ماموں ،بھانجا اور آئی جی پنجاب کا کارنامہ !
10 جنوری 2020 2020-01-10

شاباش !انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس شاباش ۔آپ نے لاہور کے ایک شہری شیر شاہ خان کے گھر ہونے والی واردات کو جتنی سرعت سے ٹریس کیا یا کرایا ہے یقینا یہ کسی معرکہ سے کم نہیں ۔شیر شاہ خان اگرچہ وزیر اعظم کا بھانجا ہے تو کیا ہوا ،یقینا آپکی کاوش اس لئے تو نہیں ہوگی ناں ۔۔۔آپ نے تو اپنا فرض پورا کیا لیکن سوال یہ ہے کہ باقی وارداتوں کا جس کا نہ صرف روزانہ کرائم گراف بڑھتا ہی جا رہا ہے بلکہ ان وارداتوں کی مالیت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،ان کا کیا بنا ۔

وزیر اعظم صاحب تو کہتے ہیں کہ پہلے نہیں اب بڑے بڑے بدمعاشوں اور ڈاکوﺅں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ۔وزیر اعظم کا کسی آئی جی کی بھرے مجمع میں بار بار تعریف کرنا یقینا اسکی کارکردگی سے متاثر دکھائی دینا ہے ۔پہلے فیصل آباد ،پھر میانوالی میں آپکے چرچے اور اب وزیر اعظم عمران خان کا تازہ ترین ٹویٹ کہ پنجاب پولیس مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ کہ زیر وٹالرنس پالیسی سے پولیس کا نیا کلچر سامنے آیا ہے اور محکمہ سے متعلق ایک مثبت تاثر ابھرا ہے ،جس کے جواب میں شعیب دستگیر آئی جی پنجاب نے کہا ، شکریہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب! آپ نے جس طرح پنجاب پولیس کی حوصلہ افزائی کی ہے اس سے پوری پولیس فورس کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ پنجاب پولیس عوام کا دل جیتنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی جدوجہد کا یہ سفر پہلے سے زیادہ جذبے اور نیک نیتی سے جاری رکھے گی۔

جہاں وزیر اعظم نے آپ کو مبارکباد کا مستحق قرار دیا ہے وہاں اور بھی بہت سے ایسے ” ماموں “ ہونگے جن کے بھانجوں کی وارداتیں ٹریس ہو چکی ہونگی ۔لیکن وہ متاثرہ شہری آپکو کیا ”ہدیہ تعریف“پیش کریں جو لوٹے گئے اور انکے مجرم تاحال پکڑے نہیں گئے اور جنکی تعداد سراغ لگائی جانے والی وارداتوں سے کہیں زیادہ ہے ۔لاہور ہی میں سال نو کے آغاز میں ہی دو درجن سے زائد گھروں میں ڈاکوﺅں نے گھس کر اسلحہ کے زور پر اہلخانہ کو یر غمال بنا کر کروڑوں کا مال لوٹا ہے ، اور دوسری طرف گلی ،محلوں اور شاہراﺅں پر موٹر سائیکل سوار ڈاکوﺅں اور چوروں نے دو سو زائد وارداتیں کیں جبکہ پنجاب بھر میں ایک ہزار کے قریب چوری ،ڈکیتی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں ،ان وارداتوں میں ملوث خطرناک ملزمان آپکی گرفت میں کیوں نہیں آ رہے ۔عموما ہوتا ایسا بھی آیا ہے کہ کارکردگی اچھی دکھانے کے لئے جھوٹے گینگ بھی بنائے جاتے رہے ، اور یہ نہ ہو کہ سال نو کے آغاز میں اب تک ہونے والی وارداتوں میں ملوث ملزموں کو جھوٹے گینگ بنا کر شہریوں کو انصاف دینے کا دعویٰ نہ کر دیجئے گا ۔

شاید کوئی ایسا بھانجا نہیں ہو گا جس کا ماموں آپکی تعریف اس انداز سے کرے کہ پولیس فورس اور اس کے مقتدر حلقوں کی حوصلہ افزائی ہو ۔وزیر اعظم عمران خان کھلے دل کے مالک ہیں ،کارکردگی کو سراہتے ہیں اور ناکارہ پن پر پردہ ڈالتے ہیں ۔مصلحت کیا ہوسکتی ہے اسکا اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا تاہم فہم ادراک میں یہی بات آتی ہے کہ نیکی کو پھیلاﺅ، گناہوں پر پردہ ڈالو ۔ہم تو یہی کہیں گے اگر شاباش سے حوصلے اور کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے تو روزانہ شاباش ملنی چاہیے ،اس سے پولیس فورس کا حوصلہ بھی بلند ہو گا اور متاثرہ بھانجوں کے نقصانات کا فوری ازالہ ہوتا رہے گا ۔

لیکن پولیس فورس کو عام شہریوں سے شاباش لینے کا بھی خواہشمند بنایا جائے ایسے شہریوں کا جن کے پاس ” ماموں“ہیں نہ انہیں” ماموں“بنانے کے طریقے آتے ہیں ۔ آئی جی صاحب کوشش جا ری رکھیے ۔۔۔مافیا ،ڈاکوﺅں اور لٹیروں سے ٹکراتے رہیے ،یقینا ایک دن آئیگا جب لاہور کیا پورے پنجاب کی گلیاں ریاست مدینہ کی گلیوں کی مانند ان وارداتوں سے پاک ہو جائیں گی اور شہری خود کو محفوظ سمجھنے لگیں گے ۔ویسے اصل تعریف تو تب ہو گی جب یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا ۔فی الحال ان کا سوچئے جو لٹ گئے اور ان مال واپس نہیں آیا اور نہ ہی کوئی پرسان حال ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کے میانوالی میں تھانہ کے افتتاح کی تقریب میں شعیب دستگیر کے بارے کہے گئے سنہری الفاظ ”شعیب دستگیر میں آپکو مبارکباد دیتا ہوں میں نے دیکھا کہ جو بڑے بڑے ڈاکو اور قاتل تھے انھیں پکڑنا شروع کیا ہے ، پنجاب کے ہر ضلع میں یہ رسہ گیر اور جرائم پیشہ افراد جو مختلف علاقوں میں بیٹھے ہوتے ہیں اس سے سیاسی جماعت کے ارکان دوستیاں کر لیتے تھے اور پیسے اکٹھے کرتے تھے، ہمارے کئی سیاسی دوست ان سے دوستیاں کر لیتے تھے ،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دو تین مہینوں میں کوئی ڈاکو اور قاتل پنجاب میں نظر نہ آئے “۔ آئی جی پنجاب شعیب دستگیرصاحب ، وزیر اعظم عمران خان نے آپ سے پہلے جس آفیسر کی بھی تعریف کی ہے وہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکا ۔امید کرتے ہیں ہمارا مشاہدہ غلط ثابت ہو ۔یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔


ای پیپر