش رکھنے والوں کو آخری موقع دینے کی سبیل لگتی ہے کیونکہ انہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ جب تک عوام کی انتخابات کے ذریعے تبدیلی کی امید دم نہ توڑ دے وہ اس نظام کے خلاف نہیں اٹھے گی اور انکا پاکستان میں رہتے ہوئے عوام کو الیکشن میں حصہ نہ لینے کے لیے متحرک کرنے کا فائدہ مسلم لیگ کو ہوگا اور وہ شریف خاندان کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے۔

میری رائے میں یہ اس نظام اور عمران خان کے پاس یہ آخری موقع ہے اگر وہ اس نظام میں رہتے ہوئے کوئی تبدیلی نہ لاسکے تو پسی ہوئی عوام کے پاس اس نظام کے خاتمے اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا اور عمران خان خود بھی اس نظام میں رہنے کا جواز کھو دیں گے اور انہیں طاہرالقادری کے احتساب، ریفارمز اور پھر انتخابات کے ایجنڈے پر آنا پڑے گا۔

مزیدخبریں