ایران امریکہ کشیدگی ،افغان طالبان کا پہلا ردعمل
10 جنوری 2020 (17:18) 2020-01-10

نیویارک: طالبان نے کہا ہے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی عسکری کشیدگی سے ان کے اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات متاثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔

امریکی خبررساں ادارے وائس آف امریکا نے رپورٹ کیا کہ طالبان کا یہ بیان اس واقعے کے بعد پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں شدت آگئی تھی۔واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک فضائی حملے میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی سمیت دیگر افراد کو ہلاک کردیا تھا، جس کے بعد ایران نے امریکا سے بدلہ لیتے ہوئے عراق میں امریکی و اتحادی فورسز کے زیراثر 2 فوجی اڈوں پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

ایران نے اس حملے میں 80 امریکیوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا جبکہ امریکا نے اس دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام امریکی محفوظ ہیں۔اس واقعے کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی پر یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں اس کا اثر امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے اس مذاکرات پر نہیں پڑے جوافغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے ہورہے ہیں۔تاہم اب اس پر طالبان نے باضابطہ بیان دیا ہے اور ان کی مذاکراتی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے سہیل شاہین نے کہا کہ امریکا کے ساتھ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے بات چیت کے بعد دونوں فریقین 18 سالہ افغان(تنازع)کے بعد امن معاہدے پر دستخط کے قریب پہنچے ہیں۔


ای پیپر