دوعظیم ماﺅں کی رخصتی!
10 جنوری 2019 2019-01-10

دواورعظیم مائیں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ جِس طرح زندگی ایک بار مِلتی ہے موت بھی ایک بار ہی مِلتی ہے مگر جب کِسی کی ماں مرتی ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے میری ماں ایک بار پھر مرگئی ہے،مائیں سانجھی ہوتی ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں درویش قلم کار ڈاکٹر اجمل نیازی کی والدہ محترمہ تقریباً پچانوے برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔ لالے اجمل نیازی اور اُن کی عظیم بیگم رفعت بھابی نے اُن کی بہت خدمت کی ۔ اللہ اُن کی اولاد کو بھی توفیق دے وہ بھی اُن کی ایسی ہی خدمت کریں، میں اکثر یہ عرض کرتا ہوں جِس طرح اللہ کی بے شمار، ان گنت نعمتوں کا انسان جتنی چاہے کوشش کرے شُکرادا نہیں ہوسکتااِسی طرح والدین کی خِدمت کی بھی انسان جتنی چاہے کوشش کرلے حق ادا نہیں ہوسکتا۔ بس دال دلیہ ہوسکتا ہے جو میں نے بھی کیا اور لالے اجمل نیازی نے یقیناً مجھ سے زیادہ ہی کیا ہوگا۔ وہ بہت عرصے سے بیمار تھیں۔ بڑھاپا بذات خود ایک بیماری ہے، اِس بیماری سے نجات صِرف موت کی صورت میں ہی مِلتی ہے۔ بے شمار مشکلوں کا حل صرف موت ہے، شاید اِسی لیے شاعر نے کہا تھا ”موت سے تیرے دردمندوں کی .... مشکل آسان ہوگئی ہوگی“....کہتے ہیں جان نکلنے کی بڑی اذیت ہوتی ہے۔ نیک لوگوں کو شاید نہیں ہوتی ہوگی، مگر چند سیکنڈوں کی اِس اذیت کا بڑا انعام یہ مِلتا ہے اُس کے بعد انسان اپنے اُس اللہ کے پاس چلے جاتا ہے جو انسان سے ماں سے سترگنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ اگر کوئی ماں اپنی اولاد کی بڑی سے بڑی غلطی پر کوئی بڑی سزادینے کا تصور نہیں کرسکتی تو وہ اللہ کیسے کرسکتا ہے جو انسان سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے ؟۔ بے شک اللہ بہت رحیم کریم بڑا مہربان ہے، اُس کی ساری صفات صِرف اِس ایک جُملے میں بھی محسوس کی جاسکتی ہیں کہ وہ اپنے بندوں سے سترماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے، میں لالے اجمل نیازی کے دُکھ میں برابر کا شریک ہوں، وہ ابھی ماں کے صدمے سے باہر نہیں نکلے تھے اُن کے باپ جیسے بڑے بھائی پروفیسر اکبر نیازی وفات پا گئے، اجمل نیازی نے اُن کی وفات پر انتہائی خوبصورت کالم لکھ کر یہ ثابت کردیا بڑے بھائیوں کا درجہ اور مقام بعض اوقات باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے، ہماری دعا ہے اللہ اُنہیں صبر اور صحت سلامتی عطا فرمائے، ہم اُنہیں پڑھتے رہیں اور وہ لکھتے رہیں، اُن کا دم بڑی غنیمت ہے، جب ضمیر فروشی اور قلم فروشی کو ہرگز بُرا نہیں سمجھا جاتا اُنہوں نے ہمیشہ حق سچ ہی لِکھا،....پچھلے دِنوں میری اپنی ماں کی موت جیسا دوسرا صدمہ میرے لیے یہ تھا میرے انتہائی محترم اور قابلِ قدر بھائی جان، ملک کے ممتاز ترین آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کی والدہ محترمہ زکیہ عزیز بھی وفات پا گئیں، اُن کی عمر بھی شاید نوے برس کے لگ بھگ تثھی، مگر ماں کی عظمت اور حقیقت سمجھنے والوں کے لیے ماں چاہے دس ہزار برس کی ہی کیوں نہ وفات پا جائے اُن کے لیے اُس کا صدمہ بھی ایسے ہی ہوتا ہے جیسے اُن کی ماں اُن کے بچپن میں ہی وفات پا گئی ہو، اگلے روز میں سوشل میڈیا پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا ایک وڈیو کلپ دیکھ رہا تھا، وہ کِسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک واقعہ سنا رہی تھیں کہ ایک بار جب وہ میو ہسپتال میں تعینات تھیں تو ایک نوے پچانوے سالہ بوڑھی عورت کو چیک کرنے کے بعد وارڈ کے باہر کھڑے اُن کے بیٹوں جو خود بھی بوڑھے ہوچکے تھے سے اُنہوں نے کہا ”اماں جی کئی بیماریوں کا شکار ہیں۔ اُن کا علاج اب ڈاکٹروں کے بس کا روگ نہیں رہا، ہم اب کچھ نہیں کرسکتے ، آپ بس اُن کے لیے دعا کریں“ ....اماں جی کے بیٹے یہ سُن کر چیخ و پکار کرنے لگے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی منتیں کرنے لگے کہ وہ کسی طرح اُن کی ماں کی جان بچا لیں۔ وہ اِس ضمن میں ہرطرح کی ”خدمت“ کرنے کے لیے تیار ہیں، جتنا پیسہ لگے گا وہ خرچ کریں گے “ ....ڈاکٹر صاحبہ بولیں ” بات پیسے کی نہیں ہے، اصل میں اُن کی بیماریاں اتنی شدت اختیار کر گئی ہیں اُن کی جان بچانا ناممکن ہے“ ....اماں جی کے بیٹوں کا اصرار جب بڑھ گیا تو ڈاکٹر صاحبہ کو بڑا غصہ آیا وہ بولیں ” تم لوگوں نے سوسالہ بڑھیا کا اب کیا کرنا ہے؟؟؟۔....اِس پر وہ کہنے لگے ”ڈاکٹر صاحبہ کرنا تو کچھ نہیں ہے مگر یہ کیا کافی نہیں ہے یہ گھر میں بیٹھی بیٹھی ہمارے لیے دعائیں کرتی رہتی ہے۔ یہ چلی گئی ہمارے لیے دعائیں کون کرے گا ؟؟؟،....ہمارے ہاں جب کسی کی ماں دنیاسے چلی جاتی ہے عموماً اُسے یہ کہا جاتاہے ” اب ذرا دھیان سے زندگی گزارنا ، تمہارے لیے دعا کرنے والی ماں اب نہیں رہی“ ،....یہ بات شاید درست ہو مگر میرے نزدیک ماں اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے لیے اتنی ”اضافی دعائیں “ کرجاتی ہے جو اُس کے جانے کے بعد بھی اُس کی اولاد

کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں، ختم ہی نہیں ہوتیں، ....کم ازکم مجھے تو اپنے حوالے سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ میری ماں اپنی زندگی میں مجھے اتنی دعائیں دے گئی ہیں وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں اور اِس کے نتیجے میں میری زندگی اُن کی وفات کے بعد بھی اُتنی ہی آسودہ ہے جتنی اُن کی زندگی میں تھی ....جہاں تک محترمہ زکیہ عزیز صاحبہ کی زندگی کا تعلق ہے میری دعا ہے ایسی عظیم زندگی گزارنے کی توفیق ہرماں کو اللہ عطا فرمائے۔ اُن کی اولاد نے بشمول بھائی جان عامر عزیز نے اُن کی خِدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، وہ بہت عرصے سے بیمار اور وہیل چیئر پر تھیں۔ میں اُس روز گجرات میں تھا جب بھائی جان عامر عزیز نے فون پر اُن کی وفات کی مجھے خبر دی۔ وہ جس طرح بِلک بِلک کر رورہے تھے مجھے لگا کوئی دس بارہ سال کا بچہ اپنی تیس پینتیس سالہ ماں کی اچانک وفات پر رورہا ہے۔ بلکہ میں اُن کی روندی ہوئی آواز پہچان ہی نہ سکا، میں نے سوچا یہ شاید اُن کے صاحبزادوں ڈاکٹر عمر عزیز یا ڈاکٹر اسد عزیز میں سے کِسی کا فون ہے جو اپنی عظیم دادی کی وفات کی اطلاع دیتے ہوئے یوں بِلک بِلک کر روتے جارہے ہیں، .... وہ بڑی بہادر، گریس فُل اور پڑھی لکھی خاتون تھیں، غالب اور اقبالؒ کے کئی اشعار اُنہیں زبانی یاد تھے ، اِن اشعار کو کِسی بھی موضوع پر کی جانے والی اپنی گفتگو میں وہ باقاعدہ شامل کیا کرتی تھیں، اگلے روز ایک محترم قلم کار نے اُن کی اِس خوبی پر بھی خوب لکھا کہ وہ نہ صِرف خود ہمیشہ سچ بولتی تھیں بلکہ اپنی اولاد کی تربیت بھی اپنے اِسی وصف کے مطابق ہی اُنہوں نے کی ۔ ڈاکٹر عامر عزیز کو اسامہ بِن لادن کے علاج کے جُرم میں امریکی پِلوں کی پاکستان میں حکومت کے دوران خفیہ ایجنسیاں جب اُٹھا کر لے گئیں تو بے شمار خیرخواہوں نے بیگم زکیہ عزیز سے کہا وہ اِس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں کہ اُن کے بیٹے عامر عزیز نے اسامہ بِن لادن کا علاج کیا ہے ....اُنہوں نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا، وہ بڑا کٹھن وقت تھا جو بڑی ہمت اور حوصلے سے اُنہوں نے گزارا۔ ماں کی دعاﺅں میں کتنی طاقت کتنا اثر ہوتا ہے اُس کا ثبوت ہمیں تب بھی مِلا تھا جب پاکستان میں امریکہ کے پالتو پِلے عامر عزیز کو رہا کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اگلے روز مجھے بھائی جان عامر عزیز نے اپنے گھر کے لان میں اپنی عظیم ماں جی کے ہاتھوں سے لگے ہوئے درختوں سے اُترے ہوئے سنگترے بھجوائے اُنہیں کھاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا یہ پھل شاید اِس لیے اتنا میٹھا ہے یہ عظیم ماں کے ہاتھوں سے لگا ہوا ہے، سب سے بڑا پھل اِس وطن عزیز کو ڈاکٹرعامر عزیز کی صورت میں اُنہوں نے دیا جِس سے ہزاروں لوگ اب تک شفایاب ہوچکے ہیں!


ای پیپر