”کم ظرف“
10 جنوری 2019 2019-01-10

کچھ عرصہ نہیں کافی عرصہ پہلے میرے ایک قریبی دوست نے نجانے مجھے مشورہ دیا تھا یا شاید اعتراض کیا تھا کہ یار آپ اپنی تحریروں میں ہمیشہ اسلام اور دین کو دُنیاکے معاملات میں کیوں شامل کردیتے ہو؟ حتیٰ کہ آپ کے کالم کا عنوان بھی میرے نزدیک مناسب نہیں، اس میں بھی قدامت پسندی کا شائبہ ہوتا ہے، میں نے اُن کے اصرار پہ بتایا کہ ایسا کرنے سے میری اور میرے قارئین کی تسلی ہوتی ہے، اور ان کا ردعمل اور حوصلہ افزائی میری ڈھارس کا باعث بن جاتا ہے اگر ملک وملت کے ابتر اور دگرگوں حالات کا تجزیہ، بے لاگ، اور اسلامی غوروفکر وتردو، فکر فردا، اور فکر مستقبل محض فکرِ سخن کی غرض سے نہیں، فکر رسا اور اس ضرب المثل کہ فکرزاہد دیگر وسووائے عاشق دیگر است، زاہد کی فکر، فکرِ آخرت میں مگن ہوتا ہے، یعنی ہرکوئی اپنی اپنی دھن میں مگن رہتا ہے۔

آج کل کے جو حالات ، غورطلب ہیں، ان پہ قوم کے ہرفرد کو غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے، ریڈکارپٹ پہ استقبال کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ، کیوں دوبارہ کھولا گیا ؟ وزیراعظم کو حکمران دبئی کے آگے، یا اِس پہ کوئی منافع بخش منصوبہ بندی بنا دیں اور نہ ہی حکمران کسی کاڈرائیور بنتا ہے اور بند وزیراعظم ہاﺅس، وہ اس لیے کہ پاکستان کو اس حالتِ غیر میں پہنچانے کے ذمہ دار، صرف سیاست دان ہیں، اگر کلمہ حق سننا چاہتے ہیں، اور جس کی تلقین جا بجا قرآن پاک میں بھی کی گئی ہے، اور مجھے معلوم ہے، کہ ہم اور ہمارے عوام اتنے کم ظرف نہیں ہیں کہ وہ سچ بات سن نہ سکیں، ہمیں اس حال پہ پہنچانے کی ذمہ دار صرف اور صرف عدالت عظمیٰ ہے۔

کبھی نظریہ ضرورت کے نام پہ اور کبھی اپنے اختیارات کے نام پہ، مرنے سے پہلے بعض جج صاحبان تو اعتراف حقیقت بھی کرچکے ہیں۔اور بعض ایسے بھی ہیں ، جن کی بچیاں باقاعدہ تحریک انصاف ی جیالیاں بن کر جلسوں میں ہو ہائے کرتی رہی ہیں، آج کل اگر پمرا کی طرف سے اوریامقبول جان کی طرح، صحافی اپنے اوپر ایک مہینے کسی چینل پہ نہ آنے کی پابندی لگوا سکتا ہے، تو کیا ہوا، آج کا سوشل میڈیا اتنا تیز تر ہے کہ لمحوں میں لمحے لمحے کی خبر سے کراچی سے خیبر تک عوام اس خبر سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔

موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب، نے کسی بھی شخص کو فیصلوں پہ نکتہ چینیوں ، اور اعتراض کا حق دے کر کسی نارواپابندیوں کی بیخ کنی کی مثبت کوشش تو کی ہے، مگر ان کی پسندیدہ حکومت نے میڈیا میں اتنی مداخلت کرنی شروع کردی ہے، کہ ہزاروں صحافیوں کو رزق سے محروم کردیا ہے، خصوصاً جیسے کراچی میں اور پورے پاکستان میں، عوام کو گھر بدراور دکانیں مسمار کرکے لاکھوں کورزق وروزگار سے محروم کردیا ہے ۔ قارئین میں اپنے موضوع سے ہٹتا جارہا ہوں، میں بات کررہا ہوں کہ ملک کو اس حالت ، پہ پہنچانے والے صرف عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی فرمایا ہے ، ظلم کی حکومت قائم رہ سکتی ہے مگر ناانصافی کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔

موجودہ دور تو وہ ہے کہ جس نے دنیا کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے ، اور مغرب زدہ عوام کو یہ سن کر شاید تسلی ہوگی کہ برطانیہ کے چرچل جو وہاں کے معروف حکمران تھے کہا تھا کہ عالمی جنگ میں اگر ہمارا ملک تباہ ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں، اگر ہمارے ملک میں انصاف زندہ ہے، توہمیں دوبارہ تعمیر وطن میں دیر نہیں لگے گی۔

ہمارے ملک میں اب ٹی وی لگاتے ہی، جو دشنام طرازیاں ،بلکہ گالی گلوچ بعض مردنیم مدہوش ایک دوسرے کو دیتے ہیں، جن کو گھر میں اکٹھے بیٹھ کر دیکھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حل قرآن پاک میں سورة حم السجدہ کی آیت 34,33میں تفصیل سے فرما دیا ہے، اگر میں اس کو لکھنے بیٹھوں تو شاید عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پہ اعتراض درمیان میں ہی رہ جائے گا، مگر پہلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بات کرلیتے ہیں، اللہ فرماتا ہے کہ ”اور اے نبی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں، تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو، جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا ہوا ہے۔

یہ صفت نصیب نہیں ہوتی، مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا، مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں، اگر اس کی تفصیل دور پیغمبر سے شروع کرکے دور، تحریک، اور دورٹرمپ تک لے آئیں، تو بات ذرا لمبی ہو جائے گی، مگر کیا اُس وقت اور اِس وقت ہمیں مسلمان ہونے اور بتانے میں ہچکچاہٹ ہونی چاہیے درندے بن کر اسلام مخالف عناصر پل پڑتے، اور اگر آج آپ اپنے آپ کو باعمل مسلمان کہلائیں تو بھی آپ کو واسطہ، پتھر اور دھات کے زمانے کے لوگوں سے اس طرح سے پڑتا ہے، کہ رسول اللہ جس حسن اخلاق کے لیے دنیا میں بھیجے گئے تھے، آپ کو اس اخلاق کے پرخچے اُڑتے نظر آئیں گے۔ یقین نہ آئے، تو ازخود اختیارات کے تحت وزیر اطلاعات، وزیر خارجہ ،وزیر داخلہ بلکہ ڈپٹی وزیراعظم شیخ رشید سے کوئی سوال اور خصوصاً ن لیگ کے بارے میں کرکے دیکھیں آپ کو اگر یقین نہ آئے، تو کسی ”اخلاق احمد“ نامی شخص سے شیخ رشید کو روبرو کرکے دیکھیں، خود ہی پتہ چل جائے گا، اس کے بعد آپ فواد چودھری پہ بھی اگر غور کریں، تو چودھری صاحب، اور فیاض چوہان ، بھی دینی بیک گراﺅنڈ رکھنے کے باوجود وزیر بننے کے بعد پرانے کپڑے تنگ کرا بیٹھے ہیں، بلکہ انہیں قسم لے کر کہیں کہ ان کو پچھلی سردیوں اور گرمیوں والے کپڑے آتے ہیں ؟ تفسیر قرآن کے مطابق اس کی وضاحت خاصی طویل ہے۔ مختصریہ کہ اگر کوئی ناروا بات، یا فعل ناپسندیدہ، ہورہاہوتا ہے،تو ایک روزہ دار ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ میں روزے سے ہوں یہی بات اور یہی عمل ہم بطور مسلمان ہروقت کیوں نہیں کرسکتے؟ اللہ کا فرمان تو یہ ہے، کہ بدی کا مقابلہ نیکی سے نہیں، بلکہ اس نیکی سے کرو، جو بہت اعلیٰ درجے کی ہو، یعنی کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے، اور تم اس کو معاف کردو، تو یہ محض نیکی ہے، اعلیٰ درجے کی نیکی یہ ہے، کہ جو تم سے بُرا سلوک کرے، تم آنے پر اس کے ساتھ احسان کرو تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ بدترین دشمن بھی تمہارا جگری دوست بن جائے گا، اس لیے کہ یہ انسانی فطرت ہے، گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں، تو بے شک یہ اعلیٰ ظرفی اور ایک نیکی ہوگی مگر دوسرا کم ظرف انسان اس سے اپنی زبان بند نہیں کرے گا، لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعائے خیر کریں، تو بڑے سے بڑا بے حیا مخالف بھی شرمندہ ہوجائے گا، اور اگر اسے یعنی آپ کے دشمن کو نقصان پہنچ رہا ہو، اور آپ اسے بچالیں، تو وہ آپ کے قدموں میں آجائے گا۔

اس کی تفصیل ہمارے رسول پاک کے کردار ومزاج کے مطابق ان شاءاللہ،کہاں کہاں لیے پھرتی ہے ، جستجو رسول میں، لکھنے کی سعادت حاصل کروں گا۔


ای پیپر