مقام عبرت !
10 جولائی 2018 2018-07-10

شریف برادران جو، اب کسی بھی حوالے سے ”شریف برادران“ نہیں رہے جب بھی اقتدار میں آئے ہم نے ان کے خلاف ڈٹ کر لکھا۔ اصل میں اقتدار میں آکر اپنے حق میں لکھنے کا اِس صورت میں اُنہوں نے کبھی موقع ہی فراہم نہیں کیا کہ عوام کو تعلیم، صحت اور عدل کی بنیادی سہولیات فراہم کرتے۔ البتہ جب وہ اقتدار سے رخصت ہوجاتے ہیں یا اُنہیں ”جبری رخصت“ پر بھیج دیا جاتا ہے تو مظلومیت کا ایسا لبادہ وہ اوڑھ لیتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اُن کے حق میں لکھنا پڑ جاتا ہے، اُن کی ”فنکاریوں“ کے آگے ہم بے بس ہو جاتے ہیں، مگر اِس بار صورت حال ذرا مختلف ہے۔ اب کے بار مظلومیت کا سارا میک اپ اُن کے چہروں سے اُتر گیا ہے، بلکہ اب تو اُن کے چہرے ہی اُتر گئے ہیں، اُن کے انداز سیاست اور زبان وبیاں سے یوں محسوس ہوتا ہے اب خود بھی وہ اس یقین میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ عوام اب اُن کے ”روایتی دھوکے“ میں آنے والے نہیں ہیں، لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوئی حد ہوتی ہے۔ جیسے کرپشن وغیرہ کرنے کی کوئی حد ہوتی ہے، یا اداروں کو پامال کرنے کی کوئی حد ہوتی ہے ۔”شریف برادران“ ساری حدیں پار کر گئے ہیں، بالآخر اُنہوں نے ثابت کردیا ہے اگلے دوسوبرسوں تک بھی وہ اقتدار میں رہے وہی گند ڈالیں گے جو ان کی روایت اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ یقین کریں اب جبکہ وہ گرے پڑے ہیں۔ شکست ان کے محلات کے سامنے رقص کررہی ہے، اُن کا سارا تکبر خاک میں مِل گیا ہے، ہمارا جی نہیں چاہتا لفظوں کے پتھر اُٹھا اُٹھا کر اُن پر پھینکیں، مگر جو ”گھاﺅ“ اِس ملک اور اِس کے کروڑوں بے وقوف ، مظلوم اور بے بس عوام پر اُنہوں نے لگائے ہیں اُن کے مطابق اب ان کی مظلومیت کے ڈھونگ کو خاطر میں نہیں لایا جاسکتا، سو اب ہمیں ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جس کے صحیح معنوں میں وہ مستحق ہیں،....نیب کورٹ نے سابق وزیراعظم کو کرپشن یا ناجائز اثاثے وغیرہ بنانے کے کیس میں دس سالہ قید کی سزا سنائی ہے، کاش کوئی شخص اُن کی نااہلیوں اور نکمے پن کاکوئی کیس بھی عدالت میں لے جاتا، ان کی کرپشن کا اتنا نقصان اس ملک کو شاید نہیں ہوا جتنا ان کی نااہلیوں اور نکمے پن سے ہوا، سو ان کی کچھ سزائیں ابھی باقی ہیں، جو اُنہیںیہاں سے نہ بھی مل سکیں روز حشر ضرور مل جائیں گی۔ وہاں کوئی رشوت کوئی سفارش کوئی دھونس کوئی طاقت کام نہیں آئے گی، کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے اللہ کو پتہ تھا دنیامیں اس کے بندے ایک دوسرے کو انصاف نہیں دے سکیں گے، شاید اسی لیے اس نے روز حشر مقرر کیا .... سابق وزیراعظم اب نیب کورٹ کی سزاکے خلاف اپیل کرنے جارہے ہیں، یہ ان کا حق ہے، یہ حق نیب کو بھی استعمال کرنا چاہیے، اسے بھی اپیل کرنی چاہیے کہ نیب کورٹ نے اس کے مجرم کو کم سزا دی ہے۔ سزا بڑھائی جائے۔ سابق وزیراعظم کو نیب کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے نتیجے میں کوئی ریلیف مل بھی گیا (جس کے چانسز بہت کم ہیں) تو جو عدالت آخرت میں لگنے والی ہے انہیں پتہ ہے اس کا فیصلہ کیا ہوگا۔ سو، اب بھی وقت ہے وہ توبہ کرلیں اور اس کی ابتدا ءکے طورپر لُوٹا ہوا مال رضا کارانہ طورپر واپس لے آئیں کیونکہ ہم سب کی طرح انہوں نے بھی قبر میں اکیلے جانا ہے، وہاں صرف اعمال ساتھ جائیں گے جوکہ سابق وزیراعظم کو پتہ ہے کیا ہیں ؟۔ ہم تو دعا گو ہیں اللہ کسی کو بے عزتی کے اس مقام پر نہ پہنچائے جہاں بڑے فخر سے جاکر وہ کھڑے ہوگئے ہیں۔ ....ہم نے سنا تھا ”بُرے کی رسی دراز ہوتی ہے“۔ پہلی بار اب جاکر پتہ چلا اللہ جب بُرے کی رسی کھینچنے پر آتا ہے اسے کس مقام پر لے آتا ہے۔ یہ توبہ کا مقام ہے جسے سابق وزیراعظم نے اب بھی تکبر کا مقام بنایا ہوا ہے۔ وہ اب بھی یہی سمجھتے ہیں سارا قصور کچھ ججوں اور جرنیلوں کا ہے، کچھ ججوں اور جرنیلوں کا قصور صرف اتنا ہے پہلی بار ایک بڑے مگرمچھ پر انہوں نے ہاتھ ڈالا ہے، یہ الگ بات ہے کچھ اپنے ”مگر مچھوں“ پر بھی اب انہیں ہاتھ ڈالنے چاہئیں کرپشن صرف سیاستدان نہیں کرتے۔ البتہ انفرادی طورپر شاید اتنی نہیں کرتے جتنی انفرادی طورپر اور اجتماعی طورپر بھی شریف برادران نے کی اور زرداری نے کی۔ اب زرداری کی باری بھی شاید آجائے۔ آنی بھی چاہیے، مگر ملک کی تقدیر بدلنے کا آغاز اصل میں اس وقت ہوگا جب کرپشن کرنے والے کچھ ججز، جرنیل اور جرنلسٹ بھی
سزاﺅں کی زد میں آئیں گے۔ .... اگلے روز عمران خان سے بات ہورہی تھی۔ انہوں نے اپنی بات دہرائی کہ سابق وزیراعظم قدرت کی پکڑ میں ہیں۔”ان کی یہ بات بالکل درست ہے ورنہ سابق وزیراعظم جیسی فطرت اور اوصاف رکھنے والے کچھ اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات کی جرا¿ت یا عادت ہی نہیں تھی ان پر ہاتھ ڈالتے، ان اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات کو البتہ یاد رکھنا چاہیے قدرت کی پکڑ میں کل کلاں وہ بھی آسکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے لیے بھی یہ توبہ کا مقام ہے ۔”اجتماعی توبہ“ ہی اس ملک کو صحیح معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کر سکتی ہے، .... کوئی انسان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ جب قدرت کی پکڑ میں آتا ہے اس کی ساری طاقت اور عقل خاک میں مل جاتی ہے۔ ساری تدبیریں اُلٹی ہوجاتی ہیں، میاں محمد بخشؒ یاد آتے ہیں، ”پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں بیلن وچ گنا ....روہ نُوں کہو ہن رہوے محمد، ہن جے رہوے تے مناں ....کاش شریف برادران اس حقیقت کو تسلیم کرلیں ان کی سیاسی دنیا اب لُٹ چکی ہے....”شیر، اک واری فیر“ کا ”خواب“ اب”جیل، اک واری فیر“ میں ڈھل چکا ہے، پانامہ کیس میں عدالتوں میں جانے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا ۔ جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا، سارے جرنیل اور جج ان کے اپنے تھے، مگر قدرت ان کی اپنی نہیں رہی تھی، ان کا خیال تھا عدلیہ اب بھی ویسے ہی ان کی مددگار ہوگی جیسے ماضی میں تھی، ان کا خیال تھا عدلیہ میں لفافے اور بریف کیس متعارف کروانے کا جو سلسلہ انہوں نے شروع کیا تھا قیامت تک چلے گا۔ جس کے فائدے ساری زندگی انہیں پہنچتے رہیں گے۔ یہی سوچ ان کی میڈیا کے حوالے سے بھی تھی، لفافہ سیاست کے ہی نہیں لفافہ صحافت اور لفافہ عدالت کے بھی وہ بانی ہیں۔ اور اپنا مقابلہ وہ اس ”بانی¿ پاکستان“ سے کرتے ہیں جن کی عظمتوں کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔ قدرت جب رسی کھینچنے پر آتی ہے اپنے ہی لگائے ہوئے پیڑوں کی چھاﺅں کڑی دھوپ بن جاتی ہے، نیب عدالت کے جج بشیر احمد کی جگہ خواجہ شریف یا ملک قیوم جیسے کاروباری جج ہوتے وہ بھی اپنے ممدوح سابق وزیراعظم کے حق میں فیصلہ نہ کرپاتے، نیب کے فیصلے کی اہمیت اپنی جگہ، اس سے بھی زیادہ متاثر مجھے نیب کورٹ کے جج بشیر احمد کے اس ”جملے“ نے کیا کہ ”میں اپنا فیصلہ لندن فلیٹس کے سامنے جاکر سنانا چاہتا ہوں“ ،....یہ بات انہوں نے سابق وزیراعظم کے اس جملے کے جواب میں کہی کہ ”میں اپنا فیصلہ عدالت میں جج کے سامنے کھڑے ہوکر سننا چاہتا ہوں“ ....رہے نام اللہ کا !


ای پیپر