انتخابات کا بائیکاٹ اور ریچھ کا شکار
10 جولائی 2018 2018-07-10

پچھلے چند روز بہت ہنگامہ خیز رہے، پہلے لندن فلیٹس کے حوالے سے احتساب عدالت کا فیصلہ سامنے آیا پھر کیپٹن (ر) صفدر مجرم قرار دیئے جانے کے بعد روپوش ہوئے اور پھر انہوں نے خود گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔ ابھی ان واقعات کی بازگشت جاری تھی کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالتے ہوئے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی گئی اور اب انہیں اپنی صفائی پیش کرنا ہے کہ ”منی لانڈرنگ“ کے تازہ سامنے آئے سکینڈل کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان حالات کا تجزیہ کریں تو معاملہ کچھ یوں بنتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی اطلاعات میں شدت آتی جا رہی تھی اور ایک تردید شدہ خبر کے تحت نواز شریف اور آصف زرداری کی ایک مبینہ ملاقات ہو چکی تھی اور دونوں رہنماﺅں نے آئندہ عام انتخابات اور احتساب کی زور پکڑتی مہم اور اس کے نتائج پر غور کیا تھا۔ اس مبینہ ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے ”مشترکہ بائیکاٹ “ پر غور کیا لیکن بعد میں اس ملاقات کی تردید کی گئی اور کہا گیا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
خیال یہ ہے کہ ملاقات ہوئی تھی اور انتخابات کے بائیکاٹ کی تجویزپر غور بھی کیا گیا تاہم اس بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کا خیال یہ ہے کہ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں مل کر عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں تو پھر ان انتخابات کی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی اور تحریک انصاف کا راستہ رک جائے گا کیونکہ ایسے بائیکاٹ کی صورت میں اول تو انتخابات ہوں گے ہی نہیں اور اگر ہوئے بھی تو انہیں پاکستان کے اندر اور باہر قبولیت نہیں مل سکے گی اور یوں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کو کسی بھی وقت گھر بھیجے جانے کی بنیاد رکھ دی جاتی کیونکہ اس کے بعد دونوں سیاسی جماعتیں مل کر مناسب وقت پر تحریک شروع کر کے اُسے گھر بھیج دینے کی پوزیشن میں ہوتیں ۔ تاہم آصف علی زرداری غالباً اس وقت تک انتخابات کے بائیکاٹ پر نہیں سوچ رہے تھے کیونکہ انہیں سندھ میں اپنی جماعت کی حکومت قائم ہونے کی توقع تھی لیکن کراچی میں مہاجر ووٹ کی اس طرح سے تقسیم ممکن نہیں ہو سکی جو پیپلز پارٹی کے لیے نقد فائدے کا باعث بنتی اسی طرح اندرون سندھ پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کے اتحاد کے قائم ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہوا تھا ،قومی سطح پر بھی آصف علی زرداری جتنی سیٹوں کی امید لگائے بیٹھے تھے (پچھلے کسی کالم میں عرض کر چکا ہوں) وہ بھی اب جنوبی پنجاب، بلوچستان سمیت کہیں سے پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ ایسے میں سیاسی حلقوں اور مسلم لیگ (ن) کے حمایتی ایک کالم نگار کی جانب سے بائیکاٹ کی تھیوری سنجیدگی سے پیش کی گئی۔ یہ بھی یاد رہے کہ اسی سیاسی جماعت نے جان بوجھ کر ایسی فضا قائم کیے رکھی ہے جس سے ہر کسی کو انتخابات کے بروقت ہونے پر یقین نہیں رہا اور یہی وجہ ہے کہ بے یقینی کی اسی کیفیت کے باعث الیکشن سے منسوب روایتی گہما گہمی ابھی تک مفقود ہے اور امیدوار ابھی تک اپنے ووٹرز تک نہیں جا رہے۔ جب آصف علی زرداری کو لگا کہ وہ الیکشن میں جا کر سندھ بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں گے اور ماضی قریب میں ان کی جو بات چیت تقریباً طے پا چکی تھی اس میں کوئی حقیقت نہیں رہی تو پھر انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا تاہم آصف علی زرداری کی اس پل پل بدلتی کیفیت سے آگاہ لوگوں نے حیدر آباد سے اسماعیل ڈاہری کے ذریعے پیغام رسانی کا فیصلہ کیا اور پیغام یہ دیا گیا کہ انتخابات کو بروقت اور شفاف طریقے سے منعقد کیے جانے کو کسی سازش کے ذریعہ نہیں روکا جا سکتا، لیکن آصف علی زرداری بھی سب پر بھاری ہیں دو یا تین دن بعد جب بلاول بھٹو زرداری اپنی انتخابی مہم کے آغاز میں لیاری گئے تو واپس پیغام بھجوایا گیا کہ اگر ایک آدھ مرتبہ پھر کسی جلوس پر پتھراﺅ ہوا اور خدانخواستہ کسی اہم رہنما کو چوٹ وغیرہ لگ گئی تو پھر پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن میں کس طرح سے حصہ لے سکے گی؟ یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ لیاری میں پتھراﺅ کس نے کیا یا کروایا ہو گا؟
یہ جوابی پیغام وصول ہونے کے 4 دن بعد ایف آئی اے کی ایک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ منی لانڈرنگ کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے اربوں روپے دائیں بائیں کئے گئے ہیں جس کے بعد حسین لوائی کو گرفتار کر لیا گیا اور ان 29 اکاﺅنٹس کے ذریعے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست بھی سامنے آ گئی ہے۔
ان حالات میں یہ تجزیہ زیادہ غلط نہ ہو گا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں شاید مل کر انتخابات کے بائیکاٹ پر آمادہ نہ ہو سکیں اور انتخابات کو اخلاقی جواز سے محروم کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ گزشتہ روز عارف نظامی صاحب کی طرف سے آصف علی زرداری کے انٹرویو کے دوران پریشانی اور الجھن کے تاثرات ان کے چہرے پر صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ رہے میاں نواز شریف اور مریم نواز تو واپس نہ آنے کی صورت میں ان کی ساری سیاست ختم ہو سکتی ہے اور انتخاب میں بھی ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے جبکہ واپسی کی صورت میں بھی وہ تمام افراد منہ چھپاتے پھریں گے جنہوں نے امام خمینی ؒ کی واپسی کے مناظر کی تصاویر دکھا دکھا کر نوبت یہاں تک پہنچائی ہے۔ ویسے ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ بلوچستان کے راستے ترکی اور دوبئی پیسے بھجوانے والے ایک اور منی لانڈرنگ ریکٹ کی تحقیقات جاری ہیں جس کے ڈانڈے پنجاب سے جا ملتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ اگر انتخابات بروقت نہ ہوئے تو 2014ءمیں فارن سروسز اکیڈمی میں دو اداروں کے سربراہان کے مابین جس قسم کے احتساب اور کرپشن فری پاکستان کی بات ہوئی تھی وہ معاملہ آگے بڑھ جائے گا اور وہ کئے گئے فیصلے انفرادی نہیں بلکہ ادارہ جاتی قرار پائیں گے۔ میاں نواز شریف کو تین بار وزیراعظم بننے کا موقع ملا لیکن وہ ہر بار ریچھ کے شکار پر نکل جاتے ہیں، لگتا یہی ہے کہ اب ریچھ یہ پوچھنے والا ہے کہ یقینا آپ شکار کیلئے تو نہیں آتے....پر یہ ساتھ دوسرا بندہ کون ہے؟


ای پیپر