پی ٹی آئی حکومت کی بیڈ گورننس
10 جنوری 2019 2019-01-10

دسمبر کے جس روز ڈالر یک دم سے 138 روپے سے اڑ کر 147 روپے پہ جا پہنچا تھا تو وزیر عظم عمران خان نے جان چھڑانے کی غرض سے تمام تر ملبہ سٹیٹ بینک پہ یہ کہہ کر ڈال دیا تھا کہ یہ سب سٹیٹ بینک کاکیا دھرا ہے۔ سٹیٹ بینک نے میرے علم میں لائے بغیر قیمت بڑھادی ہے۔ مگر اعتماد کی کمی کا شکار وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بی بی سی کو انٹرویو میں عمر ا ن خا ن کے بیا ن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ وہ دراصل آئی ایم ایف کی لگائی ہوئی شرط کو پورا کرنے کا کریڈٹ لینا چاہ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے بجلی کی قیمت بڑھادی ہے، ساتھ ساتھ ڈالر کی قیمت بھی بڑھادی ہے۔ اس وقت نہ کسی نے عمران خان سے کچھ پوچھا نہ ہی اسد عمر سے کہ آپ میں سے سچ کون بول رہا ہے اور جھوٹ کون بول رہا ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ اس ملک میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے حوالے سے ان کی خوبیاں گنوانے والے ایک جید گردانے جانے والے صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو قدرت نے مردانہ حسن تھوک کے بھاؤ دیا ہے۔ یعنی یہاں عوام بھوک سے بلبلاتے رہیں مگر اس بات پہ نہال ہوجائیں کہ ان کا وزیر اعظم مردانہ وجاہت کا نمونہ ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان اس بارے کون سا کسی سے

پیچھے رہنے والے ہیں۔ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی اہلیت کو یہ کہہ کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ انتہائی ایماندار ہیں۔ گویا بندہ کام جاننے کے بارے میں خواہ کیسا ہی نکھٹو ہو، اس کا ایماندار ہونا کافی ہے۔ صوبہ کی ایڈمنسٹریشن کا عالم یہ ہوچکا ہے کہ تاجر حضرات اور دکاندار اپنی مرضی کی قیمتیں مانگ رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ کی دیکھا دیکھی دیگر وزراء کون سا پیچھے رہنے والے تھے۔ چنانچہ خود چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو خود کہنا پڑا حکومت نے 22 ارب روپیہ لگادیا، پھر گردہ و جگر ہسپتال پرائیویٹ لوگو ں کے پا س چلا گیا۔ تفصیل اس خبر کی کچھ یوں ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے میاں ثاقب نثار نے محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے پاکستان کڈنی اینڈ ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کی قانون سازی اور جگر کی پیوند کاری سے متعلق تسلی بخش جواب نہ ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کو علاج کی سہولیات دینے میں ناکام ہیں۔ لوگ آپ سے خود ہی پوچھ لیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے از خود نوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت ، محکمہ صحت اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پر سخت اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس صاحب نے قرار دیا کہ حکومت نے 22 ارب روپیہ لگادیا، پھر بھی ہسپتال پرائیویٹ لوگوں کو چلا گیا، یہ واپس آنا چاہیے۔ چیف جسٹس صاحب نے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے استفسار کیا کہ قانون سازی کے لیے پی کے ایل آئی سے متعلق قانون سازی کا کیا بنا؟ یاسمین راشد نے جواب دیا کہ قانون سازی کے لیے مسودہ محکمہ قانون کو بھجوادیا گیا ہے۔ تب چیف جسٹس صاحب نے اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی آپ کی جانب سے یہی کہا گیا تھا۔ آپ نہیں چاہتے کہ سپریم کورٹ حکومت پنجاب کی مدد کرے۔ پھر چیف جسٹس صاحب نے استفسار کیا کہ جگر کی پیوند کاری کے آپریشن کا کیا بنا؟ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جواب دیا چیف جسٹس

صاحب آپ فکر نہ کریں اس پر بھی کام ہورہا ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے اس پہ واضح کیا کہ بی بی یہ فکر آپ نے کرنی ہے۔ لیکن آپ کچھ نہیں کر رہی ہیں۔ ہر سماعت پر آپ اور پنجاب حکومت زبانی جمع خرچ کرکے چلے جاتے ہیں۔ اس کیس میں بھی آپ ہر سماعت پر بہانے بنا رہی ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ ہم یہ معاملہ ختم کردیتے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت سے معاملات نہیں چلائے جارہے۔ آپ کی کارکردگی صرف باتوں تک محدود ہے اور کچھ نہیں۔ آپ نے پہلا آپریشن کرنے کی حتمی تاریخ دینا تھی، لیکن آج بھی آپ گا، گے، گی کر رہی ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی کارکردگی پر اظہار مایوسی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کارکردگی یہ ہے کہ آپ سے آج تک ایک کمیشن تو بن نہیں سکا۔ پھر انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس کیس میں پنجاب حکومت کی نااہلی کو تحریری حکم کا حصہ بنارہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کو علاج کی سہولیات دینے میں ناکام ہیں۔ لوگ آپ سے خود پوچھ لیں گے۔سپریم کورٹ کو آپ سے توقعات تھیں، لیکن آپ نے شدید مایوس کیا۔ جس کا جو دل کرتا ہے کرے لیکن انسٹیٹیوٹ کو ضرور چلائے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ آپ کی کارکردگی یہ ہے کہ آپ نے ابھی تک پی کے ایل آئی ٹرسٹ ہی ختم نہیں کیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے جواب دیا کہ اس پر کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔ جس پر بینچ کے فاضل رکن جسٹس اظہار الحسن نے کہا کہ آپ پھر زبانی جمع خرچ کررہی ہیں۔ اس پہ ایک بار پھر چیف جسٹس صاحب نے ریمارکس دیئے کہ ان لوگوں نے پی کے ایل آئی ٹرسٹ سے مذموم عزائم رکھنے والے لوگوں کو نہیں نکالنا۔ مذموم عزائم والے افراد کو ساتھ لے کر چلنا ہی شاید پنجاب حکومت کی پالیسی ہے۔

یہاں اس خبر کویوں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اب تو اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر موصوفہ کا ایمان دار ہونا اور ایک گھریلو خاتون ہونا اپنی جگہ درست ہوگا، مگر صحت کے بگڑے ہوئے محکمہ کو درست کرنے کے لیے آہنی ہاتھوں والے کسی پرعزم شخص کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹر

موصوفہ میں یہ اوصاف کس حد پائے جاتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لیے چیف جسٹس صاحب کی مایوسی اس کا آئینہ دار ہے۔ اس خبر سے محکمہ صحت کی وزیر اور وزیر اعلیٰ سمیت پنجاب کے پورے وزراء کی کار کردگی ثبوت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

پھر اکیلے صوبہ پنجاب پہ ہی کیا موقوف پورے ملک کے ساتھ وفاقی سطح پر نااہلی کا کھیل جاری ہے۔ پچھلی حکومتوں کے قرضے حاصل کرنے کو عمران خان نے ہمیشہ کشکول اٹھائے رکھنے سے تعبیر کیا اور خود ان کی حکومت کی حالت یہ ہے کہ ان کی حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے چھ میں 2240 ارب روپے قرض لے کر قرض لینے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ان 2240 ارب قرض میں 13340 روپے غیر ملکی قرض ہے اور 906 ارب روپے ملکی قرض ہے۔ چونکہ آمدن اور اخراجات میں فرق بڑھنے کے باعث حکومت کا ملکی و غیر ملکی قرضوں پر انحصار بڑھا ہے، لہٰذا خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کا قرضوں پر انحصار مزید بڑھے گا۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دیوار پہ لکھے نااہلی کے اس امر کو ملک کی تقدیر سنوارنے کے نام پر بروئے کار لایا جارہا ہے۔


ای پیپر