PPP, PML-N, PTI government, Mach incident, politics
10 جنوری 2021 (11:59) 2021-01-10

خدا خدا کرکے حکومت کے ساتھ سانحہ مچھ کے لواحقین کے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔لاشوں کی تدفین کے بعد عمران خان لواحقین سے ملنے کوئٹہ پہنچ گئے۔ اس سے پہلے سانحہ مچھ کا معاملہ سلجھنے کی بجائے الجھتا جارہا تھا۔ایک وقت ایسا آیا کہ 5روز گزر  جانے کے باوجود معاملہ جوں کا توں تھا۔اس دوران وزیر اعظم عمران خان تک خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جو رپورٹ دی گئی۔اس کی روشنی میں حکومت دھرنے کے 5ایسے کرداروں تک پہنچ گئی۔جن میںسے 3کردار ایسے تھے۔جو دھرنا ختم کرنے کے خلاف تھے۔ مطالبات کی آڑ میں کچھ غیر آئینی اقدام منوانا چاہتے تھے۔ان کرداروں کا  تعلق ایران سے ہے۔جن کا ہزارہ کمیونٹی پر بڑا اثرو رسوخ ہے۔جبکہ دو کردار ایسے تھے۔جو دھرنا ختم کرنا چاہتے تھے۔ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے سربراہ عبدالخالق نے کہا کہ دھرنے میںمطالبات لواحقین کے  نہیںہیں۔یا د رہے کہ ہزارہ سانحہ پر پہلی آواز عمران خان کی آئی تھی۔جنہوں نے سانحہ پراظہار افسوس کے لیئے ٹیویٹ کیا تھا۔مچھ کے سانحہ کے تناظر میں بتاتی چلوںکہ اس کے پس پردہ پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت کو ایک بار پھر ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔کیونکہ بلوچستا ن ملک دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔اس ضمن میں وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ مطالبات منوانے والوںکی بلیک میلنگ میں نہیں آئو ں گا۔یہ انہوںنے ان کرداروںکے بارے میں کہا جو لواحقین کے دکھ کی آڑ میں اپنے مطالبات منوانا چاہ رہے تھے نہ کہ لواحقین کے بارے میں یہ کہا گیا۔مچھ پہاڑی علاقہ ہے۔جہاں دشمن تاک میں رہتا ہے۔ یہاں سکیورٹی معاملات بھی حسا س ہیں۔بلاشبہ بلوچستان کے علاقہ مچھ میں گیارہ بے گناہ کارکنوں کا قتل انتہائی اندوہناک سانحہ ہے۔لواحقین احتجاج کررہے تھے کہ عمران خان آئیں تو لاشوں کو دفنایا جائے گا۔پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں باخبر ہیں۔کچھ ٹارگٹوں کے ارادوں کو بروقت کاروائی سے ناکام بنایا گیا ہے۔مگر افغانستان سے کچھ دہشت گردی کی کاروائیاں ہورہی ہیں۔جن کو وہاں ہر صورت میں کنٹرول کرنا ہوگا۔سب سے اہم ایشو ہے۔یادرہے کہ بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے اور وہاں بے چینی پھیلانے میں بھارت کا بڑا ہاتھ 

ہے۔بلوچستان میںحکومت اور فوج کے خلاف پی ڈی ایم کے اظہاریہ کا ڈرافٹ مودی کے ایجنٹ کا ہے۔جس میں محمود اچکزئی نے اپنے جلسہ میں نظریہ پاکستان کی مخالفت اور آزاد بلوچستان کے نعروں کے لئے پی ڈی ایم کا اسٹیج استعمال کیا۔گذشتہ دنوں مریم نواز نے بہاول پو رمیں احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔انہوںنے اس دوران سابق سینیٹر چوہدری سعود مجید کے گھر سونے کے برتن میںکھانا کھایا۔بعد میںمریم نواز سرائیکی چوک پر مہنگائی کا رونا روتی رہی۔اگر وہ اتنی ہمدرد ہوتی توکسی غریب کارکن کے گھر ٹھہرتی اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی۔پھر پتہ چلتا کہ مریم نواز کے اندر انسانیت ہے اور ان کے نزدیک پیسہ نہیںانسان کی وقعت ہے۔وہ پچھلے دنوں ہزارہ کمیونٹی سے اظہار افسوس کرنے کوئٹہ گئیں تو خود کو وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن سمجھتے ہوئے غریب لوگوں کو گلے لگایا۔واقعہ پر سیاست کرتے ہوئے بیان داغ دیا کہ بے حس وزیر اعظم کو آنا چاہئے۔ان کی بات سننی چاہئے ۔

میں سونے کے چمچ لے کر پیدا ہونے والے مریم نواز اور بلاول  زرداری کو یاد دلاتی جائوں۔ اس وقت  کے بے حس وزیراعظم کہاں تھے مظلوموں گلے کیوں نہیں لگایا جب  2013 علمدار روڈ پر دو خودکش دھماکے 120 افراد شہید 200 سے زائد زخمی اور 2013 ہزارہ ٹاؤن خودکش حملہ 80 افراد شہید درجنوں زخمی۔محکمہ داخلہ بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں ہونے والے 13 حملوں میں ہزارہ برادری کے 231 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2015 میں ہزارہ برادری کے 21 افراد کی موت ہوئی۔ اپریل 2019 بیس ماہ کے وقفے کے بعد 3 جنوری 2020 کو ہزارہ برادری پر ایک پر یہ ٹارگٹ فرقہ وارانہ حملہ ہوا ہے۔

2013 سے لیکر 2018 تک مسلم لیگ ن، اور پیپلز پارٹی نے حکومتیں کیں اِس دورانِ سب سے زیادہ اموات ہوئیں ۔ لیکن دونوں پارٹیوں نواز شریف، یا آصف زرداری یا اْنکے نونہال بچوں کی اْس وقت دھرنوں میں تصویریں نہیں ملی تھیں۔اْسکے بعد 3 جنوری کوحملے کے بعد PDM نے بہاولپور اور بنوں میں دو جلسے کئے ان سیاسی گدھوں کو ذرا خیال نہیں آیا کہ قوم کے دکھ میں شریک ہوتے ہوئے جلسہ ہی ملتوی کردیں۔

لیکن آج جب میڈیا میں اِس سانحہ کو کوریج مل رہی ہے تو منافق کوچ کر گئے۔ انہیں کسی سانحہ سے فرق نہیں پڑتا یہ اندر سے کالے سیاہ تر ہیں بھلا ماڈل ٹاؤن، تھر کے بچوں کے قاتل کسی کے دکھوں کا مداوا کیسے کرسکتے ہیں۔

لواحقین کی طرف سے یہ کہنا کہ وزیر اعظم عمران خان آئیںوزیر اعظم پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔

مریم نواز تمہیں شرم آنی چاہئے۔میں یاد دلاتی ہوں۔جب آپ کی حکومت تھی۔اس وقت لوگ ن لیگ کی حکومت پر احتجاج نہیں کرتے تھے۔ذرا یادکرو30ستمبر 2017کو یہی وقت تھا۔جب پارہ چنار میں 132افراد بم دھماکہ میں شہید ہوگئے۔ایسی یخ بستہ سرد ی کے دن تھے۔لواحقین نے احتجاج کیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ آرمی چیف آئیں تو ہم دھرنا ختم کریں گے۔اس وقت ملک میں ن لیگ کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی تھے۔پارہ چنار کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ہمیں وزیر اعظم پر اعتبار ہے نہ وزیر داخلہ پر بھروسہ ہے۔ صرف آرمی چیف ہم سے بات کریں۔تب مریم نواز اور نوازشریف کی سیاست اور ہمدردی کہا ںتھی۔یہ اس وقت لواحقین سے تعزیت کرنے کیوں نہیں گئے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان آپ سانحہ مچھ کے مظلوموں کو گلے لگانے سے قوم کا دل جیتیں گے۔ پہلے لوگوں کی توقعات وزیر اعظم عمران خان سے بڑھ گئی تھیں۔کیونکہ انہوں نے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم کو فون کیا تھا اور مسلمانوںکو گلے لگانے پر ان کے رویئے کی تعریف کی تھی۔لیکن فرق صرف اتناہے کہ نیوزی لینڈ میں5دن لاشیں سڑک پر رکھ کر مطالبات نہیں کئے گئے تھے۔مذہبی کارڈ نہیں کھیلاگیا تھا۔وہاں کی وزیر اعظم خود گئی تھی۔

حکومت کو ہزارہ برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیئے ٹھوس اقداما ت کرنے چاہئیں ۔خاص طور پر کان کنی جیسی صنعت سے وابستہ لوگوں کو تحفظ دیا جائے۔جو بلوچستان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ترجیحی بنیادوں پر اقداما ت کرنے چاہئیں۔مچھ کے پہاڑ کوئلہ کی دولت سے مالا مال ہیں۔یہاں کسی تخریبی گروہ کا وجو د قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے لیئے بڑا چیلنج ہے۔ توقع ہے اس چیلنج سے پوری قوت کے ساتھ نمٹاجائے گا۔


ای پیپر