اور مہلت مل گئی!
10 جنوری 2019 2019-01-10

سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ کا معاملہ مزید تفتیش کے لئے قومی احتساب بیورو(نیب ) کو بھیج دیاہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ دو مہینوں میں تحقیقات مکمل کرکے اصل حقائق معلوم کرے۔ممکن نہیں کہ نیب دو مہینوں میں تفتیش مکمل کرکے نامز د ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے۔لگ ایسے رہا ہے کہ رواں بر س یہ معاملہ چلتا ہی رہے گا۔نیب میں آصف علی زرداری آتے جاتے رہیں گے۔فریال تا لپور بھی چکر لگاتی رہے گی۔بلاول کی بھی پیشیاں ہو نگی۔مراد علی شاہ بھی مکمل عزت نفس اور سرکاری پروٹوکول کے ساتھ نیب میں پیش ہو نگے۔ملک ریاض کی بھی آنیاں جانیاں ہوں گی۔انور مجید اور حسین لوائی کا تڑکا بھی لگایا جائے گا۔پھر خبر آئے گی کہ آصف علی زرداری کے فرنٹ مین نیب میں پیش ہوئے۔کبھی کبھار دیگر ملزمان کو بھی بلاوا آئے گا۔روز نت نئے انکشافات ہو نگے۔پیپلزپارٹی کے خدائی خدمت گار (ترجمان)

فرحت اللہ بابر،میاں رضا ربانی ،شیری رحمان،قمر زمان کائرہ اور دیگر ہر پیشی کے بعد خوش خبر ی سنائیں گے کہ نیب نے کلین چیٹ دے دیا ہے۔مر کزی سرکار کے ترجمان فواد چوہدری ،شہزاد اکبر اور پنجاب سرکارکا زبان دراز فیاض الحسن چوہان مژدہ سنا ئیں گے کہ بس تھوڑی دیر اور صبر کریں نیب کے ہاتھ کر پٹ لوگوں کی جیبوں تک پہنچ گئے ہیں۔بس چند مہینوں کی بات ہے گھر بیٹھے اربوں روپے مل جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے معاملہ قومی احتساب بیورو(نیب) کو مزید تفتیش کے لئے بھیج کر وفاقی سرکار اور پیپلز پارٹی کو ایک اور امتحان کے سمندر میں ڈال دیا ہے۔حکومت کے لئے امتحان زیادہ سخت ہے ،اس لئے کہ جعلی اکاونٹس کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ مقدمہ کے بعد وفاقی وزراء جتنے بھی ہیں سب ایک ہی راگ الاپ رہے تھے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) رپورٹ کے بعد آصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپور، بیٹا بلاول زرداری اور سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کی گر فتار ی پکی ہے۔ معاملہ نیب بھیج کر پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو مزید مہلت مل گئی ہے۔بلاول زرداری اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے ہٹا ئے گئے ہیں ۔ اب دونوں ذاتی ،کاروباری اور دیگر مصرفیات کی وجہ سے ملک سے باہر بھی جا سکتے ہیں۔جب تک معاملہ نیب کے ہاں زیر تفتیش رہے گا،آصف علی زرداری اور بلاول زرداری ممکن ہے بیان بازی میں بھی محتاط ہو جائیں۔ امکان ہے کہ اب وہ پارلیمنٹ کے اندر عوامی مسائل پر بات بھی کریں گے۔موسم سرما میں بجلی کا بڑھتا ہوا بحران،گیس لو ڈشیڈنگ،مہنگائی اور کمزور معاشی صورت حال پر اب پارلیمنٹ میں دمادم مست قلندر ہو گا۔آصف زرداری کے سر سے گرفتاری کی تلوار کا ہٹ جانے سے زیادہ نقصان اپوزیشن جماعتوں کو ہوا ہے۔گز شتہ چند دنوں سے مو لانا فضل الرحمان پھر سے متحرک تھے۔ان کی کو شش تھی کہ کسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن ) میں ملاپ ہو جائے،لیکن دونوں جماعتیں عدالتی فیصلے کی منتظر تھیں۔اب چونکہ معاملہ نیب کو بھیج دیا گیا ہے اس لئے امکان نہیں کہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر مولانا فضل الرحمان یہ بیل منڈھے چڑھ سکے۔یوں سمجھ لے کہ سپریم کورٹ نے مو لانا فضل الرحمان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔دوسری طرف جماعت اسلامی نے بھی راستہ الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے مولانا فضل الرحمان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔لگ ایسے رہا ہے کہ رواں بر س سیاسی طور پر مولانا فضل الرحمان کے لئے زیادہ سازگار نہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماوں کے خلاف میگا کرپشن مقدمہ نیب بھیج کر سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔جب یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھاتو وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء کسی اور طرف توجہ دے نہیں رہے تھے۔ ان سے جو بھی سوال کیا جاتا تھا ۔جواب ان کا یہ ہوتاتھا کہ جناب ہم تو احتساب کر رہے ہیں۔مطلب ہم مصروف تھے۔جلد پیپلز پارٹی کی قیادت جیل میں ہو گی۔پھر ہم کسی اور طرف رخ کریں گے۔ لیکن اب عدالت نے ان کی یہ مشکل حل کردی ہے۔اب وفاقی حکومت بلوچستان کا رخ کر سکتی ہیں،جہاں گز شتہ کئی بر سوں سے میگا کرپشن کے مقدمات التوا میں ہیں۔خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کا بی آرٹی منصوبہ ابھی تک شہریوں کے لئے عذاب بنا ہو ا ہے۔سوات ایکسپریس وے کا منصوبہ تا حال ادھورا ہے۔پنجاب حکومت پر جس ناراضگی کا اظہار سپریم کورٹ نے کیا ہے اس کی طرف تو جہ دینا مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے۔سردیوں میں بھی بجلی کی ناروا لو ڈشیڈنگ جاری ہے۔گیس کا بحران ہے۔مہنگائی کا جن آئے روز بے قابو ہو رہا ہے۔ان تمام چیزوں سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو رہا ہے،جس کی وجہ سے تبدیلی کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔عام آدمی نئے پاکستان کی بجائے پرانے پاکستان میں جانے کی باتیں کر رہا ہے۔وہی پرانا پاکستان جس میں بقول وزیر اعظم عمران خان ،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) باریاں لے رہے تھے۔ وہی پرانا پاکستان جس میں عمران خان 22 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں صرف ایک ہی قومی اسمبلی کی سیٹ جیتا کر تے تھے۔وہی پرانا پاکستان جس میں عمران خان روز کنٹینر پر سوار ہو کر تقریریں کیا کرتے تھے۔ وہی پرانا پاکستان جس میں عمران خان کا بس صرف اس حد تک چلتا تھا کہ وہ صرف احتجاج کر سکتے تھے۔سول نافرمانی کے لئے لوگوں سے اپیل کرتے تھے۔بجلی اور گیس کے بل جلا یا کر تے تھے۔

جعلی اکاونٹس معاملہ نیب بھیج کر اگر ایک طرف پیپلز پارٹی کو عارضی طور پر مہلت مل گئی ہے تو دوسری طرف حکومت کو بھی کچھ کرنے کے لئے مہلت ملی ہے۔بیرونی ادائیگیوں کے لئے جس سرمایہ کی ضرورت تھی ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،قطر اور چین نے وہ ضرورت تقریبا پوری کر دی ہے۔لیکن یاد رہے کہ یہ بندوبست عارضی ہے۔حکومت کو اس وقت دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے ایک بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لئے ڈالرز کی ضرورت ہے تو دوسری طرف عام آدمی ریلیف کا منتظر ہے۔معاشی استحکام اور عوام کو سہو لیات فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے۔مگر افسوس کہ مو جودہ حکومت پہلے سے موجود ٹیکسوں میں اضافہ کررہی ہے لیکن نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جارہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔درآمدات بڑھانے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے،لیکن بظاہر نظر آرہا ہے کہ متعلقہ محکموں اور بیرونی ملک سفارتخانوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں۔جس کی وجہ سے درآمدات میں اضافے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔معاشی استحکام کے لئے ایک اہم ضرورت ملک میں سیاسی استحکام کا ہونا بھی ہے۔اب چونکہ پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا معاملہ نیب کے پاس ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کی مقدمات بھی نیب اور عدالتوں میں ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے تما م تر جمانوں کے منہ کو چند مہینوں کے لئے تالا لگا دیں۔خاص کر ان کو زیر سماعت مقدمات چاہے وہ نیب میں ہیں یا عدالتوں میں ان کے بارے میں رائے دینے سے گریز کا مشور ہ دے۔تحریک انصاف کے ترجمانوں کی بے تکی باتوں سے فضول میں اضطراب پیدا ہو رہا ہے،لہذا اس سے اجتناب کیا جائے اور تمام تر توجہ معاشی استحکام اور عوامی فلاح پر دینے کی ضرورت ہے۔رواں برس مہلت کا سال ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔بیان بازی میں اس کا ضائع کرنا ملک اور قوم کے ساتھ کرپشن سے بھی بڑی خیانت ہے۔


ای پیپر