پاکستان کا دو جماعتی بحران
10 جنوری 2019 2019-01-10

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی انداز اور حکمت عملی کبھی کبھی پاکستان کی سیاست سے ملتی جلتی ہے جن کے ایسے ایسے کام اور رویے سامنے آ رہے ہیں جس سے دو جماعتی نظام تیزی سے محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکہ کے دو جماعتی نظام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں ایک جماعت اقتدار میں آتی ہے تو دوسری کو انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ رائج طریق کار کے مطابق ہی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا یہاں کے سیاسی نظام کا حصہ ہے۔ اس کے لیے امریکہ کا ایوان زیریں اور سینیٹ موجود ہے جہاں وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں نئے نئے تماشے سامنے آ رہے ہیں۔ 72 سالوں سے تجربے ہو رہے ہیں۔ اپنی نالائقی اور نا اہلی کا ملبہ کبھی سوئی گیس کمپنیوں پر ڈالا جاتا ہے اور کبھی اعظم سواتی کے جبر کے ساتھ وزیراعظم سمیت پوری کابینہ کھڑی ہو جاتی ہے کہ ایک آئی جی کی کیا جرأت کہ اس نے کپتان کی فون کال کیوں نہیں سنی۔ جب پاکستان کے چیف جسٹس اہل لاہور کے لیے شہبا زشریف کے تحفے ’’اورنج ٹرین‘‘ کی تعریف کریں تو پی ٹی آئی کی قیادت جل بھن جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس ٹرین سے شہریوں کو کتنی سہولت ملے گی اور ٹریفک کا لوڈ کس حد تک کم ہو جائے گا اس کا کسی کو اندازہ تک نہیں ہے۔ شگوفہ تویہ ہے کہ ریاست مدینہ کے دعویدار جن کے بارے میں سراج الحق امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ چار ماہ میں ایک قدم بھی ریاست مدینہ کی طرف نہیں اٹھایا گیا۔ لگتا ہے کوئی سمت ہی نہیں ہے نشان منزل کیسے ملے گا۔ نقش قدم تو ہٹلر کی منزل کی جانب ہے۔ بھٹو کے انجام سے بھی کچھ نہیں سیکھا گیا۔ پھر بھی بھٹو دور کی ایک اور فیڈرل سکیورٹی فورس بنانے کی تیاریاں ہیں بظاہر تو یہ کہا گیا ہے کہ یہ فورسز جلسے جلوس روکنے کے اور امن قائم کرنے کے لیے بنے گی مگر جب منزل ہٹلر ہو تو یہ فورس امن نہیں بلکہ ہٹلر کی اصل طاقت سمجھی جانی والی فورس ’’گسٹاپو‘‘ بنے گی جس نے ہٹلر کے سیاسی دشمنوں کو ایسا سبق سیکھایا کہ سفاکیت قائم کر دی۔ اس نے ہٹلر کے دشمنوں کو جو سانس لیتے اور زندہ تھے ان کو بتوں میں تبدیل کر دیا۔ بھٹو بھی گسٹاپو کا دلدادہ تھا دشمنوں کو چھوڑیے انہوں نے اپنے جنرل سیکرٹری جے اے رحیم کے خلاف اس لیے ایکشن لیا کہ اس نے بھٹو کے ایک تقریب میں دیر سے آنے پر تنقیدی جملے ادا کرنے کی غلطی کی تھی اور وزیر اعظم کے لیٹ آنے پر واک آؤٹ کر کے چلے گئے تھے۔ بھٹو کی گسٹاپو ہی تھی جس نے اگلے

روز جے اے رحیم کو زمین پر لٹا کر اس بڈھے کی ایسی ٹھکائی کی وہ پھر بھٹو کی مخالفت نہ کر سکے۔ جے اے رحیم بنگالی تھا۔ بیوروکریٹ اور سفارتکار تھا۔ بھٹو سے نظریاتی بنیادوں پر ملا تھا۔ جس کا والد برسٹر رحیم اس وقت سے ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کا ممبر بنتا آیا تھا جب مسلمان پارلیمانی سیاست میں کم نظر آتا تھا۔ اس کا برادر نسبتی حسین سہروردی تھا جس کا خاندان پیروں کا خاندان تھا جس کے خاندان میں جج اور وکیل تھے اور وہ پاکستان کا وزیراعظم بھی بنا تھا سہروردی کے ساتھ بھی ایوب خان کی ’’گسٹاپو‘‘ نے ایسا ہی سلوک کیا تھا۔ زندان میں ڈالا مگر مارشل لاء میں گسٹاپو کا مقابلہ کرنے والا سہروردی ایک دن بیروت کے ہوٹل میں مردہ پایا گیا۔ جب بھٹو نے اپنی بنائی ہوئی گسٹاپو کو مسعود محمود کا انجن لگایا تو اس نے سیاسی جلوسوں کو برباد کرنے اور بھٹو کے مخالفوں کو عبرت کا نشان بنانے سے گریز نہیں کیا۔ پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی لیاقت جتوئی کے والد عبدالحمید جتوئی سے اختلاف ہوا تو ان کے خلاف عورت کو اغوا ، لاڑکانہ میں اندھے قتل اور بکری چوری کے مقدمات بن گئے۔ دائیں بازو کو یہ بات کھٹکتی تھی کہ غریبوں کی پارٹی پر تو جاگیردار آ گئے ہیں۔ مختار رانا کو جیل بھیجا۔ کبھی بھٹو معراج محمد خان کو اپنا جانشین کہتے پھر وہ بھٹو کی گسٹاپو کے حوالے ہوئے۔ خورشید حسن میر بھی اسی قطار میں آ گئے۔ غلا مصطفی کھر نے اپنے لیے شیر پنجاب کا نعرہ پسند کیا تو بھٹو کی گسٹاپو نے نہ صرف دلائی کیمپ کھول دیا بلکہ احمد رضا قصوری پر چار حملے کیے مگر خوش قسمتی سے احمد رضا قصوری تو آخری حملے میں خود تو بچ گئے مگر اس کا باپ اس میں مارا گیا۔ مقدمہ بھٹو کے خلاف بنا۔ اس کے باوجود احمد رضا قصوری اتنا خوف زدہ ہوا کہ وہ پھر پی پی پی میں دوبارہ چلا گیا۔ بھٹو کے ساتھ جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا المیہ باب ہے۔ کپتان کو ایسی فورس بنانے سے پہلے خبردار ہونا پڑے گا۔ نئے پاکستان کے امیر المومنین ایسے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس نے سرکاری خزانے کے لاکھوں روپے اڑا دیئے۔ ان سے کوئی یہ نہ پوچھے بھائی یہ کیوں کیا؟ جواب چاہیے؟ نیب کے ادارے کو کپتان کے نورتنوں میں سے ایک جسے زرداری ’’پھٹا ڈھول‘‘ کہتا ہے کا کہنا ہے ’’وزیراعظم سے ہیلی کاپٹر کے غلط استعمال پر جواب طلب کرنا‘‘۔ وزیراعظم کی توہین ہے۔ وزیراعظم پر دنیا اس لیے ہنس رہی ہے کہ ایٹمی ملک کے چیف ایگزیکٹو جس ملک کا دورہ کرتے ہیں کشکول دراز کرے دیتے ہیں۔ بات تو ٹرمپ کی ہو رہی تھی۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ ہم امریکی ان کو تنا سیریس نہیں لیتے آپ کو کیوں لے رہے ہیں؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ میکسیکو کے گرد دیوار بنانے کے مسئلہ تو اپنی انا کا مسئلہ بنا چکے ہیں۔ امریکی عدلیہ جناب صدر کو اس کام سے منع کر چکی ہے چند ہفتے پہلے امریکی جج اور ٹرمپ کا جو مکالمہ ہوا وہ خاصہ دلچسپ تھا۔ ٹرمپ کی مخالف جماعت جو ایوان زیریں کی مڈ ٹرم انتخابات میں بڑی جماعت بن چکی ہے، وہ ٹرمپ کو دیوار کے لیے فنڈز دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ نے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا اعلان کر رکھا ہے جس سے امریکہ میں ایک بحران پیدا ہو گیا لاکھوں وفاقی امریکی ملازمین ٹرمپ کے شٹ ڈاؤن کا نشانہ بنے ہیں ٹرمپ نے تازہ دھمکی دی ہے وہ قومی ایمرجنسی لگا سکتے ہیں۔ اب انہوں نے کپتان کی طرح کنٹینر پر چڑھنے کی دھمکی دی ہے نوا ز شریف حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے جس حربے کی دھمکی دی ہے اس میں وہ ری پبلیکن کی احتجاجی ریلی نکالنے اور اس کی قیادت کرنے کا اقدام ہے۔ اب پاکستان کا احتجاجی ’’نظریہ نیازی‘‘ امریکہ تک بھی پہنچ گیا ہے۔


ای پیپر