قرضوں کی معیشت
10 جنوری 2019 2019-01-10

عمران خان اور تحریک انصاف جب مسند اقتدر پر براجمان نہیں ہوئے تھے اور حزب مخالف کے سب سے بڑے راہنما سمجھے جاتے تھے تو انہیں پیپلز پارٹی اور بعد میں مسلم لیگ ن کی حکومت پر بہت غصہ آتا تھا اور وہ انہیں کھری کھری سناتے تھے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو اس بات پر بہت تشویش تھی کہ پاکستان ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ انہیں سابق وزرائے اعظم پر اس بات پر بھی غصہ آتا تھا کہ وہ غیر ملکی دوروں پر جہاں بھی جاتے ہیں وہاں سے قرضوں اور معاشی امداد کی بھیک مانگتے ہیں۔

اقتدار کی مسند پر بیٹھتے ہی سب کچھ اتنی جلدی کیوں تبدیل ہو جاتا ہے؟جو باتیں حزب مخالف میں بیٹھ کر زہر لگتی ہیں وہ حکومت میں آتے ہی اچھی کیوں لگنے لگتی ہیں۔ جب کوئی دوسری حکومت وہی کام کر رہی ہو تو نہ صرف اس کی نیت پر شک کیا جا تا ہے بلکہ اس کی مضمرات بھی واضح نظر آنے لگتے ہیں۔ اس وقت حکومت پر تنقید کرنے والا ہر اینکر ، صحافی، سیاستدان ، تجزیہ نگار اور رپورٹر اپنا اپنا لگتا ہے۔ مگر جیسے ہی نام کے ساتھ وزیر اعظم، وزیر یا مشیر لگتا ہے تو سب کچھ اچانک بدل جاتا ہے۔وزراء کو سوال کرنے والے رپورٹر اور صحافی برے اور زہر لگنے لگتے ہیں۔ جو اینکر یا تجزیہ نگار حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں تو وہ یکا یک لفافہ صحافی اور حزب مخالف کے زر خرید لگنے لگتے ہیں۔

اس وقت تحریک انصاف کی حکومت اسی قسم کی صورت حال سے دو چار ہے۔ جو عمران خان وزیر اعظم بننے سے پہلے قرضوں کے حصول پر تنقید کرتے تھے وہ اب قرض ملنے پر مبارکباد یں وصول کرتے ہیں اور قوم کو مبارکباد دیتے ہیں۔ عمران خان اس وقت وہی سب کچھ کرتے نظر آتے ہیں جو ان سے پہلے یوسف رضا گیلانی، نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کرتے تھے۔ یعنی قرض لے کر ملکی معیشت کو چلانے کا کام ۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت روزانہ 15 ارب روپے کا قرض حاصل کر رہی ہے۔ گزشتہ 5 ماہ میں وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 2240 ارب روپے یعنی 2.24 کھرب روپے کا مجموعی قرض لے چکی ہے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی قرضہ 26.5 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جبکہ غیر ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ غیر ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت ایک طرف دوست ممالک سے قرض حاصل کر رہی ہے۔ تو دوسری طرف کمرشل بینکوں سے بھی قرض حاصل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سٹیٹ بینک سے حاصل کیے گئے قرضوں کی شرح میں 87 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔جو کہ اب ریکارڈ 6.73 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

تحریک انصاف کی قیادت نے حزب مخالف ہوتے ہوئے تاثر تو یہ دیا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد نہ صرف نئے قرضے نہیں لے گی بلکہ پہلے سے حاصل شدہ قرضوں کو بھی واپس کرے گی۔ مگر سالہا سال کی تقریروں اور انتخابی وعدوں کے بر عکس روزانہ کی بنیاد پر قرض لیے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی در اصل اسی راستے کو چنا ہے۔ جس راستے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت چل رہی تھی یا اس سے پہلے کی حکومتیں چل رہی تھیں۔ یعنی حکومتی آمدن کو بڑھانے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے مشکل کام کی بجائے قرضوں کے ذریعے ملک کو چلایا جائے۔ تحریک انصاف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اصلاحات متعارف کروائے گی۔ قرضوں پر انحصار کو کم کرے گی اور ملکی وسائل کی بنیاد پر معیشت کو چلانے کی پالیسیاں اختیار کرے گی مگر اس کے بر عکس اس نے قرضے حاصل کرنے کا آسان راستہ چنا۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت وہی عذر اور دلائل پیش کر رہی ہے جو کہ اس سے پہلے کی حکومتیں بیان کرتی تھیں۔ یعنی ہم نئے قرض اس لیے لے رہے ہیں تاکہ پرانے قرضوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ہر آنے والی حکومت قرض میں اضافے کی ذمہ داری پچھلی حکومت پر ڈالتی رہی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے اور ادائیگیوں کے توازن کو بر قرار رکھنے کے لیے قرض لیے جا تے ہیں۔ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے اپنی سمجھ بوجھ اور دوسر پالیسیوں کے ذریعے معاشی بحران پر قابو پر کر ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کر دیا ہے۔ مگر جیسے ہی حکومت رخصت ہوتی ہے تو نئی آنے والی حکومت یہ شور مچا نا شروع کر دیتی ہے کہ خزانہ تو خالی ہے۔ پچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں نے ملکی معیشت کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ بلند شرح ترقی اچانک زمین بوس ہو جاتی ہے اور ڈبل ڈجٹ ( Double Digit ) گروتھ ایسے غائب ہو جاتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے سے اور کوئی فائدہ ہوا ہو یا نہیں البتہ یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ تحریک انصاف کو حزب مخالف میں بیٹھ کر تنقید کرنے اور حکومت چلانے میں فرق سمجھ آ گیا ہے۔ ان دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ وکٹ پر کھڑے ہو کر باؤلر کا سامنہ کرنے والے بیٹسمین اور ڈریسنگ روم میں بیٹھے بیٹسمین میں ہوتا ہے۔ڈریسنگ روم والے کھلاڑی کو لگتا ہے کہ وکٹ پر موجود کھلاڑی چوکے اور چھکے والی بالوں کو بھی روک رہا ہے۔ حالانکہ وہ ان گیندوں پر

چوکے اور چھکے لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ چوکے اور چھکے ڈریسنگ روم کی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر لگا رہا ہوتا ہے ۔

تحریک انصاف کی حکومت قرض لو اور خرچ کرو کی پرانی اور روایتی پالیسی پر گامزن ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی معاشی پالیسی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔تحریک انصاف کی حکومت بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ہر حکومت معاشی بحران کو بوجھ عوام پر منتقل کرتے ہوئے بار بار اسی فقرے کو دہراتی ہے کہ اس نے عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سب سے آسان فیصلہ ہوتا ہے۔ مشکل فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت حکمران طبقات اور اشرافیہ پر معاشی بحران کا بوجھ ڈالے۔ ان سے ٹیکس وصول کرے۔ وہ طبقہ امراء جو کہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اسے ٹیکس نیٹ میں لائے۔ ملکی آمدن میں اضافہ کرے۔ معاشی ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے غربت میں حقیقی کمی کے اقدامات کرے۔ جاگیرداری، قبائلی نظام اور غیر حاضر زمینداری قوتوں کو ترقی دے۔ صنعتی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بھی آسان راستہ چنا ہے اور مشکل فیصلے کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ نیت جتنی مرضی اچھی ہو اور تمام تر ایمانداری کے با وجود غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ مثبت نہیں ہو سکتا۔ نیو لبرل اذم کی کوکھ سے معاشی و سماجی انصاف،برابری اور مساوات تو جنم لینے سے رہی۔


ای پیپر