پاکستان ،مسجد میں دھماکہ
10 جنوری 2020 (19:32) 2020-01-10

کوئٹہ :کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن کی مسجد و مدرسہ میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) ،امام مسجد سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے ،صدر ، وزیراعظم ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ، سپیکر وڈپٹی سپیکر ، وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر داخلہ کی دھماکے کی شدید مذمت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاﺅن کی مسجد و مدرسہ میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) ،امام مسجد سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے۔دھماکا سیٹلائٹ ٹان کے نواحی علاقے غوث آباد کی ایک مسجد و مدرسہ میں ہوا ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل(ڈی آئی جی)کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے دھماکے میں ڈی ایس پی امان اللہ سمیت 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 19 افراد زخمی بھی ہوئے۔دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری جائے وقوع پر پہنچی جبکہ ریسکیو عملے نے زخمیوں کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد کی فراہمی شروع کردی گئی ۔سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مدرسے کے اردگرد کا علاقہ خالی کرا دیا ،سول ہسپتال ،کوئٹہ میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سیٹلائٹ ٹاﺅن کی مسجد میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہتر طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے بھی مسجد کے اندر دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ہماری ترقی اور ابھرتے ہوئے پاکستان سے خائف ہیں جبکہ اندرونی و بیرونی دشمن پاکستان میں بے چینی اور بدامنی کو بڑھاوا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مایوسی، ناکامی کا شکار اور شکست خوردہ دہشت گرد ہمارے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم ملک کے امن و امان کو خراب کرنے کے شیطانی مقصد میں دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ڈی ایس پی حاجی امان اللہ کے بیٹے کو بھی ایک ماہ قبل فائرنگ کرکے قتل کردیاگیاتھا ۔واضح رہے کہ 3 روز قبل کوئٹہ کے میکانگی روڈ پر بھی دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور دیگر 14 زخمی ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق دھماکا کوئٹہ کے لیاقت بازار کے قریب میکانگی روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہوا۔سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں دو لاشیں اور سیکیورٹی فورسز کے 2 اہلکاروں سمیت 14 زخمیوں کو لایا گیا جنہیں ٹراما سینٹر میں داخل کرادیا گیا ہے۔قبل ازیں 15 نومبر 2019 کو کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔

ادھرترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ دھماکہ ڈی ایس پی حاجی امان اللہ کو ہی ٹارگٹ کرنے کےلئے کیا گیا کیونکہ وہ پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ تعینات تھے ،ان کا گھر اسی علاقے میں موجود ہے جس کی وجہ سے وہ دھماکے کی زد میں آگئے ، اس علاقے میں زیادہ تر افغان مہاجرین رہتے ہیں ،دھماکے کا سبب جاننے کےلئے سیکیورٹی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کوئٹہ سیٹلائٹ ٹاﺅن دھماکے کی مذمت کی زخمیوں کی صحت یابی کے دعا کی اورکہا کہ قوم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دشمن ملک میں عدم واستحکام پیدا کرنےکی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان جمام کمال نے بھی دھماکے کی مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ، انہوں نے واقعے کی تحقیقات رپورٹ ڈی آئی جی سے طلب کرلیں اور بلوچستان کی سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کردیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہیں۔ صدر ، وزیراعظم ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ، سپیکر وڈپٹی سپیکر اور دیگر نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے ۔


ای پیپر