ڈاکٹر اجمل نیازی.... کی علالت
10 جنوری 2020 2020-01-10

پے درپے مصروفیات کے سبب بعض اوقات کسی دوست کی علالت کا سن کر، بروقت مزاج پرسی پر بھی نہیں جایا جا سکتا ہے، کچھ یہی حال ہوا اس شہر میں اپنے محسن ڈاکٹر اجمل نیازی کی عیادت کے سلسلے میں بھی.... اپنے بڑے بھائی کی وفات اور ایک اور خاندانی مصروفیات کے سبب بروقت اجمل نیازی کو دیکھنے نہ جا سکا، اگلے روز شعبہ اردو کے رفیقان ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم اور ڈاکٹر شاہد اشرف کے ہمراہ ہم نے نامور کالم نگار شاعر اور درویش صفت انسان ڈاکٹر اجمل نیازی کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کے ساتھ رہے، ان کی آواز مدھم ہو چکی ہے پتہ چلا سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت کے سبب یہ سب کچھ ہوا، اب وہ ڈیفنس کے ایک غیرسرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر سے علاج کرا رہے ہیں۔

اجمل نیازی کے چہرے پر وہی شادابی ہے انہیںشوگر بھی ہے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں مگر اپنی قوت ارادی کے سبب ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہیں انہیں اگر کچھ ملال ہے تو اپنے احباب سے ہے جنہوںنے پلٹ کر ان کی خبر نہ لی۔ نوائے وقت جیسے اخبار میں ایک عمر سے کالم لکھ رہے ہیں بہت سے دوستوں کو اپنے کالم میں پروجیکشن دیتے ہیں مگر ادبی صحافتی حلقوں سے بھی بہت کم دوستوں نے ان کی مزاج پرسی کی .... وہ اس حالت میں بھی اپنے احباب کو یاد کرتے ہیں شاعر ادیب کے لئے ادبی محفلیں آکسیجن کا درجہ رکھتی ہیں جب کوئی تخلقیق کار صاحب فراش ہوکر اپنے گھر کے کمرے تک محدود ہوجاتا ہے تو اسے وہ سارے دوست بھی یاد آتے ہیں ادبی محفلیں بھی.... ایسے میں اگر ہم اہل قلم اس علیل ادیب شاعر کا حال تک نہ پوچھیں تو بیمار کے لئے یہ سب کچھ ایک صدمہ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر انور سجاد، افتخار مجاز، سلیم کاشر اور کئی دیگر اہل قلم ایسی تنہائی کے کرب سے دوچار رہے مگر اس مصروف زندگی میں اب ہم قلم بھی غمی و خوشی کے لئے فیس بک اور وٹس اپ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، ٹریفک اور فاصلوں نے بھی لکھاریوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے اب خیر خبر کے لئے سوشل میڈیا ہی واحد سہارا ہے اور جو لوگ سوشل میڈیا پر نہیں ہیں وہ زندگی کی سکرین پر بھی کم دکھائی دیتے ہیں، یہاں تو ہر صبح اٹھ کر آواز لگانی پڑتی ہے کہ ”میں ابھی زندہ ہوں“ یہ حاضری بھی شاید وقت کی ضرورت ہے، ڈاکٹر اجمل نیازی نے اہم اخبار میں کالم لکھ کر بھی ایسی پی آر نہیں بنائی کہ وہ حکمران، وزیروں مشیروں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے درمیان دکھائی دیتے، خیر یہ تو اپنے اپنے مزاج کی بات ہے بعض معمولی درجے کے لکھاری (کالم نگار) بھی محدود سرکولیشن کے اخبار میں کالم لکھ کر حکمرانوں اور سرکاری افسران کی کاسہ لیسی کرتے ہیں اور ”موج میلہ“ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے اپنا اثرورسوخ بنائے پھرتے ہیں، اجمل نیازی ایک اہم کالم نگار ہیں مگر انہوں نے اس سے شاید ہی کوئی فائدہ اٹھایا ہو، اصل میں وہ ایک تخلیقی شخصیت کے مالک ہیں اور تخلیقی انسان میں ایک خودداری اور مثبت انا بھی ہوتی ہے وہ ”میں میں“ بہت کم کرتے ہیں انہیں حکمرانوں کی چائے پانی اور ان کے ساتھ تصاویر کا کوئی شوق بھی نہیں ہوتا، ورنہ وہ بھی ہمارے بعض احباب کی طرح ہر حکومت کے بااثر افراد کی ناک کا بال ہوتے، اجمل نیازی نے منیر نیازی کو ہمیشہ اپنے قبیلے کا سردار کہا، اور لکھا اور منیر نیازی جیسے تخلیق کار کی خوشامد بھی جائز ہے۔ ہم میں سب کون نہیں جانتا کہ قلم گروی رکھ کر یہاں کیسے دنیا کمائی جاتی ہے ادیب شاعر تو سماج کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس کا مزاج عوامی ہوتا ہے ایک سچا کھرا تخلیق کار ہمیشہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرتا ہے۔ اجمل نیازی انہی میں سے ایک ہے، وہ بارش اور پرندوں کے خوابوں جیسا شخص ہے۔

بیمار ہونے سے قبل اکثر فون پر اس کی آواز سننے کو ملتی ”یار اختر شمار اب شہر میں کوئی سرگرمی نہیں بندہ کہاں جائے، کبھی کبھی اچانک وہ کالج میں میرے دفتر آ جاتا اور ہم پہروں باتیں کرتے۔

ایک بار اس نے کہا ”اختر شمار پھولوں کو پھپھوندی لگنے لگے اور تتلیاں خودکشی پر آمادہ نظر آئیں تو سمجھنا زوال کا عروج آ گیا ہے اس وقت شاعری فریاد کرے گی اور کتابوں میں بچھو اور کاکروچ رینگنے لگیں گے“ اس بات سے میں کافی دیر تک اداس رہا۔

عزیز قارئین ! آج محافل میں خمار آلود اور شاعرانہ گفتگو کرنے والے کی آواز مدہم ہو گئی ہے۔ اجمل نیازی خود کو پٹھان کہتا ہے مگر وہ اندر سے ”پاکستانی لگتا ہے، اس نے عمران خان کے لئے بھی کئی کالم لکھے وہ عمران خان کی دھرتی کا سپوت ہے مگر عمران خان خوشامدیوں اور الجھنوں میں گھرے ہوئے ہیں انہیں تو شاید کسی نے بتایا بھی نہ ہو کہ اس کے دیس کی مٹی کا بنا ہوا ”محبت کا پیکر“ علالت کی چادر اوڑھے لاہور کے دل میں ایک کونے میں پڑا ہے، اسے بزدار کے گلدستے کی ضرورت نہیں اسے محبت کے دست شفقت کی ضرورت ہے، جو اہل قلم کے لئے بنائے جانے والے ادارے اکادمی ادبیات پاکستان کے پاس نہیں ہے۔ وہ اپنا مہنگا علاج خود کر رہا ہے مگر اس کی خودداری نے اسے چپ لگا دی ہے۔ لاہور کی زندہ شاموں میں قہقہہ لگانے والا جب ہر طرف بے حسی افراتفری اور منافقت دیکھتا ہے تو وہ ہونٹ سی لیتا ہے، وہ سرگوشیوں میں بات کرتا ہے مگر صرف اپنے دوستوں سے اسے زمانے کی ناقدری کا گلہ نہیں، وہ لاہور کے پرانے دوستوں عطاءالحق قاسمی، امجد اسلام امجد کو یاد کرتا ہے، سعید آسی جو اس کے اخبار کا ساتھی ہے اس کی ناالتفاتی پر بھی انگشت بدنداں ہے، یار لوگ اسے اس کی مروت سے لوٹتے رہے ہیں اس کا نام استعمال کر کے مفادات حاصل کرتے رہے ہیں مگر جانتے بوجھتے بھی یہ یہ معصوم شخص چپ چاپ دھوکہ کھاتا رہا ہے۔ لوگ دوستوں کو بانس کی سیڑھی بنا کر آگے نکل گئے مگر اس نے بانس سے بانسری بنا لی اور اپنی دھن میں محبت کے گن گاتا رہا ہے۔

دوستو! بھلے آج محبت کی کرنسی کی وقعت نہ ہو مگر وہ زندہ دل لاہور کی آخری چند نشانیوں میں سے ایک ہے آﺅ اس کی صحت یاب ہونے کی دعا کریں۔


ای پیپر