شکریہ عثمان کاکڑ صاحب !
10 جنوری 2019 2019-01-10

تھر کے لوگ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ تھر کے کولئے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے زمین ان کے پیروں تلے نکالی جارہی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ کی پسماندہ علاقوں سے متعلق کمیٹی نے اس قحط زدہ صحرا کا دورہ کرنے کے بعد وہی بات کہی ہے جو تھر کے لوگ گزشتہ ایک دہائی سے کہہ رہے ہیں۔ سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ ثقافت اور معاشرتی لحاظ سے مثالی خطہ خستہ حالی کی بدترین تصویر بنا ہوا ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ترقی کے سفر میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی بھی یہ بات کہتی رہی ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر سنہری خواب دکھا کر پسماندہ علاقے کے غریب لوگوں کو بے زمین اور بے گھر کر رہی ہے۔ حکومت سندھ کے عہدیداران یا تو اس بات سے ناواقف ہیں یا گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں۔ مجلس قائمہ کے چیئرمین نے درست فرمایا کہ وسائل کے باوجودلوگوں ترقی کے سفر میں تھر پسماندہ رہا۔ کوئلے مالک تھر باسی بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا؟ کاکڑ صاحب نے بہت ہی اہم مسئلے کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ۔ تھر کی ترقی کے سفر کی کہانی دردناک ہے۔تقریبا 22 ہزار مربع کلو میٹر پر پہلے ہوئے اس علاقے میں 80 کے عشرے میں پہلی پکی سڑک بنی تھی۔ باقی سڑکیں گزشتہ بیس سال میں ہی بنی ہیں۔ مزید یہ کہ 90 کے عشرے تک قحط ہو یا عام حالات بیراج علاقے سے تھر کی طرف گندم لے جانے پر پابندی رہی۔ لوگ اتنی ہی گندم لے جاسکتے تھے جتنے اپنے سر پر اٹھا کر لے جاسکتے تھے۔ یہ رہی ہے بیسویں اور اکیسویں صدی کے تھر کی تصویر۔آج بھی 16 لاکھ آبادی کے لئے صرف دو کالج ہیں۔ کوئی میڈیکل یا انجنیئرنگ کالج نہیں۔ صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی یا کوئی کیمپس موجود ہے۔ بعض اضلاع اور شہروں میں دو دو تین تین یونیورسٹیاں ہیں۔ تھر ضلع میں کسی یونیورسٹی کا کوئی کیمپس بھی نہیں۔تھر کا سب سے بڑا سرمایہ افرادی قوت ہے۔ اس کی ترقی کے لئے تاحال کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ برسہا برس تک غربت، قحط سالی کا شکار لوگ بھوک اور غذائیت کی کمی میں مبتلا اور طبی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ڈاکٹروں کی اسامیان پر کی گئی ہیں۔

مجلس قائمہ کے چیئرمین کہتے ہیں کہ کوئلے کی رائلٹی کا ایک فیصد بھی تھر پر خرچ ہو تو یہ پسماندہ علاقہ ترقی کر سکتا ہے۔کمپنی نے رائلٹی اور کاپوریٹ سوشل ریسپانسنلٹی کا فنڈز استعمال کرنے کے الگ ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔تھر کے لوگ تاحال لاعلم ہیں کہ حکومت سندھ اور کول کمپنی کے درمیان پارٹنر شپ کی شارئط کیا ہیں؟ حکومت سندھ نے کوئلہ کی قیمت فروخت کیا مقرر کی ہے؟

دنیا بھر میں کاپوریٹ سیکٹر کا مخصوص طریقہ واردات ہے۔یہی طریقہ تھر میں بھی استعمال کیا گیا۔ چند بڑے نام، حکومت کی پشت پناہی، سنہری خواب اور ان مثالی پبلسٹی کی گئی نتیجے میں اچھے بھلے دانشور بھی اس میں بہہ گئے۔ دنیا بھر میں تھر کی طرح جاں کہیں بھی کوئلہ کا کروبار نجی شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے کیا گیا ، حاصلات میں مقامی لوگوں کا کوئی حصہ ہی نہیں نکلا۔ کمپنی چاہتی ہے کہ پورا کو ایریا اس کے نام کھاتہ لکھ کر دیا جائے۔ جہاں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح سفید و سیاہ کی مالک ہو۔ اس کے بعد لوگ ملازمت اور روزگار سے لیکر، رہن سہن کے طریقے تک، ٹرانسپورٹ، سڑک، پینے کے پانی، صحت اور تعلیم سے لیکر مجموعی سماجی خواہ معاشی ترقی تک، یہاں تک کہ ذاتی حفاظت اور امن و امان تک لوگ کمپنی کی طرف دیکھیں۔ حکومت اس تمام قصہ میں خود کوبری الذمہ کردے۔ تھر میں ہو یہ رہا ہے کہ حکومت ہی کچھ کر رہی ہے جو کمپنی چاہتی ہے، اور کمپنی وہی چاہتی ہے اور کہتی جس میں اس کے مفادات ہیں۔زمین حاصل کرنے کا معاملہ ہو ، کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کی نکاسی یا اس کو جمع کرنے کا معاملہ ہو، (جیسا کہ گوڑانو کا مسئلہ ہے) حکومت کسی طور پر بھی ایک فریق کے طور پر نظر نہیں آتی۔ حد تو یہ ہے کہ کمپنی کی حکمرانی مضبوط کرنے کے لئے سندھ حکومت کمپنی کی ایک ذیلی تنظیم کو بطور عطیہ دے رہی ہے۔یہ تنظیم بظاہر ایک فاؤنڈیشن ہے لیکن مکمل طور پر کمپنی کے ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔حالیہ قحط کی صورتحال میں حکومت لوگوں کو امداد کے لئے گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم بھی اس کمپنی کے ذیلی ادارے کے ذریعے کر رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سندھ حکومت پورے ضلع میں تمام غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ شکنی کررہی ہے۔یہاں تک کہ ان کا دائرہ کار بہت ہی محدود کردیا گیا ہے۔ نتیجے میں کول کمپنی کے ذیلی ادارے کو اس شعبے میں بھی اجارہ داری قائم کر کے دے رہی ہے۔بات لمبی ہو جائے گی لہٰذا ہم یہاں آر او پلانٹس وغیرہ کے قصے میں نہیں جانا چاہتے۔

کوئلے کی اس کہانی میں لوگوں کے مسائل مزید پیچیدہ اور تکالیف و مصائب میں اضافہ اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ نہ منتخب نمائندے اور حکومت اسٹیک ہولڈر نہیں بن رہی ہے۔لہٰذا پسماندہ علاقے کے سادہ لوگ کمپنی کے رحم کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ تھر سے حکمران جماعت پیپلزپارٹی ہی انتخابات جیتی ہے۔جب ان نمائندوں سے رجوع کیا جاتا ہے تو کہ کہتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔ ایک شٹ اپ کال پر خاموش ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ نمائندے لوگوں کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں۔

کوئلے کے اس منصوبے کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ کوئلہ نکالنے کے لئے اور نہ تھر کی مجموعی ترقی اور متاثرین کی بحالی کے لئے کوئی منصوبہ ہے۔ وقفے وقفے سے اعلانات کئے جاتے ہیں۔جن پر پورے طور پر عمل نہیں ہوتا۔ یا پھر وہ سب ایڈہاک قسم او رٹکڑوں میں کے ہوتے ہیں۔ کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہوتے۔اصل میں کوئلے اور لوگوں کی وارثی کرنے کا معاملہ سب سے اہم ہے۔حکومت سب سی بڑی فریق ہے۔اس کے پاس اختیار بھی ہیں۔ لیکن وہ اپنی اس پوزیشن س کے ساتھ سامنے نہیں آتی۔

اس سے قبل تھر کی پسماندگی، قحط، بچوں کی فوتگی اور کوئلے کے معاملات سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں ازخود نوٹس لینے خواہ د درخواستوں کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ عدالت یا حکومت نصف درجن کے قریب کمیٹیاں اور کمیشن بٹھا چکی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی وفاقی حکومت نے بھی نوٹس لیا، تین وزراء کی کمیٹی تھر پہنچی، بیانات دیئے، یقین دہانی کرائی۔ لیکن عملا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

سینیٹ کی مجلس قائمہ کے چیئرمین اوراراکین کا دورہ تھر یقیناًایک خوش آئندہ امر ہے۔ تھر کے لوگ کمیٹی کے چیئرمین محمد عثمان کاکڑ کے مشکور ہیں کہ وہ تھر آئے اور ایک حساس دل کے ساتھ مسائل کو دیکھا۔ ۔ یہ ضروری ہے کہ تھر کی پسماندگی کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس سے متعلق ایوان بالا کو آگاہ کرنے کے لئے تھر کے کیس کو صحیح پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے پسماندہ علاقہ جات سے گزارش ہوگی کہ وہ ماضی کی بعض اہم سفارشات اور رپورٹس کا جائزہ لے۔


ای پیپر